• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

کھڑے ہوکرپانی پینے کا حکم

استفتاء

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس بارے میں کہ کیا کوئی ایسی حدیث ہے کہ:

حضوراکرمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر تمہیں پتہ چل جائے کہ کھڑے ہوکرپانی پینے کا کتنا عذاب ہے تو تم اپنے حلق میں ہاتھ ڈال کر اس پانی کو باہر نکال دو اور اگر تم اس وقت دیکھ لو کہ تمہارے ساتھ کتنی خوفناک شکل والا شیطان منہ لگا کر پانی پیتا ہے تو تم پانی پینا ہی چھوڑ دو ۔

اس فتنےکے  دور میں ایک سنت کو زندہ کرنا سو شہیدوں کے برابر اجرہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

بعینہ سوال میں مذکورہ الفاظ کے ساتھ تو کوئی حدیث ہمیں نہیں ملی البتہ دو مختلف حدیثوں سے مذکورہ مضمون ثابت ہے۔

چنانچہ مسند بزار(8050)میں ہے:

عن أبي هريرة ، قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لو يعلم الذي يشرب قائما ماذا عليه لاستقاء

ترجمہ:حضرت ابوہریرہ ؓسے مروی ہے کہ حضور اکرمﷺنے فرمایاکہ کھڑے ہوکر پینے والا اگر یہ جان لے کہ  کھڑے ہوکر پینے کا کتنا گناہ ہے تو وہ اس کوقے کرکے نکال دے ۔

مسند احمد(8003)  میں ہے:

 عن أبى زياد الطحان، قال: سمعت أبا هريرة يقول: عن النبى صلى الله عليه وسلم أنه رأى رجلا يشرب قائما، فقال له: قه، أيسرك أن يشرب معك الهر، قال: لا، قال: فإنه قد شرب معك من هو شر منه الشيطان

ترجمہ:حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو کھڑے ہوکرپانی پیتے دیکھا تو فرمایا:قے کرلو، پھر آپﷺ نے فرمایا  کیا تم کو پسند ہے کہ بلی تمہارے ساتھ پانی پئے؟اس نے کہا : نہیں ، تو فرمایا : بلی سے بھی بدتر چیز نے تمہارے ساتھ پیا اور وہ شیطان ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved