• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

قرآن مجید حفظ کرنے کا ثبوت

استفتاء

1۔حدیث شریف میں ہے کہ قیامت کے دن حافظ قرآن کو کہا جائے گا کہ جنت کے درجات پر چڑھتے جاؤ جب آخری مقام تک پہنچ جاؤ تو وہی آپ کامقام ہے۔سوال یہ ہے کہ بعض لوگ حافظ کیلئے اس مرتبہ کا انکار کرتے ہیں ،آیا یہ مرتبہ حافظ صاحب کا ہے یا نہیں؟

2۔اکثر لوگ اپنے بچے کو قرآن حفظ کرواتے ہیں،آیا حفظ کرنا قرآن شریف سے ثابت ہے یا حدیث شریف سے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔یہ مرتبہ حافظ قرآن کیلئے ثابت ہے۔

سنن ابی داؤد(رقم:1464)میں ہے:

“عن عبد الله بن عمرو قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:يقال لصاحب القرآن: اقرأ وارتق، ورتل كما كنت ترتل في الدنيا، فإن منزلك عند آخر آية تقرؤها”

مرقاۃ المفاتیح(4/644)میں ہے:

’’وقال ابن حجر: ويؤخذ من الحديث أنه لا ينال هذا الثواب الأعظم إلا من حفظ القرآن وأتقن أداءه وقراءته كما ينبغي له‘‘

ترجمہ:’’ابن حجر ؒ فرماتے ہیں کہ : اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اس بڑے ثواب کو وہی شخص حاصل کر سکتا ہے جو قرآن مجید کو حفظ کرے اور اس کی ادائیگی اور قرائت میں اس کے شایان شان مہارت حاصل کرے۔‘‘

2۔احادیث میں حافظ قرآن کے بہت سے فضائل آئے ہیں جس سے قرآن پاک کو حفظ کرنا ثابت ہوتا ہے۔ایک حدیث تو وہی ہے جوپہلے ذکر کر دی گئی  مزید دو حدیثیں ذکر کی جاتی ہیں۔

صحیح بخاری(رقم:4937)میں ہے:

’’عن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «مثل الذي يقرأ القرآن وهو حافظ له مع السفرة الكرام البررة ومثل الذي يقرأ وهو يتعاهده وهو عليه شديد فله أجران»‘‘

ترجمہ:’’حضرت عائشہؓ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتی ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس شخص کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے اور وہ حافظ ہے تو وہ بزرگ فرشتوں کے ساتھ ہو گا اور اس شخص کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے اور اس کی دیکھ بھال کرتا ہے اور یہ اس پر دشوار ہوتا ہے تو اس کیلئے دو اجر ہیں۔‘‘

مستدرک حاکم(رقم:2028) میں ہے:

’’عن عبد الله بن عمرو بن العاص أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من قرأ القرآن فقد ‌استدرج ‌النبوة بين جنبيه غير أنه لا يوحى إليه، لا ينبغي لصاحب القرآن أن يحد مع من حد، ولا يجهل مع من جهل وفي جوفه كلام الله تعالى»‘‘

ترجمہ:’’حضرت عبداللہ بن عمروؓنے حضور اقدسﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ جس شخص نے کلام اللہ شریف پڑھا اس نے علوم نبوت کو اپنی پسلیوں کے درمیان لے لیا، گو اس کی طرف وحی نہیں بھیجی جاتی۔حامل قرآن کیلئے مناسب نہیں کہ غصہ والوں کے ساتھ غصہ کرےیا جاہلوں کے ساتھ جہالت کرے،حالانکہ اس کے پیٹ میں اللہ کا کلام ہے۔‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved