- فتوی نمبر: 26-100
- تاریخ: 18 جون 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > تصاویر
استفتاء
کیا یوٹیوب پر چینل بنا سکتے ہیں؟
وضات مطلوب ہےکہ:مقصود صرف چینل بنانا ہے یا اس کے ذریعے کمائی کرناہے؟
جواب :صرف چینل بنانا مقصود ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
یوٹیوب کا چینل بھی ابلاغ کا ایک ایسا ہی ذریعہ ہے جیسے رسالے ،کتابیں اور اخبار وغیرہ ہیں۔اس لیے اپنی اصل کے اعتبار سے جائز ہے تاہم اس میں درج ذیل باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
1۔ وہ کام جو شرعا ناجائز ہیں اس سے متعلق مواد چینل پر نہ رکھا جائے۔
2۔ FAKE (جھوٹ اور دھوکہ دہی پر مشتمل ) مواد نہ رکھا جائے ۔
3۔ اسلام میں میوزک حرام ہے اس لیے میوزک والی ویڈیوز نہ لگائی جائیں ۔
4۔ ہماری تحقیق کے مطابق ڈیجیٹل تصویر بھی تصویر ہی ہے اس لیے ایسی ویڈیوز نہ بنائی اور ڈالی جائیں جن میں انسانوں یا جانوروں کی تصویریں ہوں۔
5۔کسی چیز کے بارے میں ایسی مبالغہ آرائی سے کام نہ لیا جائے جیسے بہت سے لوگ کرتے ہیں کہ ایک معمولی سی بات کو بہت بڑھا چڑھا کر ظاہر کرتے ہیں تا کہ لوگ ان کے مواد کو تجسس سے دیکھیں جبکہ وہ بات اپنی وضع میں اس اہمیت کی نہیں ہوتی۔
قرآن مجید(سورۃ مائدہ،آیت:2)میں ہے:
’’ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان‘‘
صحیح بخاری(رقم:33)میں ہے:
عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:(آية المنافق ثلاث: إذا حدث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان)
در مختار(9/704)میں ہے:
’’لأن عين الكذب حرام قال: وهو الحق قال تعالى – {قتل الخراصون} [الذاريات: 10]‘‘
در مختار مع ردالمحتار(9/651)میں ہے:
’’(و) كره (كل لهو) لقوله عليه الصلاة والسلام «كل لهو المسلم حرام إلا ثلاثة ملاعبته أهله وتأديبه لفرسه ومناضلته بقوسه»
قال ابن عابدين: (قوله وكره كل لهو) أي كل لعب وعبث فالثلاثة بمعنى واحد كما في شرح التأويلات والإطلاق شامل لنفس الفعل، واستماعه كالرقص والسخرية والتصفيق وضرب الأوتار من الطنبور والبربط والرباب والقانون والمزمار والصنج والبوق، فإنها كلها مكروهة لأنها زي الكفار‘‘
مسائل بہشتی زیور(2/428)میں ہے:
’’تصویر کشی صرف اسی کا نام نہیں کہ قلم یا پینسل سے تصویر بنائی جائے یا پتھر وغیرہ کا بت تراشا جائے بلکہ وہ تمام صورتیں تصویر کشی میں داخل ہیں جن کے ذریعے تصویر بنتی ہیں خواہ وہ آلات قدیمہ ہوں یا آلات جدیدہ فوٹوگرافی اور طباعت سے ہوں یا ویڈیو اور سی ڈی وغیرہ سے ہوں۔ وجہ یہ ہے کہ آلات و ذرائع کی تخصیص کسی کام میں مقصود نہیں ہوتی اور احکام کا تعلق اصل مقصد سے ہوتا ہے۔تصویر تصویر ہے خواہ کسی بھی ذریعہ سے ہو۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved