• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

والد کی سوتیلی (باپ شریک) خالہ سے نکاح کا حکم

استفتاء

میرے نانا نے ایک شادی  کی اور میری  حقیقی نانی فوت ہو گئیں ۔ پھر میرے نانا نے دوسری شادی کی دوسری بیوی سے  ایک بیٹی پیدا ہوئی  کیا اس بیٹی کا نکاح میرے بیٹے سے جائز ہے یا نہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں آپ کے بیٹے کا  آپ کے نانا کی بیٹی سے نکاح جائز نہیں۔

توجیہ: مذکورہ صورت میں لڑکی، لڑکے کے والد کی سوتیلی (باپ شریک) خالہ ہے اور جس طرح اپنی  سوتیلی (باپ شریک) خالہ  سے نکاح  جائز نہیں اسی طرح والد کی  سوتیلی (باپ شریک) خالہ  سے بھی نکاح جائز نہیں۔

ہندیہ (1/273) میں ہے:

(الباب الثالث في بيان المحرمات) ‌وهي ‌تسعة ‌أقسام (القسم الأول المحرمات بالنسب). وهن الأمهات والبنات والأخوات والعمات والخالات ………. وأما الخالات فخالته لأب وأم وخالته لأب وخالته لأم وخالات آبائه وأمهاته

النتف  فی الفتاویٰ للسعدی (1/253) میں ہے:

والصنف الثالث الاخوة والاخوات من اي وجه كانوا لاب وام أو لاب أو لام وأولاد جميعهم ‌وان ‌بعدوا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved