• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

تقسیمِ وراثت کی ایک صورت

استفتاء

اگر کوئی بیوہ انتقال کرجائے اور اس کے والدین حیات نہ ہوں اور اس کی اولاد میں سے صرف دوبیٹے حیات ہوں اور بیٹی کا انتقال اپنی والدہ سے پہلے ہوچکا ہو(البتہ فوت شدہ بیٹی کے بچے موجود ہوں ) اور اس بیوہ کی ملکیت میں کچھ رقم ہو تو وہ رقم اس بیوہ عورت کے بعد صرف بیٹوں کے درمیان تقسیم ہوگی یا جو بیٹی انتقال کرگئی ہو اس کی اولاد کا بھی حصہ ہوگا؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں رقم صرف بیٹوں کے درمیان برابر برابرتقسیم ہوگی ، بیٹی کے ورثاء کا اس رقم میں کچھ حق نہ ہوگا،لیکن بیٹے اپنی خوشی سے کچھ دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved