- فتوی نمبر: 32-370
- تاریخ: 07 جون 2026
- عنوانات: عقائد و نظریات > اسلامی عقائد
استفتاء
مجھے کوئی آیت یا حدیث مل سکتی ہے جس سے ثابت ہو کہ انسان جسم کے ساتھ زندہ آسمان پر جا سکتا ہے ۔
وضاحت مطلوب ہے:اپنا سوال واضح کریں آپ پوچھنا کیا چاہتے ہیں؟وضاحت سے بتائیں ؟
جواب وضاحت:کیا آپ کے پاس کوئی آیت یا حدیث ہے جس سے یہ ثابت ہو کہ حضرت عیسی ؑ جسم کے ساتھ آسمان پر گئے تھے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مندرجہ ذیل آیات واحادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ وعلی نبینا الصلوٰۃ والسلام کو جسم کے ساتھ زندہ آسمان پر اٹھا لیا گیا تھا۔
إذ قال الله يا عيسى إني متوفيك ورافعك إلي ومطهرك من الذين كفروا وجاعل الذين اتبعوك فوق الذين كفروا إلى يوم القيامة ثم إلي مرجعكم فأحكم بينكم فيما كنتم فيه تختلفون [سورة آل عمران،آيت:55]
ترجمہ:جس وقت اللہ نے کہا اے عیسی میں لے لوں گا تجھ کو اور اپنی طرف اٹھا لوں گا اور تجھ کو کافروں سے پاک کروں گا اور جو تیرے تابع ہیں ان کو ان لوگوں سے غالب رکھوں گا جو انکار کرتے ہیں قیامت کے دن تک ،پھر میری طرف تم سب کو پھر کر آنا ہے پھر فیصلہ کردوں گا تم میں جس بات میں تم جھگڑتے تھے۔
اس آیت کی تشریح میں مفتی محمد شفیع عثمانی ؒ اپنی تفسیر معارف القرآن (2/76) میں لکھتے ہیں:
“ورافعك إلى” ، اس کا مفہوم ظاہر ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو خطاب کر کے کہا گیا ہے کہ آپ کو اپنی طرف اٹھا لوں گا ، اور سب جانتے ہیں کہ عیسی نام صرف روح کا نہیں بلکہ روح مع جسم کا ہے ، تو رفع عیسی کا یہ مفہوم لینا کہ صرف رفع روحانی ہوا جسمانی نہیں اٹھایا گیا بالکل غلط ہے ، رہا یہ کہ لفظ رفع کبھی بلندی مرتبہ کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے جیسا کہ قرآن کریم میں” رفع بعضَكُم فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ” (۱۶۶:۶) ، اور” يَرْفَعِ الله الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ (۱۱:۵۸)وغیرہ آیات میں مذکور ہے ۔
تو یہ ظاہر ہے کہ لفظ رفع کو رفع درجہ کے معنی میں استعمال کرنا ایک مجاز ہے جو قرائن کی بناء پر مذکورہ آیات میں ہوا ہے، یہاں حقیقی معنی چھوڑ کر مجازی لینے کی کوئی وجہ نہیں، اس کے علاوہ اس جگہ لفظ رفع کے ساتھ لفظ “الى”استعمال فرما کر اس مجازی معنی کا احتمال بالکل ختم کر دیا گیاہے ، اس آیت میں “رافعک الی” فرمایا، اور سورہ نساء کی آیت میں بھی جہاں یہودیوں کے عقیدہ کا رد کیا گیا وہاں بھی یہی فرمایا وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينَا.بَلْ رَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ (۳: ۱۵۸) یعنی یہودیوں نے یقینا حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کو قتل نہیں کیا ، بلکہ ان کو تو اللہ نے اپنی طرف اٹھا لیا ، اپنی طرف اٹھا لینا روح مع جسد کے زندہ اٹھا لینے ہی کے لئے بولا جاتا ہے۔
نیز مولانا ادریس کاندھلوی اپنی تفسیر معارف القرآن (1/632) میں لکھتے ہیں:
حق جل شانہ نے اس آیت میں عیسی علیہ السلام سے پانچ وعدوں کا ذکر فرمایا ہے ۔
ایک وعدہ توفی کا جس کی تفصیل گزرگئی ۔
دوسرا وعده رفع الى السماء كما قال تعالى “ورافعك إليّ” ۔ یعنی اسے عیسی میں تم کو اپنی طرف اٹھاؤں گا جہاں میرے فرشتے رہتے ہیں وہاں تم کو رکھوں گا اس آیت میں رفع سے جسمانی رفع مراد ہے اس لیے کہ (1) “ورافعك إليّ “میں خطاب عیسی علیہ السلام کو ہے جو مجموعہ ہے جسم اور روح کا۔(2)اور یہاں رفع درجات اس لیے مراد نہیں ہو سکتا کہ وہ عیسی علیہ السلام کو پہلے ہی سے حاصل تھا اور رفع جسمانی میں تو اور بھی رفع درجات حاصل ہو جاتا ہے رفع جسمانی، رفع درجات کے منافی نہیں اور فقط رفع روحانی اس لیے مراد نہیں ہو سکتا کہ رفع روحانی ہر مرد صالح کو بوقت موت حاصل ہوتا ہے، اس کوخاص طور پر بطورہ وعدہ ذکر کرنا بے معنی ہے۔
نیز با تفاق محدثین و مفسرین و مورخین یہ آیتیں نصارائے نجران کے حق میں اُن سے مناظرہ اور ان کے عقائد کی اصلاح کے بارہ میں نازل ہوئیں اور ان کا عقیدہ یہ تھا کہ عیسٰی علیہ السلام. خدا تعالیٰ کے بیٹے ہیں اور دشمنوں کے ہاتھ سے مقتول اور مصلوب ہوئے اور پھر دوبارہ زندہ ہو کر آسمان پر اٹھائے گئے حق تعالیٰ نے قرآن کریم میں عقیدہ ابنیت اور عقیدہ قتل و صلب کی صریح لفظوں میں تردید اور نفی فرمائی کہ وہ خدا کے بیٹے نہ تھے بلکہ خدا کے بندہ اور رسول تھے اور یہود کا یہ زعم کہ انا قتلنا المسيح عيسى بْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللهِ کہ ہم نے عیسی بن مریم کو قتل کر دیا۔ یہ بالکل غلط ہے ۔ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ اور نصاری کے تیسرے عقیدہ یعنی رفع الی السمار کی تصویب اور تصدیق فرمائی اور وما قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ ( یعنی دشمنوں نے نہ عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کیا اور نہ سولی دی) میں قتل اور صلب کی نفی کرنے کے بعد متصلاً یہ فرمایا بَلْ رَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ بلکہ اللہ تعالی نے اُن کو زندہ آسمان پر اٹھایا اگر عقیدہ قتل و صلب کی طرح عقیدہ رفع الی السماء بھی غلط تھا تو جس طرح وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ کہہ کر عقیدہ قتل و صلب کی صراحۃ تردید فرمائی اسی طرح بجائے بَلْ رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ کے مَا رَفَعَهُ اللَّهُ فرما کر عقیدہ رفع الی السماء کی تردید فرماتے کہ اللہ تعالی نے ان کو نہیں اٹھایا۔
نیز حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی ؒ اپنی تفسیر عثمانی (ص:74) میں لکھتے ہیں:
لفظ ” توفی” سے متعلق کلیات ابوالبقاء میں ہے التوفی الاماتة وقبض الروح وعليه استعمال العامة او الاستيفاء واخذ الحق و عليه استعمال البلغاء (“توفی” کا لفظ عوام کے یہاں موت دینے اور جان لینے کے لئے استعمال ہوتا ہے لیکن بلغاء کے نزدیک اس کے معنی ہیں پورا وصول کرنا اور ٹھیک لینا ) گویا ان کے نزدیک موت پر بھی ” توفی ” کا اطلاق اسی حیثیت سے ہوا کہ موت میں کوئی عضو خاص نہیں بلکہ خدا کی طرف سے پوری جان وصول کرلی جاتی ہے۔ اب اگر فرض کرو خدا تعالٰی نے کسی کی جان بدن سمیت لے لی تو اسے بطریق اولی ” توفی ” کہا جائے گا۔ جن اہل لغت نے توفی کے معنی قبض روح کے لکھے ہیں ، انہوں نے یہ نہیں کہا کہ قبض روح مع البدن کو توفی نہیں کہتے نہ کوئی ایسا ضابطہ بتایا ہے کہ جب ” توفی ” کا فاعل اللہ اور مفعول ذی روح ہو تو بجز موت کے کوئی معنی نہ ہو سکیں ۔ ہاں چونکہ عموما قبض روح کا وقوع بدن سے پیدا کر کے ہوتا ہے، اس لئے کثرت و عادت کے لحاظ سے اکثر موت کا لفظ اسکے ساتھ لکھ دیتے ہیں اور نہ لفظ کا لغوی مدلول قبض روح مع البدن کو شامل ہے دیکھئے ۔ الله يتوفى الأنفس حين موتها والتي لم تمت في منامها ( زمر – رکوع (۵) میں “تو فی نفس” (قبض روح ) کی دو صورتیں بتلائیں۔ موت اور نیند، اس تقسیم سے نیز توفی کو انفس پر وارد کر کے اور” حین موتها “کی قید لگا کر بتلا دیا کہ توفی ” اور ” “موت” دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ اصل یہ ہے کہ قبض روح کے متعلق مختلف مدارج ہیں۔ ایک درجہ وہ ہے جو موت کی صورت میں پایا جائے ۔ دوسرا وہ جو نیند کی صورت میں ہو۔ قرآن کریم نے بتلا دیا کہ وہ دونوں پر ” توفی ” کا لفظ اطلاق کرتا ہے۔ کچھ موت کی تخصیص نہیں ۔ یتو فكم بالليْلِ وَيَعْلَمُ ماجرحتم بالنهار ( انعام ) اب جس طرح اس نے دو آیتوں میں نوم پر” توفی ” کا اطلاق جائز رکھا حالانکہ نوم میں قبض روح بھی پورا نہیں ہوتا ۔ اسی طرح اگر ” آل عمران اور مائدہ کی دو آیتوں میں “توفی” کا لفظ قبض روح مع البدن پر اطلاق کر دیا گیا تو کونسا استحالہ لازم آتا ہے۔ بالخصوص جب یہ دیکھا جائے کہ موت اور نوم میں لفظ ” توفی ” کا استعمال قرآن کریم ہی نے شروع کیا ہے۔ جاہلیت والے تو عموماً اس حقیقت سے ہی نا آشنا تھے کہ موت یا نوم میں خدا تعالی کوئی چیز آدمی سے وصول کر لیتا ہے اس لئے لفظ ” توفی ” کا استعمال موت اور نوم پر ان کے یہاں شائع نہ تھا۔ قرآن کریم نے موت وغیرہ کی حقیقت پر روشنی ڈالنے کے لئے اول اس لفظ کا استعمال شروع کیا۔ تو اسی کو حق ہے کہ موت ونوم کی طرح اخذ روح مع البدن کے نادر مواقع میں بھی اسے استعمال کرلے۔ بہر حال آیت حاضرہ میں جمہور کے نزدیک توفی سے موت مراد نہیں ۔ اور ابن عباس سے بھی صحیح ترین روایت یہ ہی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام زندہ آسمان پر اٹھائے گئے۔ کما فی روح المعانی وغیرہ زندہ اُٹھائے جانے یا دوبارہ نازل ہونے کا انکار سلف میں کسی سے منقول نہیں بلکہ تلخیص الحبیر میں حافظ ابن حجر نے اس پر اجماع نقل کیا ہے اور ابن کثیر و غیرہ نے احادیث نزول کو متواتر کہا ہے اور “اکمال المعلم “میں امام مالک سے اس کی تصریح نقل کی ہے۔ پھر جو معجزات حضرت مسیح علیہ السلام نے دکھلائے ان میں علاوہ دوسری حکمتوں کے ایک خاص مناسبت آپکے رفع الی السماء کے ساتھ پائی جاتی ہے۔
الدر المنثور فی التفسیر بالماثور لجلال الدین سیوطی(2/728) میں ہے:
وأخرج عبد بن حميد وابن جرير وابن المنذر عن مجاهد في قوله ]شبه لهم[ قال:صلبوا رجلا غير عيسى شبه بعيسى يحسبونه اياه ورفع الله اليه عيسى حيا۔
ترجمہ:اللہ تعالی کے قول “شبه لهم” کے بارے میں مجاہد ؒ سے مروی ہے کہ انہوں (یہودیوں) نے عیسی ؑ کے علاوہ کسی اور کو سولی پر چڑھا دیا جس کو وہ عیسی ؑسمجھ رہے تھے حالانکہ اللہ نے عیسی ؑ کو زندہ اپنی طرف اٹھا لیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved