• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

میراث کی ایک صورت کا حکم

استفتاء

ایک خاندان میں باپ کی وفات ہونے کے2ماہ  بعداس کے بیٹے کی وفات ہوئی اور ماں زندہ ہے، بیٹے کی دو شادیاں تھیں، پہلی بیوی سے تین بچے ہیں ،ایک بیٹا اور دو بیٹیاں اور پہلی بیوی کوشوہر نے  طلاق دے دی تھی اور طلاق کے بعد دوسری شادی کی  تھی جس سے کوئی اولاد نہیں ہے سوال یہ ہے کہ باپ کی وراثت بیٹے کے بچوں اور بیوی کے درمیان کس طرح تقسیم ہوگی ؟

باپ کی کل 5 اولادیں تھیں ،تین بیٹے اور دوبیٹیاں ، تین بیٹوں میں  سےایک بیٹے کا ان کے بعد انتقال  ہوا ، اب دو بیٹے اور دو بیٹیاں اور بیوی موجود  ہے جبکہ والد کے والدین ان سے پہلے فوت ہوگئے تھے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں باپ کی وراثت کے کل 3072 حصے کیے جائیں گے، جن میں سے 672 حصے اس کے ہربیٹے کو اور 336حصے ہربیٹی کو ،اور 496 حصے اس کی بیوی کو ملیں گے ،اور 84حصے اس   کےفوت شدہ بیٹے کی بیوی کے ہونگے اور 238 حصےفوت شدہ بیٹے کے بیٹے  کو  ملیں گے اور 119 حصے فوت شدہ بیٹے  کی ہر  بیٹی کو ملیں گے۔

نوٹ: بیٹے کی مطلقہ بیوی کا کوئی حصہ نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved