- فتوی نمبر: 26-66
- تاریخ: 14 جون 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > متفرقات حظر و اباحت
استفتاء
جناب صدر مفتی صاحب! میں مسمی زید ولد خالد قوم آرائیں ساکن گلی نمبر **** کا ہوں۔ میں مسلمان ہوں اور ائمہ کرام میں حضرت امام ابو حنیفہ ؒ کا پیروکار ہوں۔ صوم و صلوۃ کا پابند ہوں۔ میں تبلیغی جماعت کے ساتھ بھی وقت لگاتا رہتا ہوں۔ اور الحمد للہ عمرہ کی سعادت بھی حاصل کر چکا ہوں۔ میری عمر 68 سال ہے اور عارضہ آشوب میں بھی مبتلاء ہوں۔
میرا ایک مکان فضل کالونی 5 نمبر ٹی پر واقع ہے جو کہ کرایہ پر دیا ہوا تھا۔ کرایہ دار مکان خالی کرکے چلے گئے تھے لیکن وہ کچرہ وغیرہ کے شاپر گھر میں چھوڑ گئے تھے۔ میں نے وہ شاپر ردی کے کاغذات سمجھ کر باہر لے جا کر آگ لگا دی۔ یہ واقعہ 2020-09-21کو رات عشاء کے بعد پیش آیا۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ شخص نے اگر واقعتا غلط فہمی میں قرآن کے اوراق کو آگ لگائی تھی تو ان کا یہ فعل توہین قرآن کے زمرے میں نہیں آتا۔ باقی واقعہ کی تحقیق ہمارے دائرہ اختیار میں نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
لوگوں کے شور وواویلہ کے بعد جیسے ہی مجھے پتا چلا کہ شاپر کے اندر قرآنی اوراق موجود ہیں تو میں نے فورا اپنے ہاتھوں سے آگ بجھانی شروع کر دی جس کی وجہ سے میرے ہاتھ بھی جل گئے۔
میری آپ سے گزارش ہے کہ تمام معاملہ غلطی کی بناء پر ہوا برائے مہربانی قرآن و حدیث کی روشنی میں مجھے اس پر فتوی دیا جائے۔
© Copyright 2024, All Rights Reserved