- فتوی نمبر: 26-106
- تاریخ: 18 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > تین طلاقوں کا حکم
استفتاء
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری اور میری زوجہ کی کسی وجہ سے چھ ماہ پہلے جون میں لڑائی ہوئی اور پہلے بھی عموما گھریلو ناچاقی کی وجہ سے لڑائی ہوتی رہتی تھی، لڑائی کے دوران میں نے یہ الفاظ بولے کہ ’’تمہیں دی طلاق، دی طلاق، دی طلاق‘‘ شدید غصے میں یہ الفاظ استعمال کیے تھے، غصے میں مجھے معلوم تھا کہ میں کیا کہہ رہا ہوں اور میں نے غصے میں کوئی خلاف عادت کام مثلا توڑپھوڑ وغیرہ نہیں کیا،یہ طلاق میں نے بیوی کے مطالبے کی وجہ سے دی ، اس وقت میرا اعتقاد یہی تھا کہ یہ ایک طلاق شمار ہو گی اور نیت بھی ایک طلاق کی تھی اس لیے ایک یا دو ہفتے بعد میں نے رجوع کرلیا، کیونکہ میں نے پہلے ڈاکٹر ذاکر نائیک کے ویڈیو بیان سن رکھے تھے اور اسی طرح ڈاکٹر اسرار احمد کے ویڈیو بیان بھی سن رکھے تھے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ تین دفعہ طلاق کا مطلب ایک دفعہ طلاق ہوتا ہے، نبی کریمﷺکےزمانے میں بھی ایسا تھا اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کے زمانے میں بھی تین طلاق ایک شمار کی جاتی تھیں، لیکن بعد میں حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانہ میں تین طلاق کو تین شمار کرنے کا حکم صادر ہوا اور تین طلاق کے بعد رجوع کا اختیار ختم کردیا گیا، اس کی وجہ سے میرا اعتقاد یہ بن گیا کہ تین طلاقیں ایک ہی شمار ہوتی ہیں اور اس کے بعد رجوع کا حق باقی رہتا ہے، لیکن میری بیوی نے بعد میں کچھ ویڈیو بیان سنے جن میں کہا گیا کہ تین طلاقیں تین شمارہوتی ہیں اور اس کے بعد رجوع نہیں کیا جا سکتا۔ اب اس مسئلے کے بارے میں قرآن و سنت کی روشنی میں آپ کی رائے درکار ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں اگرچہ شوہر نے غصے کی حالت میں طلاق دی ہے، لیکن غصے کی کیفیت ایسی نہیں تھی کہ اسے معلوم ہی نہ ہو کہ وہ کیا کہہ رہا ہے اور کیا کر رہا ہے، اور نہ ہی اس سے خلاف عادت کوئی قول یا فعل سرزد ہوا، غصہ کی ایسی حالت میں دی گئی طلاق واقع ہو جاتی ہے، لہذا مذکورہ صورت میں تینوں طلاقیں واقع ہو گئی ہیں، جن کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہو گئی ہے، اب نہ رجوع ہو سکتا ہے اور نہ صلح کی گنجائش ہے۔
نوٹ: تین طلاقیں چاہے اکھٹی دی جائیں یا الگ الگ دی جائیں بہر صورت تین ہی ہوتی ہیں ۔جمہور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم وتابعین ؒ اور ائمہ اربعہ ؒ کا یہی مذہب ہے۔
مسلم شریف (2/962 حدیث نمبر 1471 ط بشری ) میں ہے:
عن نافع عن ابن عمر رضي الله تعالى عنهما قال ……… اما انت طلقتها ثلاثا فقد عصيت ربك فيما امرك به من طلاق امرأتك وبانت منك
’’نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے (اکٹھی تین طلاقیں دینے والے سے کہا ) تم نے اپنی بیوی کو (اکٹھی )تین طلاقیں دی ہیں تو بیوی کو طلاق دینے کے بارے میں جو تمہارے رب کا حکم (بتایا ہوا طریقہ) ہے اس میں تم نے اپنے رب کی نافرمانی کی ہے اور تمہاری بیوی تم سے جدا ہوگئی۔‘‘
ابو داؤد شریف(1/666 حدیث نمبر 2197 ط بشری) میں ہے:
عن مجاهد قال: كنت عند ابن عباس رضي الله عنهما فجاءه رجل فقال: انه طلق امراته ثلاثا. قال: فسكت حتى ظننت انه رادها اليه.
ثم قال: ينطلق احدكم فيركب الحموقة ثم يقول يا ابن عباس يا ابن عباس وان الله قال (ومن يتق الله يجعل له مخرجا ) وانك لم تتق الله فلا اجد لك مخرجا عصيت ربك وبانت منك امراتك
’’مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہا کہ اس نے اپنی بیوی کو(اکٹھی) تین طلاقیں دے دی ہیں تو (کیا گنجائش ہے اس پر) عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ اتنی دیر تک خاموش رہے کہ مجھے یہ خیال ہونے لگا کہ (حضرت کوئی صورت سوچ کر ) اسے اس کی بیوی واپس دلا دیں گے پھر انہوں نے فرمایا تم میں سے ایک شروع ہوتا ہے تو حماقت پر سوار ہو جاتا ہے اور (تین طلاقیں دے بیٹھتا ہے ) پھر آکر کہتا ہے اےابن عباس اےابن عباس (کوئی راہ نکالیئے کی دہائی دینے لگتا ہے ) حالانکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے ومن یتق الله یجعل له مخرجا(جو کوئی اللہ سے ڈرے تو اللہ اس کے لیے خلاصی کی راہ نکالتے ہیں۔)‘‘
تم نے اللہ سے خوف نہیں کیا (اور تم نے اکٹھی تین طلاقیں دے دیں جو کہ گناہ کی بات ہے) تو میں تمہارے لئے کوئی راہ نہیں پاتا (اکٹھی تین طلاقیں دے کر) تم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور تمہاری بیوی تم سے جدا ہوگئی۔
علامہ بدرالدین العینی رحمہ اللہ صحیح بخاری شریف کی شرح عمدۃ القاری (232/1)میں تحریر فرماتے ہیں :
مذهب جماهير العلماء من التابعين ومن بعدهم من الاوزاعي والنخعي والثوري و ابو حنيفه واصحابه ومالك واصحابه والشافعي واصحابه واحمد واصحابه و اسحاق وابو ثور وابو عبيدة واخرون كثيرون على ان من طلق امراته ثلاثا يقعن ولكنه ياثم.
مرقاۃ المفاتيح شرح مشكاۃ المصابيح ( جلد6صفحہ436) میں ہے:
قال النووي اختلفوا في من قال لامراته انت طالق ثلاثا فقال مالك والشافعي واحمد وابو حنيفه والجمهور من السلف والخلف يقع ثلاثا…
وفيه أيضاً:وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاثا.
فتاوی شامی (4/439) میں ہے:
قلت: وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان قال فيها: إنه على ثلاثة أقسام: أحدها أن يحصل له مبادئ الغضب بحيث لا يتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه. والثاني أن يبلغ النهاية فلا يعلم ما يقول ولا يريده، فهذا لا ريب أنه لا ينفذ شيء من أقواله. الثالث من توسط بين المرتبتين بحيث لم يصر كالمجنون فهذا محل النظر، والأدلة تدل علی عدم نفوذ أقواله …………….فالذي ينبغي التعويل عليه في المدهوش ونحوه إناطة الحكم بغلبة الخلل في أقواله وأفعاله الخارجة عن عادته، وكذا يقال فيمن اختل عقله لكبر أو لمرض أو لمصيبة فاجأته: فما دام في حال غلبة الخلل في الأقوال والأفعال لا تعتبر أقواله وإن كان يعلمها ويريدها لأن هذه المعرفة والإرادة غير معتبرة لعدم حصولها عن ادراك صحيح كما لا تعتبر من الصبي العاقل.
درمختار مع ردالمحتار (4/509) میں ہے:
كرر لفظ الطلاق وقع الكل.
(قوله كرر لفظ الطلاق) بأن قال للمدخولة: أنت طالق أنت طالق أو قد طلقتك قد طلقتك أو أنت طالق قد طلقتك أو أنت طالق وأنت طالق.
بدائع الصنائع (3/295) میں ہے:
وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله – عز وجل – {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: ٢٣٠] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved