- فتوی نمبر: 32-398
- تاریخ: 09 جون 2026
- عنوانات: عبادات > نماز > مسافر کی نماز کا بیان
استفتاء
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کا ایک ذاتی گھر کردگاپ میں ہے جہاں اس کی پیدائش ہوئی ہے اور شادی ہوئی ہے اور فی الحال اہل وعیال بھی وہاں ہیں اور ایک ذاتی گھر کوئٹہ میں ہے جہاں اس کی ملازمت ہے (دونوں گھروں کے درمیان تقریباً 80 یا 85 کلومیٹر تک کا فاصلہ ہے) زید اب اپنے کردگاپ والے گھر میں اپنے اہل وعیال کے ساتھ رہتا ہے وہاں سے رہائش ختم کرنے کا ارادہ نہیں ہے، نہ بیچنے کا ارادہ ہے،مستقل رہنے کا ارادہ ہے، ہفتے میں دو یا تین دن اپنی ملازمت کی وجہ سے یا چھٹیوں میں کوئٹہ والے گھر جانا ہوتا ہے وہاں بھی مستقل رہائش ہے ، مستقل رہتے ہیں صرف موسم کے اعتبار سے منتقل ہوتے رہتے ہیں۔
نیز زید کے بعض بہن ، بھائی اسی کوئٹہ والے گھر میں رہتے ہیں اب پوچھنا یہ ہے کہ پوچھنا یہ ہے کہ موسم گرما میں کردگاپ میں بیوی بچوں سمیت رہائش کی صورت میں زید جب کوئٹہ جاتا ہے تو زید پوری نماز پڑھے گایا قصر؟
وضاحت مطلوب ہے: (1)کوئٹہ میں صرف ملازمت کی وجہ سے رہائش بنائی تھی یا اس گھر کو بھی مستقل وطن بنایا تھا اور وہاں بھی مستقل رہائش کا ارادہ کرلیا تھا؟(2) کرد گاپ اور کوئٹہ والے گھر میں رہنے کی تفصیل بتادیں۔
جواب وضاحت: (1)کوئٹہ والا گھر وراثت میں ملا ہے، بیچنے کا ارادہ نہیں ہے اور اس کو بھی مستقل وطن بنا لیا تھا وہاں بھی مستقل رہائش کا ارادہ ہے، صرف موسم کے اعتبار سے بیوی ، بچوں سمیت کبھی کوئٹہ رہنا ہوتا ہے اور کبھی کردگاپ میں، جب کردگاپ میں رہتا ہوں تو ملازمت کی وجہ سے دو یا تین دن کوئٹہ میں رہنا پڑتا ہے۔(2) والد صاحب نے کوئٹہ میں زمین لے کر اس پر گھر بنایا مکان بننے کے بعد وہاں مستقل رہائش رکھی اور کردگاپ میں بھی رہائش قائم رکھی ہم سب موسم سرما میں اس گھر میں شفٹ ہوگئے اور پھر اسی طرح سردی کے موسم میں کوئٹہ آجاتے تھےاور موسم گرما میں کردگاپ والے گھر میں آجاتے تھے یعنی موسم کے اعتبار سے شفٹ ہوتے رہتے تھے ،کردگاپ میں نسبت کوئٹہ زیادہ سردی پڑتی ہے اس (کوئٹہ والے)گھر کو آگے بیچنے کا ارادہ بھی نہیں ہے، اب بھی بعض بہن بھائی اس گھر میں مستقل رہتے ہیں، چاہے میری ملازمت ہو یا نہ ہو وہاں بطور وطن رہنے کا ارادہ ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں کرد گاپ اور کوئٹہ والے دونوں گھر وطن اصلی ہی ہیں لہٰذا دونوں میں نماز پوری پڑھے گا۔
توجیہ: مذکورہ صورت میں کرد گاپ والا گھر چونکہ وطن اصلی ہے اس لیے وہاں پوری نماز پڑھے گا اور کوئٹہ والے گھر میں بھی چونکہ مستقل رہائش کا ارادہ ہے اور اس کو وطن اصلی ہی بنالیا ہے اس لیے وہاں بھی پوری نماز پڑھے گا۔
شامی (2/739) میں ہے:
(الوطن الأصلي) هو موطن ولادته أو تأهله أو توطنه (يبطل بمثله) إذا لم يبق له بالأول أهل، فلو بقي لم يبطل بل يتم فيهما
(قوله: الوطن الاصلى) ويسمى بالاهلى ووطن الفطرة والقرار.
(قوله: أو توطنه) أى عزم على القرار فيه وعدم الارتحال وان لم يتأهل.
(قوله: بل يتم فيهما) أى بمجرد الدخول وإن لم ينو الإقامة.
بدائع الصنائع (1/280) میں ہے:
الوطن الأصلي يجوز أن يكون واحدا أو أكثر من ذلك بأن كان له أهل ودار في بلدتين أو أكثر ولم يكن من نية أهله الخروج منها، وإن كان هو ينتقل من أهل إلى أهل في السنة، حتى أنه لو خرج مسافرا من بلدة فيها أهله ودخل في أي بلدة من البلاد التي فيها أهله فيصير مقيما من غير نية الإقامة.
فتاویٰ عثمانی (1/498-500) میں ہے:
سوال:زید ایک عالمِ دین ہے، اس کے دو دینی مدارس ہیں،۱۔ ایک قدیمی دیہات میں، جہاں بیس، تیس سال سے قیام پذیر ہے اس کے اہل وعیال بھی وہیں ہیں، اس کے نجی مکانات بھی ہیں اور مدرسہ مع مالہا وما علیہا ہے۔
۲۔- عرصہ تین سال سے شہر میں بھی ایک مدرسہ قائم کر رکھا ہے جس میں سالانہ تعلیم جاری ہے اور زید کے زیر اہتمام و سر پرستی چل رہا ہے، زید کا شہر میں بھی اپنا نجی مکان ہے جس میں وہ رہتا ہے اور اس کے عیال کے بعض افراد مثلا بیٹے، بہو وغیرہ بھی یہاں پر ہیں، خود زید حسب ضرورت دونوں جگہ قیام کرتا ہے، مدارس کے کام کے سلسلے میں جتنے دن شہر میں رہنے کی ضرورت پڑتی ہے وہاں رہتا ہے، پھر دوسرے مدرسہ میں جتنا نجی یا مدرسہ کا کام ہو رہتا ہے مگر اکثر و بیشتر سابقہ دیہاتی مکان میں قیام ہوتا ہے، یاد رہے کہ زید کی دونوں ولادت گاہیں نہیں ہیں، کیا یہ دونوں جگہیں وطن اصلی شمار ہوں گی؟
اور جب بھی وہاں پہنچ جائے تو مقیم شمار ہوگا ۔ 1: – لأن بعضا من عياله هنا وبعضا منه هنا ۲۔ولأن له عقارًا ودورا في كليهما ۳: – ولأن له توطنا بلا ترجيح وامتياز حسب الضرورة بكليهما یا ان میں سے ایک وطن اصلی شمار ہوگا بخلاف الآخر؟ مکانات و زمین پر وطن اصلی کا مدار معتبر ہے یا زوجہ کی رہائش کی جگہ کو ترجیح ہے؟
فقہاء کی بعض عبارات تنقیح طلب ہیں، مثلاً شامی نے وطنِ اصلی کی تعریف میں لکھا ہے: ھو موطن ولادته أو تاهله أو توطنه (يبطل بمثله) پھر تاہلہ کی تشرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :۔
فان ماتت زوجته في أحدهما وبقى له فيها دور وعقار قيل لا يبقى وطنا له اذا المعتبر الأهل دون الدار ۔ مگر آگے لکھتے ہیں: وقیل تبقی ، پھر آگے لکھتے ہیں: قال في النهر ولو نقل أهله ومتاعه وله دور في البلاد لا تبقى وطنا له ، جس سے یوں مترشح ہوتا ہے کہ اعتبار اہل وعیال کا ہے، لیکن پھر لکھ رہے ہیں: وقیل تبقى كذا فی المحیط ، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دور وعقار کو بھی وطنیت اصلی میں دخل ہے۔بہر حال مسئلہ منقح نہیں ہو رہا ہے، سوال کے ہر پہلو پر غور کرنے کے بعد جو جواب ہو، مدلل اور باحوالہ ارشاد فرمائیں۔
جواب : آپ نے رد المحتار سے دور اور عقار کے مسئلے میں جو عبارت نقل کی ہے، اس کے مطابق اس کے بارے میں دو قول ہیں، اور یہی دو قول عالمگیریہ اور بحر میں بھی نقل کئے ہیں، اور کوئی ترجیح یا تطبیق نہیں دی، البتہ امداد الفتاوی میں حضرت مولانا تھانوی قدس سرہ نے اس مسئلے پر جو گفتگو فرمائی ہے اس سے حقیقت مسئلہ واضح ہو جاتی ہے، ان کی عبارت یہ ہے:
صورت مذکورہ میں دونوں قول ہیں، اور یہی دونوں قول فتح القدیر اور البحر الرائق میں بھی نقل کئے ہیں، اور بحر میں دونوں قول کی دلیلیں بھی نقل کی ہیں، اور فتح القدیر میں دونوں کی تطبیق کی طرف بھی اشارہ کیا ہے، اور میرے نزدیک تطبیق ہی مختار ہے، چنانچہ اس صورت میں امام محمدؒ کا قول: هذا حالى وأنا أرى القصر ان نوى ترك وطنه ، نقل کر کے لکھا ہے: الا ان أبا يوسف كان يتم بها لكنه يحمل على أنه لم ينو ترك وطنه اهـ .
خلاصہ تطبیق کا یہ ہوا کہ اگر اس دوسرے شہر میں پھر بطور وطن رہنے کا ارادہ نہیں ہے جس طرح پہلے رہتا تھا تب تو وطن نہ رہا، وہاں جا کر قصر کرے گا جب مسافت سفر طے کر کے آئے ، اور اگر اب بھی اسی طرح رہنے کا ارادہ ہے تو وہ بھی وطن ہے، پس اس شخص کے دو وطن ہو جاویں گے۔ (امداد الفتاوی ج: ا ص ۳۴۶،۴۹۴)
اور اس مجموعہ سے احقر کی سمجھ میں جو بات آتی ہے وہ یہ ہے کہ اس مسئلے میں اصل مدار مبتلیٰ بہ کی نیت کا ہے اور زوجہ کا ہونا یا دور و عقار کا ہونا اس نیت کی علامات ہیں، اصل مدارِ مسئلہ نہیں ، لہذا صورت مسئولہ میں اگر آپ نے دیہات کے تو طن کو چھوڑے بغیر شہر میں بھی بطور وطن رہنے کا اس طرح ارادہ کیا ہے کہ کبھی یہاں توطن رہے گا اور کبھی وہاں تو یہ دونوں مقامات آپ کے لئے وطن اصلی ہیں، اور بحر کی ایک عبارت سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے: هذا جواب واقعة ابتلينا بها وكثير من المسلمين المتوطنين في البلاد ولهم دور وعقار فى القرى البعيدة، منها يصيفون بها بأهلهم ومتاعهم، فلا بد من حفظها أنهما وطنان له لا يبطل أحدهما بالآخر. (البحر الرائق ج:2ص:147)
ہاں ! اگر نیت شہر کے گھر کو وطن بنانے کی نہیں ہے بلکہ مقصد یہ ہے کہ کام کی غرض سے وہاں جانا ہوگا اور کام ختم ہوتے ہی اپنی اصلی جگہ واپس آجایا کریں گے، تو پھر دیہات وطن اصلی اور شہر وطن اقامت ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved