- فتوی نمبر: 32-351
- تاریخ: 07 جون 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > متفرقات حظر و اباحت
استفتاء
1۔ہر بیری کے درخت پر نیک جنات کا بسیرا ہوتا ہے۔
2۔بیری کے پتوں کے ذریعے جادو سحر کا علاج حدیث مبارکہ سے ثابت ہے۔
3۔بیری کے پتوں سے میت کو نہلانا اس میں انوکھے راز ہیں۔
4۔اصل میں بیری کے درخت کو عرشی نسبت حاصل ہے۔ اللہ کے عرش پر بیری کا ایک درخت ہے جسے سدرۃ المنتہیٰ کہتے ہیں اس کے ارد گرد فرشتوں کا ہجوم رہتا ہے زمین سے جو بھی اعمال جاتے ہیں وہ سدرۃ المنتہیٰ پر جا کر ٹھہرتے ہیں اور پھر عرش معلیٰ پر جاتے ہیں۔
بیری کے درخت کے بارے میں جو بیان کیا گیا ہے کیا یہ درست ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔بیری کے درخت پر جنات کا بسیرا ہونے کی صراحت ہمیں کسی معتبر کتاب میں نہیں ملی، البتہ ایک حدیث کی رُو سے مسلم جنات کا بسیرا پہاڑوں اور بستیوں میں ہوتا ہے اور کافر جنات کا بسیرا پہاڑوں اور سمندر کے درمیان کے علاقہ میں ہوتا ہے۔ نیز حدیث کی رُو سے بیت الخلاء میں بھی شیاطین جنات کا بسیرا ہوتا ہے۔
2۔بیری کے پتوں کے ذریعہ سحر (جادو) کا علاج حدیث سے تو ثابت نہیں ہے البتہ وہب بن منبہ سے منقول ہے ۔
3۔بیری کے پتوں سے میت کو نہلانے میں کوئی انوکھے راز نہیں ہیں اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ بیری کے پتوں سے نہلانے سے جسم اچھی طرح صاف ہوجاتا ہے لہٰذا یہی صفائی اگر صابن وغیرہ سے حاصل ہوجائے تو بیری کے پتوں سے نہلانے کی ضرورت ہی نہیں۔
4۔یہ بات بھی غلط ہے کہ عرش پر بیری کا درخت ہے بلکہ بیری کا درخت ساتویں آسمان پر ہے اور ایک روایت کے مطاق چھٹے آسمان پر ہے۔ تاہم ساتویں آسمان پر بیری کا درخت ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ زمین پر موجود ہر بیری کے درخت کو بھی کوئی خاص احترام حاصل ہو بلکہ احترام صرف بیری کے اسی درخت کو ہے جو ساتویں آسمان پر ہے۔
المعجم الکبیر (1/371) میں ہے:
عن بلال بن الحارث، قال: خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في بعض أسفاره، فخرج لحاجته وكان إذا خرج لحاجته يبعد، فأتيته بإداوة من ماء، فانطلق، فسمعت عنده خصومة رجال، ولغطا لم أسمع مثلها، فجاء، فقال: «بلال» فقلت: بلال، قال: «أمعك ماء؟» قلت: نعم، قال: «أصبت» فأخذه مني فتوضأ، قلت: يا رسول الله، سمعت عندك خصومة رجال ولغطا ما سمعت أحد من ألسنتهم، قال: «اختصم عندي الجن المسلمون والجن المشركون، سألوني أن أسكنهم فأسكنت المسلمين الجلس، وأسكنت المشركين الغور» قال عبد الله بن كثير: قلت لكثير: ما الجلس، وما الغور؟ قال: «الجلس القرى والجبال، والغور ما بين الجبال والبحار
شرح صحیح البخاری لابن بطال (9/446) میں ہے:
وفى كتب وهب بن منبه أن يأخذ سبع ورقات من سدر أخضر فيدقه بين حجرين ثم يضربه بالماء ويقرأ فيه آية الكرسى وذوات قل، ثم يحسو منه ثلاث حسوات ويغتسل به؛ فإنه يذهب عنه كل ما به إن شاء الله، وهو جيد للرجل إذا حبس عن أهله. وقولها للنبى: (هلا تنشرت) يدل على جواز النشرة كما قال الشعبى، وأنها كانت معروفة عندهم لمداوة السحر وشبهه، ويدل قوله عليه السلام: (أما الله فقد شفانى) وتركه الإنكار على عائشة على جواز استعماله لها لو لم يشفه فلا معنى لقول من أنكر النشرة. وراعوفه البئر وأرعوفتها: حجر يأتى فى أسفلها، ويقال: بل هو على رأس البئر يقوم عليه
عمدۃ القاری (8/36) میں ہے:
فالحكم فيه عندنا أن الماء يغلي بالسدر والأشنان مبالغة في التنظيف
العنایہ (2/112) میں ہے:
لكن الميت أيضا محتاج إلى التنظيف ولهذا قال ويغلى الماء بالسدر أو بالحرض مبالغة في التنظيف ويغسل رأسه ولحيته بالخطمي ليكون أنظف فليعمل به من حيث التنظيف
تفسیر القرطبی (17/94) میں ہے:
والسدر شجر النبق وهي في السماء السادسة، وجاء في السماء السابعة. والحديث بهذا في صحيح مسلم، الأول ما رواه مرة عن عبد الله قال: لما أسري برسول الله صلى الله عليه وسلم انتهي به إلى سدرة المنتهى، وهي في السماء السادسة، إليها ينتهي ما يعرج به من الأرض فيقبض منها، وإليها ينتهي ما يهبط به من فوقها فيقبض منها
معارف القرآن (7/191) میں ہے:
سدرہ کہتے ہیں بیری کے درخت کو اور منتہیٰ کے معنیٰ ہیں انتہاء کی جگہ حدیث میں آیا ہے کہ یہ ایک درخت ہے بیری کا ساتویں آسمان میں عالم بالا سے جو احکام وارزاق وغیرہ آتے ہیں وہ اول سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچتے ہیں پھر وہاں سے ملائکہ زمین پر لاتے ہیں اسی طرح یہاں سے جو اعمال صعود کرتے ہیں وہ بھی سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچتے ہیں پھر وہاں سے اوپر اٹھا لیے جاتے ہیں ، دنیا میں اس کی مثل ڈاکخانہ کی سی ہے کہ آمدو بر آمد ِ خطوط وہاں سے ہوتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved