- فتوی نمبر: 26-52
- تاریخ: 14 جون 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > تبرکات و مقدس اشیاء
استفتاء
ایک ادارہ ہے جہاں پر لاکھوں کی تعداد میں لڑکے لڑکیاں درخواست دیتےہیں۔جیسےیونیورسٹیاں اوربورڈ كے دفاتروغیرہ ان درخواستوں میں اسلامی نام لکھے ہوتے ہیں۔ جن میں سے چند ذیل میں تحریر کیے گئے ہیں تاکہ بات سمجھ آجائے،کچھ نام اردو میں ہوتے ہیں لیکن زیادہ تر انگریزی زبان میں ہی لکھے جاتے ہیں۔ جیسا کہ:
Ehsan ullah,Abdullah,Abdul Raheem,Muhammad Mustafa
اللہ دتہ ،خدا بخش ،محمد اسلم ،محمد سلمان ،عبداللہ، عبد الرحمن وغیرہ
امتحان ہونے کے بعداور رزلٹ وغیرہ شائع کرنے کے بعدجب سب کام مکمل ہوجاتا ہےتو یونیورسٹی وغیرہ کے پاس طالب علموں کا ڈیٹا درخواستوں کی شکل میں باقی رہ جاتا ہے اب اگر وہ ان کو ویسے ہی ردی میں بیچ دیں یا پھینک دیں تو ریکارڈ لیک (leak)ہونے کا خطرہ ہوتا ہے جوغلط استعمال ہوسکتا ہےاور ریکارڈ کو سنبھال کر محفوظ بھی نہیں رکھا جا سکتا۔لہذا دریافت طلب بات یہ ہے کہ:
1۔ ان اسلامی ناموں والے کاغذات کو پھاڑنا جائز ہے؟
2۔ ان کو پھاڑ کر ردی میں دینا جائز ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔اللہ کے نام لکھے کاغذات کو بے حرمتی کے ارادے سے پھاڑنا تو گناہ کی بات ہوتی ہے البتہ اگر بے حرمتی مقصو نہ ہو تو پھاڑنے کی گنجائش ہے۔
2۔ جس کا غذ پر اللہ کا نام لکھا ہو یا حضور ﷺ کا نام لکھا ہو اس پر سے اللہ کا نام مٹا کر اسے دوسرے کام میں لانا جائز ہوتا ہے ۔آج کل ردی میں جانے کے بعد عموماً کاغذ کو ری سائیکل کیا جاتا ہے (یعنی ان سے دوبارہ نیا کاغذ بنایا جاتا ہے )تو چونکہ ری سائیکل کرنے والے کیمکل کے ذریعےاس کاغذ سے تحریر کو مٹا دیتے ہیں اس لیے اس کاغذ کو ردی میں دینا جا ئز ہے ۔
فتاویٰ ہندیہ(9/112)میں ہے:
“بساط أو مصلى كتب عليه الملك لله يكره بسطه والقعود عليه واستعماله، وعلى هذا قالوا: لا يجوز أن يتخذ قطعة بياض مكتوب عليه اسم الله تعالى علامة فيما بين الأوراق لما فيه من الابتذال باسم الله تعالى، ولو قطع الحرف من الحرف أو خيط على بعض الحروف في البساط أو المصلى حتى لم تبق الكلمة متصلة لم تسقط الكراهة”
فتاویٰ ہندیہ(9/111)میں ہے:
“ولا يجوز لف شيء في كاغد فيه مكتوب من الفقه… ولو كان فيه اسم الله تعالى أو اسم النبي صلى الله عليه وآله وسلم يجوز محوه ليلف فيه شيء، كذا في القنية.ولو محا لوحا كتب فيه القرآن واستعمله في أمر الدنيا يجوز”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved