• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

رمضان کی فضلیت سے متعلق ایک روایت کا ترجمہ اور حکم

استفتاء

عنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قال : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ” إِذَا كَانَ أَوَّلُ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ فُتِحَتْ أَبْوُابُ السَّمَاءِ فَلَا يُغْلَقُ مِنْهَا بَابٌ حَتَّى يَكُونَ آخِرَ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ ، فَلَيْسَ مِنْ عَبْدٍ مُؤْمنٍ يُصَلِّي فِي لَيْلَةٍ مِنْهَا ، إِلَّا كَتَبَ اللهُ لَهُ أَلْفًا وَخَمْسَ مِائَةِ حَسَنَةٍ بِكُلِّ سَجْدَةٍ ، وَبَنَى لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ مِنْ يَاقُوتَةٍ حَمْرَاءَ ، لَهَا سِتُّونَ أَلْفَ بَابٍ ، لِكُلِّ بَابٍ مِنْهَا قَصْرٌ مِنْ ذَهَبٍ مُوَشَّحٌ بِيَاقُوتَةٍ حَمْرَاءَ ، فَإِذَا صَامَ أَوَّلَ يَوْمٍ مِنْ رَمَضَانَ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ إِلَى مثل ذَلِكَ الْيَوْمِ ، وَمَنْ شَهِدَ رَمَضَانَ اسْتَغْفَرَ لَهُ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ ، مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ إِلَى أَنْ تُوَارَى بِالْحِجَابِ ، وَكَانَ لَهُ بِكُلِّ سَجْدَةٍ سَجَدَهَا فِي شَهْرِ رَمَضَانَ بِلَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ شَجَرَةٌ يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا خَمْسَ مِائَةِ عَامٍ ” . وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ، حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى السَّمَرْقَنْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَنْظَلِيُّ ، حَدَّثَنَامُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : سَبْعِينَ أَلْفَ بَابٍ بَدَلَ سِتِّينَ ، وَزَادَ ” وَكَانَ لَهُ بِكُلِّ يَوْمٍ يَصُومُهُ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ قَصْرٌ لَهُ أَلْفُ بَابٍ مِنْ ذَهَبٍ ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ : مِائَةِ عَامٍ “

حدیث کا ترجمہ مطلوب ہے ۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

یہ روایت سند کے اعتبار سے ضعیف ہے اوریہ شعب الایمان للبیھقی( رقم الحدیث 3635)، الترغیب و الترہیب للمنذری(2/57) اورالترغیب والترہیب للاصفہانی(1/180) میں موجود ہے۔

حدیث کا ترجمہ یہ ہے   :

جب رمضان کی پہلی رات آتی ہے تو آسمان کے دورازے کھول دیئےجاتے ہیں اور رمضان کی آخری رات تک کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا ۔رمضان کی کسی رات میں جب کوئی مومن بندہ  نماز ادا کرتا ہے تو یقینا اللہ تعالی اس کے ہر سجدہ کے عوض پندرہ سو نیکیاں  لکھ دیتا ہے اور جنت میں سرخ یاقوت کا ایک ایسا گھر تیار کرتا ہے  جس کے ساٹھ دروازے ہیں اور ہر دروازے کے  سامنے سونے کا محل ہے جو سرخ یاقوت سے مزین کیا گیا ہے ۔اور جب کوئی رمضان کا پہلا روزہ رکھتا ہے تو اس کے اس دن سے پہلے تک کے تمام گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں ۔جو شخص رمضان کا مہینہ پالے توصبح کی نماز سے لے کر اندھیرا (شام) ہونے تک ستر ہزار فرشتے  اس کے لئے ہرروز استغفار کرتے ہیں اور رمضان میں کسی بھی وقت دن یا رات میں سجدہ کرنے کے عوض جنت میں اس کے لئے اس قدر بڑا درخت لگادیا جاتا ہے جس کے سایہ میں پانچ سو سال  تک گھوڑسوار بھاگ سکتا ہے ۔

یہ روایت ایک دوسری سند ” وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ، حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى السَّمَرْقَنْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَنْظَلِيُّ ، حَدَّثَنَامُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ ” سے بھی منقول ہے لیکن اس میں  ساٹھ ہزار دروازوں کی بجائے ستر ہزار دروازوں کا تذکرہ ہے اور مزیدیہ اضافہ  ہے کہ : “اسے رمضان کے ہر روزہ کے عوض  ایسا محل ملے گا جس کے ایک ہزار سونے کے دروازے ہوں گے” اور اس روایت کے آخر میں (گھوڑ سوار کے پانچ سو سال تک بھاگتے رہنے کی بجائے) سو سال کا ذکر ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved