• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

کمپنی کا انعام میں سیر کا ٹکٹ دینے کا حکم

استفتاء

بعض اوقات فلپس کمپنی کی طرف سے HPکو یہ آفر کی جاتی ہے کہ سالانہ سیل ڈھائی کروڑ کرنے کی صورت میں ایک آدمی کو  یورپ کی سیرکرائی جائے گی جس میں ٹکٹ اور دیگر سفری اخراجات شامل ہوں گے اور پانچ کروڑ کی سیل کرنے کی صورت میں فلپس کمپنی کی طرف سے HP کے دوآدمیوں کو  یورپ کی سیر کرائی جائے گی۔

فلپس کمپنی کی طرف سے یورپ کی سیر کرنے کے لیے جو دو ٹکٹیں دی جاتی ہیں اس سلسلہ میں اگر HP ان کو استعمال نہ کرے اور یورپ کا سفر نہ کرنا چاہے تو صرف انہیں دو ٹکٹوں کے بقدر HPکو نقد کی صورت میں پیسے  فراہم کر دیے جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں ٹکٹوں کے علاوہ اضافی سفری اخراجات وغیرہ کی مد میں پیسے نہیں دیے جاتے۔

کیا HP کا ٹارگٹ سیل پورا کرنے پر انعام میں  ٹکٹ لینا شرعاً درست ہے؟

وضاحت مطلوب ہے کہ:  1)مذکورہ انعام سیل کرنے پر ہے یا پر چیز کرنے پر؟2)   نیز HPکا فلپس کے ساتھ کیا لنک(تعلق) ہے؟ HP، فلپس کی کمیشن ایجنٹ ہے یا فلپس سے اشیاء کی خریداری کرتی ہے؟

جواب وضاحت: 1) مذکورہ انعام پرچیز کرنے پر ہے۔2) HPفلپس کمپنی سے مال پرچیز کرتی ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں HP کے لیے سیل ٹارگٹ پورا کرنے پر انعام میں ٹکٹ یا اس  کی قیمت لینے کی گنجائش ہے تاہم HP کو چاہیئے کہ وہ محض انعام کے لالچ میں سیل ٹارگٹ پورا کرنے کی کوشش نہ کرے کیونکہ ایسا کرنے سے وہ فلپس کمپنی کی انعامی اسکیم میں معاون بنے گی جبکہ خود فلپس کمپنی  کے لیے اس طرح کی اسکیمیں بنانا درست نہیں کیونکہ عموماً مینوفیکچرر کمپنی ان انعامی رقوم کو اپنی لاگت میں شمار کرکے اپنا نفع رکھ کر آگے فروخت کرتی ہے اور اس کی زد آخر کار صارفین پر پڑتی ہے ۔

توجیہ: مذکورہ صورت میں   یہ انعام اس کمپنی کی طرف سے  ثمن میں کمی شمار ہوگا کیونکہ ٹکٹ بھی اب مال ہی کی طرح شمار ہوتی  ہے اور اس کی خرید وفروخت بھی ہوتی ہے  اور اگر اسے منفعت کی رسید بھی شمار کریں تب بھی اس منفعت کی اجرت  کو اصل شمار کیا جائے گا کیونکہ کمپنی کی طرف سے اگر کوئی سیر پر نہ بھی جائے تب بھی اسے ٹکٹ کے پیسے ادا کیے جاتے ہیں  ۔

شرح المجلۃ للاتاسی (183/2) میں ہے

 المادة :256 حط البائع مقدارا من الثمن المسمي بعد العقد صحيح ومعتبر

والحط معتبر ولو بعد هلاك المبيع لان اسقاط  عوض المعدوم صحيح

جدید مسائل کی اسلامائزیشن کا شرعی جائزہ از :ڈاکٹر مفتی عبدالواحد صاحبؒ (ص 272) میں ہے:

تجارتی مقابلے کے انعامات کی پہلی خرابی : یہ سرمایہ دارانہ طریقہ ہے کہ دولت دولت مندوں  کے درمیان ہی گردش میں رہے

کمپنی والے جو اتنے بیش قیمت انعامات دکانداروں کو دیتے ہیں یہ سرمایہ دارانہ نظام کا طریقہ ہے مثلا۔۔۔۔۔۔

اصل ہمدردی تو صارف سے ہونی چاہیے کہ اس کو رعایت ملے ورنہ دکانداروں کو دیے گئے انعامات کا بوجھ بالآخر صارفین پر پڑے گا کیونکہ عام طور سے انعامات کو بھی اخراجات میں شمار کر کے اشیاء کی قیمت  طے کی جاتی ہے اس طرح سے یہ” كی  لا يكون دولة بين الاغنياء منكم ” (تاكہ نہ آئے لینے دینے میں تمہارے دولتمندوں میں سورہ حشر :7) کی مخالف صورت بنتی ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved