• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

عورت کا فارم پر اپنی تصویر لگانے کا حکم

استفتاء

1)گورنمنٹ کے اداروں  میں  سلائی اور کمپیوٹر  کا کورس کرنے کےلیے  فی میل کی تصویر فارم پر لگتی ہے کیایہ جائز ہے یانہیں ؟

2)جبکہ  ٹیچر بھی میل ہوتے ہیں کیا باپر دہ سٹوڈنٹس    یہ کورس کرسکتی ہیں یانہیں ؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

(1اگر تصویر لگائے  بغیر  مذکورہ کورس میں داخلہ نہیں ملتا  تو بہتر  یہ ہے کہ داخلہ نہ لیاجائے  لیکن اگر کورس ضروری  ہوتو ضرورت کی وجہ سےعورت  فارم پر  اپنی تصویر لگا سکتی ہے ۔

2) اگر  کورس کرنے کی عورت  کو ضرورت  ہےتوپر دہ  کی صورت میں یہ کورس کرسکتی ہےلیکن ساتھ میں  آپس  کی بے تکلفی  سے بھی احتراز کرے  ۔

فتح القدير (1/ 343)میں ہے:

وتعلم المرأة من المرأة أحب من تعلمها من الأعمى.

امد اد الاحکام (4/406)میں ہے :

سوال  : زید  کے روبرو نامحرم عورت کے آنے  سے دل میں بد خیالات  پیدانہ  ہوتے  ہوں  اور فتنہ فساد  کا کچھ اندیشہ نہ ہو تو زید   کو اپنی رشتہ دار نامحرم عورتوں  کو کتاب  تعلیم الدین، بہشتی زیور  واصلاح الرسوم  پڑھانا یا سنانا  جائزہے یا کہ بدعت  ہے ؟

جواب : نامحرم عورت کو کتاب پڑھانے کے لیے  عورت  ہی بہتر  ہے مرد کو  نہ پڑھانی  چاہیئے  اور اگر مجبوری ہو تو خلوت میں ہر گز  نہ پڑھائے  بلکہ عورت کے عزیزوں کے سامنے  پڑھائے اور پڑھنے والی  پر دہ میں ہو نی  چاہیئے۔

کفایت المفتی(9/237)میں ہے:

سوال   :مسلمان  خواہ عالم ہو یا جاہل امیر ہو یا غریب اپنی تصویر کھنچوا سکتا ہے یا نہیں ؟

جواب :  تصویر  کھینچنا اور کھنچوانا منع ہے  کھنچوانا  اگر کسی ضرورت پر مبنی ہو مثلاً پاسپورٹ کے لئے تو مباح ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved