- فتوی نمبر: 26-328
- تاریخ: 01 جولائی 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
مسئلہ یہ ہے کہ میرے والد زید کا انتقال سن 2008میں ہواہے جن کےورثاءمیں ایک بیوی 6 بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ والد کےوالدین ان سےپہلے فوت ہوئے ہیں ۔انکے بعد ایک بیٹے کا (یعنی میرے بھائی)کا انتقال ہوگیا جن کے ورثاءمیں بیوی ،ماں ، دوبیٹیاں، 5بھائی اور ایک بہن ہیں ۔ پھر ان کے بعد زید کی زوجہ (یعنی میری والدہ)کا انتقال ہوگیا جن کے ورثاءمیں 5بیٹے اور ایک بیٹی ہیں جبکہ والدہ کے والدین ان سے پہلے فوت ہوچکے ہیں۔زید کےکل اثاثہ جات 20 مرلےمکان 21مرلےپلاٹ اور 4مرلےمکان ہیں۔ مذکورہ بالا نقشے کے مطابق وراثت کیسے تقسیم ہوگی۔
نوٹ:زوجہ زید مرحوم کو الگ حق مہر میں4مرلےمکان ملا ہے۔جوکہ مرحوم کے کل ترکے کے علاوہ ہے۔اس طرح زوجہ زید کو کل ترکے کا1/8حصہ بھی مل جائیگا۔ اورمرحوم کے بیٹے کےترکے میں بھی حصہ ملیگا،اس طرح زوجہ زید کےحصے میں کل مندرجہ ذیل اثاثہ جات شامل ہونگے،(4مرلے مکان+خاوند کی وراثت میں1/8حصہ +فوت شدہ بیٹے کی وراثت میں حصہ (یہ کل اثاثہ جات پانچ بھائیوں اورایک بہن میں تقسیم ہو جائیگا۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں کل ترکےکو 13728حصوں میں تقسیم کیا جائے گا جس میں ہرہربیٹےکو2230اوربیٹی کو1115اور بہو کو231اور فوت شدہ بیٹےکی ہرہربیٹی کو616حصے دئیے جائیں گے۔
نوٹ :زید کی زوجہ کوبطور مہر ملنے والا مکان زوجہ زید کے فوت ہونے کے بعدجوبیٹے اور بیٹی زندہ تھے صرف ان کے درمیان ایک اور دوکی نسبت سے تقسیم ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved