- فتوی نمبر: 35-378
- تاریخ: 21 جون 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > علاج و معالجہ
استفتاء
جسم کی ہر قسم کی بیماری اگر اس کا علاج دم کے ذریعے سے کیا جائے مثلاً دانے نکلے ہیں ،ہڈیوں میں درد ہورہی ہے تو اس علاج کو روحانی علاج کہیں یا جسمانی؟ اور دونوں علاجوں میں فرق کیا ہے ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔ اس علاج کو جسمانی علاج کہیں گے اسے روحانی علاج کہنا درست نہیں۔
2۔ روحانی امراض کے علاج کو روحانی علاج کہیں گے اور جسمانی امراض کے علاج کو جسمانی علاج کہیں گے۔
التعریفات للجرجانی (ص:140) میں ہے:
الطب الروحاني: هو العلم بكمالات القلوب وآفاتها وأمراضها وأدوائها وبكيفية حفظ صحتها واعتدالها.
کشاف اصطلاحت الفنون والعلوم (2/1124) میں ہے:
في اصطلاح الصوفية: الطب الروحاني هو علم بكمالات القلوب وأمراضها ومداواتها وكيفية حفظ الصحة والاعتدال الجسماني والروحي للقلوب ورد الأمراض التي يمكن أن تصيب القلب
اصلاحی خطبات (2/208) میں ہے:
روحانی علاج : آج کل ایک مصیبت یہ آگئی ہے کہ تعویذ گنڈوں کا نام روحانی علاج رکھ دیا ہے تعویذ لکھوائے گنڈے لکھوائے دم درود کرا لیا بس اس کا نام روحانی علاج رکھ لیا خوب سمجھ لیجیے یہ روحانی علاج نہیں بلکہ روحانی علاج یہ ہے کہ اپنے دل کی جو بیماریاں ہیں مثلا تکبر حسد بغض عداوت وغیرہ جو انسان کے دل میں پیدا ہوتی ہے ان کے علاج کے لیے کسی شیخ کی طرف رجوع کر لیا جائے اور شیخ پھر پتہ لگاتا ہے کہ اس کے دل میں تکبر تو نہیں ہے اگر ہے تو اس کا آسان علاج اس شخص کے لیے کیا ہے پھر وہ اپنے تجربے سے مناسب حال علاج تجویز کرتا ہے اس کی بتائی ہوئی تجویز پر عمل کرنا یہ بیعت کی حقیقت ہے۔
ملفوظات حکیم الامت (8/335) میں ہے :
عملیات بھی دوا کی طرح ایک ظاہری تدبیر ہے ۔ ۔۔۔ عوام عملیات کو ظاہری تدبیر سمجھ کر نہیں کرتے بلکہ آسمانی اور ملکوتی چیز سمجھ کر کرتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے عملیات اور تعویذ گنڈوں کے متعلق عوام کے عقائد نہایت برے ہیں ۔
آپ کے مسائل اور ان کا حل (2/495) میں ہے :
بعض لوگ تعویذ کو “روحانی عمل” سمجھتے ہیں، یہ خیال بھی قابل اصلاح ہے، روحانیت اور چیز ہے اور تعویذ وغیرہ محض دنیوی تدبیر و علاج ہے، اس لئے جو شخص تعویذ کرتا ہو اس کو بزرگ سمجھ لینا غلطی ہے۔
عملیات وتعویذات کے شرعی احکام، للتھانوی (ص:21) میں ہے:
عملیات و تعویذات اگر صحیح اور جائز ہوں تب بھی (ان کی حیثیت) دنیاوی اسباب اور طبی (یعنی علاج و معالجہ کی) تدبیر کی طرح ہے۔
طبّی دواؤں کی طرح یہ بھی (ایک دوا اور علاج) ہے، مؤثرِ حقیقی نہیں، نہ اس پر اثر مرتب ہونے کا اللہ و رسول کی طرف سے حتمی وعدہ ہوا ہے اور نہ اللہ کے نام اور کلام کا یہ اصلی اثر ہے۔ (حاصل یہ کہ) جھاڑ پھونک (عملیات و تعویذات) دوسرے جائز کاموں کی طرح (ایک جائز کام) ہے اگر اس میں کوئی مفسدہ شامل ہوجائے یا جواز کی شرط نہ پائی جائے تو ناجائز اور معصیت ہے۔
ملفوظات حکیم الامت (4/204) میں ہے:
ایک خرابی اس میں یہ دیکھی گئی کہ اکثر لوگ تعویذ گنڈہ کرنے والے کی بزرگی کے معتقد ہوجاتے ہیں خصوص جس کے تعویذ گنڈوں سے نفع ہوجاتا ہے حالانکہ بزرگی سے اس کو کوئی تعلق نہیں یہ تو ایسا ہی ہے جیسے کسی طبیب کے کسی نسخہ سے مرض کو شفاء ہوجائے اور اس کو بزرگ خیال کرنے لگیں مگر تعویذ دینے والے کے معتقد ہیں نہ معلوم اس میں اور اس میں کیا فرق کرتے ہیں۔ میرے نزدیک تو کوئی فرق نہیں دنیوی فن ہیں۔ وجہ فرق کی صرف ایک سمجھ میں آتی ہے کہ طبیب کے علاج کو امر دینوی سمجھتے ہیں اور عامل کے علاج کو امر دینی خیال کرتے ہیں اور عوام کا یہ خیال اس وجہ سے ہے کہ عملیات کا امور عالیہ قدسیہ سے تعلق ہے نیز اس کے علاوہ بھی ان تعویذ گنڈوں کے متعلق اکثر لوگوں کے عقائد بہت ہی خراب ہیں جس کا سبب جہل اور حقیقت سے بے خبری ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved