• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

کیا یہ حدیث ہے کہ فقراء اغنیاء سے پانچ سو سال پہلے جنت میں جائیں گے؟ اور فقراء سے کیا مراد ہے؟

استفتاء

1۔کیا یہ حدیث ہے کہ فقراء اغنیاء سے پانچ سو سال پہلے جنت میں جائیں گے؟

2۔ اگر یہ بات درست ہو تو فقراء سے کیا مراد ہے؟

3۔ ایک صاحب نے حدیث نقل کی  کہ حضورﷺ نے فرمایا کہ جس کے پاس ایک وقت کا کھانا ہے وہ فقیر نہیں اور جس کے پاس کھانا تو نہیں مگر کسی سے مانگنے پر مل جائے گا وہ بھی فقیر نہیں بلکہ فقیر وہ ہے جس کے پاس نہ خود  کھانا ہو اور نہ اسے مانگنے پر ایک وقت کا کھانا مل سکے کیا یہ حدیث درست ہے؟

4۔ اگر ہاں تو کیا پہلی حدیث میں فقیر سے یہی مراد ہے؟ اگر نہیں تو اس حدیث کا کیا مطلب ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔ یہ حدیث ہے کہ فقراء اغنیاء سے 500 سال پہلے جنت میں جائیں گے ۔

2۔فقراء سے مرادوہ لوگ ہیں جن کے پاس  اپنے اور اپنے زیر کفالت افراد کے ضروری خرچے سے زیادہ مال نہ ہو۔

3۔ہمیں تلاش کے باوجود مذکورہ مضمون کی کوئی حدیث نہیں ملی  البتہ یہ حدیث موجود ہے کہ جس کے پاس ایک دن کا کھانا ہو اس کے لیے  کھانے کے لیے سوال کرنا جائز نہیں ہے ۔ اگرچہ پھر بھی وہ آدمی فقیر ہی ہے ۔

4۔ پہلی حدیث میں فقیر سے مراد وہ ہے  جس کے پاس اپنے اور اپنے زیر کفالت افراد کے ضروری خرچے سے زیادہ مال نہ ہو   لہذا ایسا فقیر اگر صبر و شکر اور اللہ تعالی کی فرمانبرداری کے ساتھ زندگی گزارے  تو سوال میں مذکورہ حدیث کی رُو سے وہ مالدار افراد سے پانچ سو سال قبل جنت میں جائے گا۔

سنن ترمذی (رقم الحدیث: 2353) میں ہے:

حدثنا محمود بن غيلان قال: حدثنا قبيصة قال: حدثنا سفيان، عن محمد بن عمرو، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌يدخل ‌الفقراء الجنة قبل الأغنياء بخمسمائة عام نصف يوم» هذا حديث حسن صحيح

صحیح ابن خزیمہ (رقم الحدیث: 2391) میں ہے:

من سأل مسألة، ‌وهو ‌يجد عنها غناء فإنما يستكثر من النار» ، قيل: يا رسول الله، وما الغناء الذي لا ينبغي معه المسألة قال: «أن يكون له شبع يوم وليلة أو ليلة ويوم»

فیض  القدیر (2/461) میں ہے:

(إن فقراء المهاجرين) في رواية فقراء المؤمنين وهي أعم (يدخلون الجنة قبل أغنيائهم بمقدار خمس مئة سنة) ويدخل فقراء كل قرن قبل أغنيائهم بالقدر المذكور ذكره القرطبي ثم الأغنياء إن أحسنوا في فضول أموالهم كانوا بعد الدخول أرفع درجة من كثير من الفقراء كما تقرر ‌والمراد ‌في ‌هذا وما قبله من لا فضل له عما وجب عليه من نفقته ونفقة ممونه على الوجه اللائق وإن لم يكن من أهل الزكاة ولا الفيء

السراج المنیر (2/100) میں ہے:

(أن فقراء المهاجرين) أي من أرض إلى غيرها فراراً بدينهم (يسبقون الأغنياء) أي منهم ومن غيرهم (يوم القيامة إلى الجنة) أي ‌لعدم ‌فضول الأموال التي يحاسبون عليها

شرح المشکوٰۃ للطیبی (5/1886) میں ہے:

وذلك ‌لأن ‌الأغنياء وقفوا في العرصات للحساب، وسئلوا من أين حصلوا المال، وفي أي شيء صرفوه، ولم يكن مال حتى يتوقفوا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved