• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

طلاقنامے پر دستخط پر کرنے سے طلاق کا حکم

استفتاء

السلام علیکم !میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں تقریبا ڈیڑھ سال سے اپنے والدین کے گھر ہوں میرے دو بچے ہیں ۔اس ڈیڑھ سال  کے دوران  میرا اپنے شوہر سے  کسی قسم کا رابطہ نہیں ہوا۔اس نے 24 اگست 2024 کو مجھے پہلی طلاق بھجوائی۔دوسری طلاق ایک ماہ کے بعد 24 ستمبر 2024 کو بجھوائی اور تیسری طلاق مورخہ 24 اکتوبر  2024 کو بھجوائی۔

1۔ طلاق نامہ ساتھ لف ہے پڑھ کر رہنمائی کریں کہ کتنی طلاقیں ہو گئی ہیں ؟

2۔  میری عدت كتنی ہے ؟

3۔میں نوکری کرتی ہوں تو کیا عدت کے دوران میں آفس جا سکتی ہوں؟

4۔میرا شوہر بچوں کا خرچہ دینے  کا پابند ہے یا نہیں؟ کیونکہ اس نے تینوں طلاقناموں میں یہ بات بار بار لکھوائی ہے کہ وہ بچوں کا خرچہ نہیں دے گا نہ میں اس سلسلے میں عدالت کوئی درخواست دائر کروں گی۔ڈیڑھ سال سے اس نے کوئی خرچہ نہیں دیا،میرے والد میرے بچوں کی کفالت کر رہے ہیں۔

پہلے طلاقنامے کی عبارت:

منکہ : زید ولد خالد ساکن مکان نمبر **** رہائشی ہوں جو کہ بقائمی ہوش و حواس خمسہ و ثبات عقل بلا کراہ و اجبار غیرے برضا مندی خود اقرار کرتا ہوں کہ من مقر کی شادی مورخہ 2011-03-05 ہمراہ زینب دختر بکر ساکن : مکان نمبر*** بروئے رواج بشریعت محمدی ہوئی۔…….یہ کہ اب من مقراپنے پورے ہوش و حواس خمسہ و ثبات عقل خود مسماۃ زینب دختر بکر کو طلاق (اول) دیتا ہوں ۔ یہ کہ بعد از عدت مسماة مذکور یہ جہاں چاہے عقد ثانی کرلے اس پر من مقر کو کوئی عذر و اعتراض نہ ہوگا۔ تحریر ہذار و برو گواہان لکھ دی ہے تا کہ سندر ہے اور بوقت ضرورت کام آوئے ۔ المرقوم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔،العبد : زید ولد خالد

دوسرے طلاقنامے کی عبارت:

منکہ : زید ولد خالد ساکن مکان نمبر****رہائشی ہوں جو کہ بقائمی ہوش و حواس خمسہ و ثبات عقل بلا کراہ و اجبار غیرے برضا مندی خود اقرار کرتا ہوں کہ من مقر کی شادی مورخہ 2011-03-05 ہمراہ زینب دختر بکر ساکن : مکان نمبر**** بروئے رواج بشریعت محمدی ہوئی۔…….یہ کہ اب من مقراپنے پورے ہوش و حواس خمسہ و ثبات عقل خود مسماۃ زینب دختر بکر کو طلاق (دوئم) دیتا ہوں جبکہ طلاق (اول) پہلے ارسال کر چکا ہوں۔ یہ کہ بعد از عدت مسماة مذکور یہ جہاں چاہے عقد ثانی کرلے اس پر من مقر کو کوئی عذر و اعتراض نہ ہوگا۔ تحریر ہذار و برو گواہان لکھ دی ہے تا کہ سندر ہے اور بوقت ضرورت کام آوئے ۔ المرقوم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔،العبد : زید ولد خالد

تیسرے طلاقنامے کی عبارت:

منکہ : زید ولد خالد ساکن مکان نمبر**** رہائشی ہوں جو کہ بقائمی ہوش و حواس خمسہ و ثبات عقل بلا کراہ و اجبار غیرے برضا مندی خود اقرار کرتا ہوں کہ من مقر کی شادی مورخہ 2011-03-05 ہمراہ زینب دختر بکر ساکن : مکان نمبر**** بروئے رواج بشریعت محمدی ہوئی۔…….یہ کہ اب من مقراپنے پورے ہوش و حواس خمسہ و ثبات عقل خود مسماۃ زینب دختر بکر کو طلاق (سوئم) دیتا ہوں جبکہ طلاق (اول اور دوئم) پہلے ارسال کر چکا ہوں۔ یہ کہ بعد از عدت مسماة مذکور یہ جہاں چاہے عقد ثانی کرلے اس پر من مقر کو کوئی عذر و اعتراض نہ ہوگا۔ تحریر ہذار و برو گواہان لکھ دی ہے تا کہ سندر ہے اور بوقت ضرورت کام آوئے ۔ المرقوم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔،العبد : زید ولد خالد

وضاحت مطلوب ہے : (1)شوہر کا رابطہ نمبر مہیا کیا جائے ۔(2)شوہر کے پہلے نوٹس بھجوانے کے بعد آپ کی تین ماہواریاں کس تاریخ کو پوری ہوئیں تھیں اور تیسرے نوٹس بھجوانے  کے وقت کتنی ماہواریاں ہو چکی تھیں ؟

جوابِ وضاحت: (1) شوہر کا پہلا نمبر بند ہے اور سائلہ نے نمبر بھی ڈیلیٹ کر دیا ہے اور اب شوہر کا کچھ بھی علم نہیں ہےاور نہ رابطہ نمبر معلوم ہے۔(2) 14،15 نومبر کو تین ماہواریاں پوری ہوئیں اور اور تیسرے طلاق کے نوٹس کے وقت دوسری  ماہواری گزر چکی تھی ۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔مذكوره صورت میں تین طلاقیں واقع ہو گئی ہیں جن کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہو گئی ہے لہذا اب نہ رجوع ہو سکتا ہے اور نہ صلح کی گنجائش ہے۔

2۔آپ کی عدت تین حیض تھی جوکہ  اب پوری ہو چکی ہے ۔

3۔ چونکہ  اب عدت پوری ہو چکی ہے لہذا ا ب آپ آفس جا سکتی ہیں، تاہم اگر آپ نے عدت کے دوران عدت کے احکام کی پابندی نہیں کی تو اس پر توبہ واستغفار کر لیں۔

توجیہ:طلاق نامے کی تحریر کتابت مستبینہ مرسومہ ہے جس کا حکم یہ ہے کہ شوہر کے دستخط کرنے سے طلاق واقع ہو جاتی ہےلہذا مذکورہ صورت میں جب  شوہر نے پہلے نوٹس پر دستخط کیے تو نوٹس کے ان الفاظ سے کہ “اب من مقر اپنے پورے ہوش وحواس خمسہ وثبات عقل خود مسماۃ زینب دختر بکر کو طلاق (اول) دیتا ہوں” پہلی رجعی طلاق واقع ہو گئی پھر جب شوہر نے ایک مہینے بعد عدت کے اندر اندر دوسرے نوٹس پر دستخط کیے تو نوٹس کے ان الفاظ سے کہ “اب من مقر اپنے پورے ہوش وحواس خمسہ وثبات عقل خود مسماۃ زینب دختر بکر کو طلاق (دوئم) دیتا ہوں”  دوسری رجعی طلاق واقع ہوگئی  پھر جب شوہر نے ایک مہینے بعد عدت کے اندر اندر تیسرے نوٹس پر دستخط کیے تو نوٹس کے ان الفاظ سے کہ “اب من مقر اپنے پورے ہوش وحواس خمسہ وثبات عقل خود مسماۃ زینب دختر بکر کو طلاق (سوئم) دیتا ہوں”  تیسری طلاق واقع ہوگئی جس کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہو گئی ۔

4۔ بچوں میں سے بیٹے کا نفقہ بالغ ہونے تک اور بیٹی کا نفقہ شادی ہونے تک بچوں کے والد کے ذمے ہے۔

فتاوی شامی(4/442)میں ہے:

الکتابة على نوعين:مرسومة، وغير مرسومة۔ ونعنى بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب،وغير المرسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا ………………… وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو.

درمختار (4/528) میں ہے:

(الصريح يلحق الصريح و) يلحق (البائن) بشرط العدة. 

بدائع الصنائع (4/479) میں ہے:

وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر لقوله عز وجل {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره}

در مختار (5/183) میں ہے:

(وهي في) حق (حرة) ولو كتابية تحت مسلم (تحيض لطلاق) ولو رجعيا …… (بعد الدخول حقيقة أو حكما) …… (ثلاث حيض كوامل)

در مختار مع ردالمحتار(5/345)میں ہے:

’’(وتجب) النفقة بأنواعها على الحر (لطفله)… (وكذا) تجب (لولده الكبير العاجز عن الكسب) كأنثى مطلقا

قال ابن عابدین: (قوله لطفله) هو الولد حين يسقط من بطن أمه إلى أن يحتلم

(قوله كأنثى مطلقا) أي ولو لم يكن بها زمانة تمنعها عن الكسب فمجرد الأنوثة عجز إلا إذا كان لها زوج فنفقتها عليه ما دامت زوجة‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved