• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

“جنت ميں اللہ رب العزت سورۃ الرحمٰن کی تلاوت خود فرمائیں گے”

استفتاء

“جنت ميں اللہ  رب العزت سورۃ الرحمٰن کی تلاوت خود فرمائیں گے” حدیث کا حکم کیا ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

اس حدیث کو امام عبدالرحیم بن احمد القاضی نے اپنی کتاب “دقائق الاخبار فی  ذکر الجنۃ والنار” میں بغیر سند کے ذکر کیا ہے اور ہمیں ابھی تک اس کی سند کہیں ملی بھی نہیں لہٰذا جب تک سند نہ ملے اس پر کوئی حکم لگانا مشکل ہے۔

دقائق الاخبار فی  ذکر الجنۃ والنار (ص:37) میں ہے:

ثم يقول الله تعالى هل سمعتم قراءة انبيائى ورسلى فيقولون لهم أتريدون أن تسمعوا قراءة ربكم فيقولون بأجمعهم ما أشوقنا الى ذلك قال ابن عباس رضى الله عنه  فعند ذلك يتلو الرب جل جلاله سورة الرحمن وفى رواية سورة الانعام

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved