• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

طلاق کے معاملے میں زوجین کے اختلاف کا حکم

استفتاء

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے داماد نے میری بیٹی سے کہا کہ ’’میں  زید ولد خالد فاطمہ دختر عمر تمہیں طلاق دیتا ہوں‘‘ یہ الفاظ تین مرتبہ دہرائے۔ مذکورہ صورت میں کتنی طلاقیں ہو گئی ہیں؟

بیوی کا بیان:

یہ 14 دسمبر کی بات ہے، ہماری لڑائی ہو رہی تھی تو اسی دوران انہوں نے تین دفعہ  طلاق دے دی اور کہا کہ ’’ میں  زید فاطمہ تمہیں طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں‘‘ اس وقت میں شوہر کے گھر تھی اور اس واقعہ کے دو گھنٹے بعد میں والدین کے پاس آ گئی۔

شوہر کا بیان:

 میں اس وقت  غصے میں تھا لیکن اپنے ہوش و حواس میں تھا، مجھے معلوم تھا کہ میں کیا کہہ رہا ہوں اور کیا کر رہا ہوں، اس دوران میں نے کوئی خلاف عادت کام نہیں کیا، میں نے تین مرتبہ ’’طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں‘‘ نہیں کہا، میں نے صرف یہ کہا تھا کہ  ’’ہر مرتبہ تمہارے ابو طلاق مانگتے ہیں، کہتے ہیں فاطمہ کو طلاق دو، اگر تمہیں طلاق ہی چاہئے تو پھر ٹھیک ہے جاؤ‘‘

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں بیوی کے حق میں  تینوں طلاقیں واقع ہو گئی ہیں جن کی وجہ سے  بیوی شوہر پر حرام ہو گئی ہے، لہذا اب نہ رجوع ہو سکتا ہے اور نہ صلح کی گنجائش ہے۔

توجیہ: طلاق کے معاملے میں عورت کی حیثیت قاضی کی طرح ہوتی ہے لہذا اگر وہ خود شوہر کو  طلاق دیتے ہوئے سن لے تو اس کے لیے اس پر عمل کرنا ضروری ہوتا ہے،  مذکورہ صورت میں بھی چونکہ بیوی کا دعوی یہ  ہے کہ اس نے خود شوہر کی زبان سے یہ  الفاظ سنے ہیں  کہ ’’ میں زید  فاطمہ تمہیں طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں‘‘  لہذا        بیوی کے حق میں  تینوں طلاقیں واقع ہو گئی ہیں، جن کی وجہ سے  بیوی شوہر پر حرام ہو گئی ہے۔   نیز اگرچہ شوہر نے غصے کی حالت میں یہ الفاظ کہے ہیں، لیکن غصے کی کیفیت ایسی نہیں تھی کہ  اسے معلوم ہی نہ ہو کہ وہ کیا کہہ رہا ہے اور کیا کر رہا ہے، اور نہ ہی اس سے خلاف عادت کوئی قول یا فعل سرزد  ہوا،  غصہ کی ایسی حالت میں دی گئی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved