- فتوی نمبر: 32-378
- تاریخ: 08 جون 2026
- عنوانات: عبادات > نماز > جمعہ کی نماز کا بیان
استفتاء
**** وومین کالج (***Women College) *** لاہور۔ میں نے پہلے مفتی ***صاحب کے نمبر پر فون کیا تھا وہاں ***بھائی سے بات ہوئی انہوں نے مفتی *** صاحب کا نمبر دیا بعد میں، میں نے مفتی صاحب کو کال کی ان کو میں نے بتایا کہ ہمارا لڑکیوں کا کالج ہے ہم اس میں ایک چھوٹی سے مسجد تعمیر کروارہے ہیں جس میں ظہر کی نماز باجماعت ہوتی ہے اور میرے ساتھیوں کا مشورہ ہے کہ ہم اس میں نماز جمعہ ادا کریں۔ میرے سٹاف کے تقریباً 15 لوگ ہیں اور اس کالج میں پانچ کواٹر ہیں کیا اس کالج کی مسجد میں ہم جمعہ پڑھا سکتے ہیں؟ مفتی صاحب نے سوال کیا کہ کیا کالج میں باہر سے لوگ آسکتے ہیں؟ میں نے جواب دیا کہ باہر سے لوگ نہیں آسکتے کیونکہ یہ لڑکیوں کا کالج ہے پھر مفتی صاحب نے جواب دیا کہ آپ جمعہ پڑھا سکتے ہیں، پھر میں نے مفتی صاحب سے سوال کیا کہ اگر ہم ایک جمعہ پڑھاتے ہیں اور دوسرا جمعہ نہیں پڑھاتے تو کیا یہ صحیح ہے؟ یا مسلسل جمعہ پڑھانا ضروری ہے کیونکہ سٹاف کی تعداد کم ہے تو مفتی صاحب نے کہا کہ بہتر ہے جامعہ مسجد میں جمعہ پڑھیں لیکن اگر سٹاف کا اصرار ہےتو پڑھاسکتے ہیں لیکن 3نمازی لازمی ہوں اور جمعہ کا خطبہ ضروری ہے کیونکہ یہ کالج لاہور شہر میں واقع ہے اس لیے کوئی حرج نہیں۔ میں نے مفتی صاحب کے اس مسئلے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے جمعہ پڑھانا شروع کیا اب باہر سے قاری صاحب آئے اور اس نے سٹاف کے ممبران سے کہا کہ یہاں پانچ وقت کی نماز نہیں ہوتی اس لیے جمعہ نہیں ہوسکتا اس لیے آج وہاں جمعہ نہیں پڑھایا کیا جمعہ کے لیے کالج میں پانچ وقت کی نماز ادا کرنا ضروری ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
جس مسجد میں جمعہ ادا کرنا ہو اس میں پانچ وقت کی نماز کا ہونا ضروری نہیں البتہ کسی بھی جگہ جمعہ کے صحیح ہونے کے لیے منجملہ دیگر شرائط کے ایک شرط اذن عام کا ہونا ہے اور اذن عام کے بارے میں یہ تفصیل ہے کہ :
1۔ اگر کسی کاکوئی انفرادی گھر، محل یا دوکان ہو تو اس میں جمعہ پڑھنا اس وقت تک جائز نہ ہوگا جب تک اس گھر محل یا دکان میں عام لوگوں کو آنے کی اجازت نہ دیدی گئی ہو، خواہ شہر میں دوسری جگہ بھی جمعہ ہوتا ہو۔
2۔ اگر کوئی آبادی ایسی ہے جس میں معتد بہ لوگ رہتے ہیں اور وہ شہر کے اندر بھی ہے لیکن دفاعی، انتظامی یا حفاظتی وجوہ سے اس آبادی میں ہر شخص کو آنے کی اجازت نہیں بلکہ وہاں کا داخلہ ان وجوہ کی بناء پر کچھ خاص قواعد کا پابند ہے تو اس آبادی کے کسی حصے میں ایسی جگہ جمعہ پڑھنا جائز ہے جہاں اس آبادی کے افراد کو آکر جمعہ پڑھنے کی اجازت ہو مثلاً بڑی جیل، فوجی چھاؤنی، بڑی فیکٹریاں ایسے بڑے ائیرپورٹ جو شہر کے اندر ہوں اور ان میں سینکڑوں لوگ ہر وقت موجود ہوں لیکن ان میں داخلہ کی اجازت مخصوص قواعد کی پابند ہو تو ان تمام جگہوں پر جمعہ جائز ہوگا، بشرطیکہ وہ شہر میں واقع ہو اور بڑی فیکٹری ائیرپورٹ یا ریلوے اسٹیشن کے تمام افراد کو نماز کی جگہ آکر نماز جمعہ پڑھنے کی کھلی اجازت ہو۔ اذن عام کی یہ تفصیل مولانا مفتی تقی عثمانی مدظلہ نے اپنے فقہی مقالات جلد چہارم ص 38 پر ذکر فرمائی ہے۔
اس تفصیل کی روشنی میں سوال میں ذکر کردہ کالج کی نوعیت انفرادی گھر، محل یا دکان کی سی ہے۔ کیونکہ اس کالج میں سینکڑوں لوگ ہر وقت موجود رہتے ہوں ایسا نہیں ہے۔ لہذا اگر اس کالج میں محلے کے دیگر لوگوں کو جمعہ کے لیے آنے کی اجازت نہیں تو اس میں جمعہ قائم کرنا درست ہی نہیں۔
بدائع الصنائع (1/279) میں ہے:
وذكر في النوادر شرطا آخر لم يذكره في ظاهر الرواية وهو أداء الجمعة بطريق الاشتهار حتى إن أميرا لو جمع جيشه في الحصن وأغلق الأبواب وصلى بهم الجمعة لا تجزئهم كذا ذكر في النوادر
شامی (3/29،30) میں ہے:
(و) السابع: (الاذن العام) من الامام، وهو يحصل بفتح أبواب الجامع للواردين، كافي ………… (فلو دخل أمير حصنا) أو قصره (وأغلق بابه) وصلى بأصحابه (لم تنعقد) ولو فتحه وأذن للناس بالدخول جاز وكره، فالامام في دينه ودنياه إلى العامة محتاج، فسبحان من تنزه عن الاحتياج.
وفى الشامية: (قوله وأذن للناس إلخ) مفاده اشتراط علمهم بذلك، وفي منح الغفار وكذا أي لا يصح لو جمع في قصره لحشمه ولم يغلق الباب ولم يمنع أحدا إلا أنه لم يعلم الناس بذلك. اهـ. (قوله وكره) لأنه لم يقض حق المسجد الجامع زيلعي.
شامی (3/29)میں ہے:
(قوله الإذن العام) أي أن يأذن للناس إذنا عاما بأن لا يمنع أحدا ممن تصح منه الجمعة عن دخول الموضع الذي تصلى فيه وهذا مراد من فسر الإذن العام بالاشتهار، وكذا في البرجندي إسماعيل وإنما كان هذا شرطا لأن الله – تعالى – شرع النداء لصلاة الجمعة بقوله {فاسعوا إلى ذكر الله} [الجمعة: 9] والنداء للاشتهار وكذا تسمى جمعة لاجتماع الجماعات فيها فاقتضى أن تكون الجماعات كلها مأذونين بالحضور تحقيقا لمعنى الاسم بدائع.
غنیۃ المتملی (صفحہ نمبر:439) میں ہے:
والمسجد الجامع ليس بشرط ولهذا أجمعوا على جوازها بالمصلي في فناء المصر وهو ما اتصل بالمصر معدا لمصالحة من ركض الخيل وجمع العساكر والمناضلة ودفن الموتى وصلاة الجنازة ونحو ذلك ، لأن له حكم المصر باعتبار حاجة أهله إليه.
بدائع الصنائع (1/ 259) میں ہے:
وأما الشرائط التي ترجع إلى غير المصلي فخمسة في ظاهر الروايات، المصر الجامع، والسلطان، والخطبة، والجماعة، والوقت.
فتاویٰ مفتی محمود (624/2) میں ہے:
سوال: ایک مسجد واقع ہے کچہری ملتان میں اور اس مسجد میں سوائے ظہر کی نماز کے دوسرے اوقات الا ربع میں نماز تو نماز رہی اس میں اذان بھی نہیں ہوتی بلکہ امام المسجد خود بھی وہاں سے چلا جاتا ہے۔ صرف ظہر کی نماز میں بغیر اتوار کے آیا کرتا ہے۔ اس میں بات تلاش کی یہ ہے کہ ایسی مساجد میں جمعہ ہونا چاہیے یا نہیں اور جمعہ کی شرائط کیا ہیں ؟
الجواب: اس مسجد میں جمعہ جائز ہے کیونکہ جمعہ کی صحت کے لیے مسجد کا ہونا بھی شرط نہیں ہے۔ ویسے گراؤنڈ میں بھی باقی شرائط کے موجود ہونے کے ساتھ اگر جمعہ کا انتظام ہو جائے تو جمعہ پڑ ھنا وہاں بھی صحیح ہے اور یہ تو مسجد بھی ہے۔ پھر کیونکر جائز نہ ہو۔
فتاویٰ محمودیہ(178/8) میں ہے:
سوال : موضع دیو کلی میں جمعہ کی سب شرائط ہیں آبادی تین ہزار سے زائد ہے مسلمانوں کے گھر پندرہ سو کے قریب ہیں۔ یہاں ایک مسجد ہے جمعہ ہوتا ہے مگر مسجد میں پانچ وقت نماز نہیں ہوتی نہ جماعت کے ساتھ نہ بلا جماعت کوئی آدمی آگیا تو پڑھ لیا، مقامی لوگ نماز نہیں پڑھتے صرف جمعہ ، عید بقر عید ہوتی ہے۔ ان حالات میں جمعہ صحیح ہو گا……… ؟
الجواب: اگر دیوکلی میں جمعہ کے شرائط موجود ہیں یعنی گلی کوچہ محلے ہیں، ڈاکخانہ ہے بازار ہے،ضرورت کی ہر شئ ہمیشہ مل جاتی ہے ۔تین ہزار کی مردم شماری ہے تو وہاں جمعہ بھی درست ہے اور عیدبھی……
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved