- فتوی نمبر: 36-13
- تاریخ: 02 جولائی 2026
- عنوانات: حدیثی فتاوی جات > تحقیقات حدیث
استفتاء
مفتی صاحب میں نے سنا ہے کہ “جو تکبر سے پیش آتا ہے اس کے ساتھ تکبر سے پیش آنا صدقہ ہے ” اس بارے میں وضاحت فرما دیں کیا یہ بات صحیح ہے؟کیا یہ حدیث پاک ہے ؟ اگر حدیث پاک ہے تو دلیل بھی عطا فرما دیں ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
یہ بات فی نفسہٖ ٹھیک ہے اور قرآن پاک کی مندرجہ ذیل آیت سے اس کے صحیح ہونے کا اشارہ ملتا ہے تا ہم اس کا حدیث ہونا ثابت نہیں۔
سأصرف عن آياتي الذين يتكبرون في الأرض بغير الحق …… الخ [الأعراف: 146]
ترجمہ: جو لوگ زمین میں ناحق تکبر کرتے ہیں میں عنقریب ان کو اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا۔
روح المعانی (5/59) میں ہے:
وقيل: المراد أنهم يتكبرون على من لا يتكبر كالأنبياء عليهم السلام لأنه الذي يكون بغير حق، وأما التكبر على المتكبر صدقة، وأنت تعلم أن هذا صورة تكبر لا تكبر حقيقة فلعل مراد هذا القائل: إن التقييد بما ذكر لاظهار أنهم يتكبرون حقيقة.
تفسیر الرازی (15/366) میں ہے:
واعلم أنه تعالى ذكر في هذه الآية قوله: بغير الحق لأن إظهار الكبر على الغير قد يكون بالحق فإن للمحق أن يتكبر على المبطل وفي الكلام المشهور التكبر على المتكبر صدقة.
بیان القرآن للتھانوی(4/40) میں ہے:
[ قوله تعالى :سأصرف عن آیاتی الذین یتکبرون فی الارض بغیر الحق] تکبر بغیر حق یہ ہے کہ غیر متکبر کے مقابلے میں تکبر کرے اور متکبر کے مقابلے میں تکبر کرنا یہ بحق ہے اور حقیقت میں وہ صورتاً تکبر ہے حقیقتاً نہیں۔
معارف القرآن مفتی شفیع صاحب(4/66) میں ہے:
اس میں بغیر حق سے اشارہ اس بات کی طرف ہےکہ تکبر کرنے والوں کے مقابلے میں تکبر کرنا حق ہے وہ برا اور گناہ نہیں کیونکہ وہ صرف صورت کے اعتبار سے تکبر ہوتا ہے حقیقت کے اعتبار سے نہیں جیسا کہ مشہور ہے التکبر مع المتکبرین تواضع.
کشف الخفاء للعجلونی ،ت: ۱۱۶۲ھ (1/280) میں ہے:
(التكبرُ على المتكبرِ صدَقة) نقل القاري عن الرازي أنه كلام، ثم قال لكن معناه مأثور.انتهى.
والمشهور على الألسنة حسنة بدل صدقة
الاسرار المرفوعہ فی الاخبار الموضوعہ (ص:163) میں ہے:
التكبر على المتكبر صدقة ،قال الراوي هو كلام مشهور قلت لكن معناه مأثور
کشف الخفاء للعجلونی ،ت: ۱۱۶۲ھ (2/185) میں ہے:
وقال في المقاصد هو كلام غير واحد من السلف: فروى الدينوري في المجالسة عن الأصمعي قال قال رجل ما رأيت ذا كبر قط إلا تحول داؤه في، يريد أني أتكبر عليه، ويروى عن الشافعي في هذا المعنى أيضا، وقال النجم نقل القشيري في الرسالة عن يحيى بن معاذ أنه قال: التكبر على من تكبر عليك بمالِهِ تواضُعٌ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved