- فتوی نمبر: 26-89
- تاریخ: 17 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > صریح و کنایہ دونوں طرح کے الفاظ سے طلاق دینا
استفتاء
طلاق کے باب میں آتا ہے ،’’الصریح ما لا یحتاج الی النية ‘‘صریح لفظ نیت کا محتاج نہیں ہوتا جیسا کہ کوئی اپنی بیوی کو کہے کہ ’’تجھے طلاق ہے‘‘تو اس سے ایک طلاق رجعی واقع ہوجائے گی اگرچہ نیت نہ بھی کرے،اور اسی طرح وہ تین کی نیت کرے تو بھی ایک طلاق واقع ہوگی،کیونکہ صریح لفظ ہے اور صریح نیت کا محتاج نہیں ہے۔
خلاصہ یہ نکلا کہ صریح الفاظ وقوع طلاق اور عدد طلاق میں نیت کےمحتاج نہیں ہوتے ،تو کیا وہ صریح جو کثرت استعمال کی وجہ سے صریح بن چکا ہو اور اصل وضع کے اعتبار سے طلاق کے لیے موضوع نہ ہو ،تو اس میں وقوع طلاق اور تعداد طلاق میں نیت کا کیا حکم ہوگا؟کیا یہ بھی کسی حال میں (وقو ع طلاق اور تعداد طلاق )میں نیت کا محتاج نہیں ہے؟یا وقوع طلاق میں تو نیت کا محتاج نہیں لیکن تعداد طلاق میں نیت کا اعتبار ہے،یعنی اگر کوئی تین کی نیت کرے تو نیت کا اعتبار ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
وہ الفاظ جو کثرت استعمال کی وجہ سے صریح بن چکے ہوں وہ وقوعِ طلاق میں تو نیت کے محتاج نہ ہوں گے البتہ عدد طلاق میں نیت کے محتاج ہوں گے۔
در مختار(4/443)میں ہے:
(صريحه ما لم يستعمل إلا فيه) ولو بالفارسية (كطلقتك وأنت طالق ومطلقة) ….. (ويقع بها) أي بهذه الألفاظ وما بمعناها من الصريح…..(واحدة رجعية وإن نوى خلافها) من البائن أو أكثر خلافا للشافعي (أو لم ينو شيئا)
درمختار مع رد المحتار(4/450)میں ہے:
ومن الألفاظ المستعملة: الطلاق يلزمني، والحرام يلزمني، وعلي الطلاق، وعلي الحرام فيقع بلا نية للعرف
(قوله فيقع بلا نية للعرف) أي فيكون صريحا لا كناية، بدليل عدم اشتراط النية وإن كان الواقع في لفظ الحرام البائن لأن الصريح قد يقع به البائن كما مر…
ردالمحتار(4/452)میں ہے:
[تتمة] ينبغي أنه لو نوى الثلاث تصح نيته لأن الطلاق مذكور بلفظ المصدر، وقد علمت صحتها فيه، وكذا في قوله علي حرام فقد صرحوا بأنه تصح نية الثلاث في أنت علي حرام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved