- فتوی نمبر: 26-103
- تاریخ: 18 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > نکاح کا بیان > حرمت مصاہرت
استفتاء
میرا ایک دوست ہے جس کی شادی ایک بیوہ سے ہوئی تھی اور اس بیوہ کی پہلے خاوند سے دو بیٹیاں تھیں اب کچھ عرصہ بعد موجودہ شوہر اس بیوہ کی بیٹی سے کچھ غلط کر بیٹھا اب پوچھنا یہ ہےکہ (1) اس کا نکاح باقی رہا یا نہیں ؟
(2)اگر نکاح باقی نہیں رہا تو اس کو کیا کرنا چاہیے ؟
(3)کیا نکاح دوبارہ ہو سکتا ہے؟
تنقیح:دخول کیاتھاپھرتھوڑی دیربعدآلہ تناسل باہرنکال لیاتھا انزال نہیں ہواتھا۔دوبارہ اس طرح کاواقعہ پیش نہیں آیا۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
(2-1) مذکورہ صورت میں نکاح فاسد ہوچکا ہے جسے ختم کرنا ضروری ہے اور نکاح ختم کرنے کے لیے شوہر بیوی کو طلاق دے دے یا یہ کہہ دے کہ ’’میں نے بیوی کو چھوڑ دیا‘‘۔اور اگر شوہر بیوی کو چھوڑنے پر آمادہ نہ ہو تو بیوی عدالت کے ذریعے اپنا نکاح فسخ کرواسکتی ہے۔
(3)حرمت مصاہرت کی وجہ سے بیوی شوہرپرہمیشہ کےلئےحرام ہوجاتی ہے اس لئے دوبارہ نکاح کرنے کی کوئی گنجائش نہیں رہی۔
التجرید للقدوری (9/ 4449)میں ہے:
الزنا يتعلق به تحريم المصاهرة فإذا زنا بامرأة حرمت عليه أمها وبنتها، وإذا زنا بأم امرأته أو بنتها وقعت الفرقة بينه وبين امرأته.
شامی (160/4)میں ہے:
قوله ( وبحرمة المصاهرة الخ ) قال في الذخيرة ذكر محمد في نكاح الأصل أن النكاح لا يرتفع بحرمة المصاهرة والرضاع بل يفسد …… وقد علمت أن النكاح لا يرتفع بل يفسد وقد صرحوا في النكاح الفاسد بأن المتاركة لا تتحقق إلا بالقول إن كانت مدخولا بها كتركتك أو خليت سبيلك وأما غير المدخول بها فقيل تكون بالقول وبالترك على قصد عدم العود إليها وقيل لا تكون إلا بالقول فيهما حتى لو تركها ومضى على عدتها سنون لم يكن لها أن تتزوج بآخر .
در مختارمع ردالمحتار(267/4)میں ہے:
“( و ) يثبت ( لكل واحد منهما فسخه ولو بغير محضر من صاحبه دخل بها أو لا ) في الأصح خروجا عن المعصية فلا ينافي وجوبه ……
قوله: (فلا ينافي وجوبه) قال في النهر: وقول الزيلعي ولكل منهما فسخه بغير محضر من صاحبه لا يريد به عدم الوجوب، إذ لا شك في أنه خروج من المعصية والخروج منها واجب، بل إفادة أنه أمر ثابت له وحده.وضمير ينافي لتعبير المصنف باللام في قوله: (ولكل )وضمير وحده لكل: أي يثبت لكل منهما وحده”
الحیلۃالناجزۃ(85)میں ہے:
“واما ما ذكره في عدة رد المحتار ومثله في البحر من ان المتاركة كما تكون من الزوج كذلك تكون من الزوجةفهو مختص بمااذا كانت الحرمة اصلية لاطارية كما اذا نكحت المراة بمن ثبتت به حرمة المصاهرة بالرضاع قبل النكاح فيجب على كل من الزوجين فسخه و كل واحد منهما مستقل في هذه المتاركة ولاكذلك في الحرمة الطارية بعد النكاح فان المتاركة فيه لا يتحقق الا من الزوج او بتفريق القاضى وهو صورة الجمع بين القولين وبه يرتفع الخلاف بين كلام البحروالنهر المذكور في الشامية”
فتاوى ہنديہ (19/2)میں ہے:
“وتثبت (اي حرمة المصاهرة )بالوطي حلالا كان او عن شبهةاو زنا كذا في فتاوى قاضي خان: فمن زنا بامراة حرمت عليه امها وان علت وابنتها وان سفلت”
فتاوی دارالعلوم دیوبند(244/7)میں ہے:
“سوال: زید نے ہندہ بیوہ سے نکاح کیا ہندہ کے پہلے خاوند سے ایک لڑکی جس کی عمر دس سال ہے ساتھ آئی زید نے اس لڑکی سے صحبت کی لیکن بوجہ نا بالغہ اور مقام تنگ ہونے دخول نہیں ہوا لیکن زید نے دخول ہو جانے کی کوشش بہت کی تو ہندہ زید کے نکاح میں رہی یا نہیں ؟
جواب :اس صورت میں زید کی منکوحہ زید پر حرام ہو گئی اس کو علیحدہ کر دینا چاہئیے۔”
فقہ اسلامی(مصنفہ ڈاکٹر مفتی عبد الواحد صاحب، ص35) میں ہے :
“مرد اگر اپنی بیوی کی بیٹی سے خواہ وہ اس مرد کی اپنی ہو یا سوتیلی ہوزناکر بیٹھے توسزا کے طور پر اس کی بیوی اس پر حرام ہوجائے گی”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved