• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

اونٹنی کا دودھ اور پیشاب پینا اور بیچنا

استفتاء

مفتی صاحب میرا دوست سعودی عرب سے سوال پوچھ رہا ہے کہ یہاں اونٹنی کا دودھ اور اونٹ کاپیشاب فروخت ہوتا ہے جو کہ لوگ پیتے ہیں ، اس کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

اونٹنی کا دودھ پینا اور بیچنا بالاتفاق  جائز ہے ۔

البتہ اونٹ یا اونٹنی کے پیشاب کے پینے کے بارے میں اہل علم کا اختلاف ہے،امام ابو حنیفہ ؒ کے نزدیک اونٹنی کاپیشاب نجاست ہے لہذا اس کاعام حالات میں علاج معالجے کے لئے  پینا بھی جائز نہیں ،امام احمد بن حنبلؒ کے نزدیک نجاست نہیں، بلکہ پاک ہے اس لئےعام حالات میں بھی اس کا  پینا جائز ہے ۔

(نوٹ: امام احمد بن حنبل ؒکی ایک روایت امام ابوحنیفہؒ کے قول کی طرح نجاست ہونے کی بھی ہے لہذا اس روایت کے مطابق جو حکم امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک ہے وہی حکم امام احمد بن حنبل ؒ کے نزدیک ہوگا)

امام ابو یوسف ؒ کے نزدیک اونٹنی کا پیشاب نجاست تو ہے لیکن علاج معالجے کے لئے پینا جائز ہے۔

باقی رہی بات اس کے فروخت کرنے کی ؟ تو جن علاقوں میں اس کی باقاعدہ خرید وفروخت کاعر ف ہو، اور لوگوں میں اس کا تمول بھی پایا جائے (جیسا کہ اردن  کے بارے میں ہمیں معلوم ہوا ہے) تو وہاں اس کی بیع جائز ہے،اورجہاں اس کی باقاعدہ بیع کا عرف نہ ہو جیسا کہ ہمارے علاقوں میں اونٹنی کے پیشاب کی بیع کا رواج نہیں ہے وہاں اس کی خریدوفروخت جائز نہیں۔

توجیہ:کسی چیز کی خریدو فروخت کی اولین شرط یہ ہے کہ وہ چیز مال  ہواور عرفا اسکی خریدوفروخت بھی ہوتی ہو ، اورکسی چیز کی خرید وفروخت  کے شرعاجائز ہونے کے بارے میں فقہاء کا ضابطہ ہے کہ خرید وفروخت کے جواز کا دارو مدار اس سے شرعافائدہ اٹھانے کے جواز پر ہے ، یعنی وہ متقوم بھی ہو۔

نوٹ: امام ابوحنیفہؒ کے علاوہ باقی ائمہ ثلاثہ کے نزدیک بیع کے عدم جواز کی ایک علت نجاست بھی ،جبکہ احناف کے نزدیک نجاست بیع کے عدم جواز کی علت نہیں ہے۔

لہذا جن علاقوں میں اونٹنی کے پیشاب کی خریدوفروخت عرفا ہورہی ہے (یعنی اونٹنی کا پیشاب جہاں مال سمجھاجاتا ہے)ان علاقوں میں اس کی بیع وشراء جائز ہے اور جن علاقوں میں اس کی خریدوفروخت کا عرف نہ ہو وہاں اس کی بیع وشراء جائز نہیں۔

شرح وقایہ ((45/4میں ہے:

واما بول الابل فحرام عند ابى حنيفة وعند ابى يوسف يحل به التداوى لحديث العرنيين وعند محمد يحل مطلقا لانه لو كان حراما لايحل به التداوى ، قال رسول الله  ما وضع شفاؤكم فيما حرم عليكم ، ابو يوسف يقول لايبقى حراما للضرورة ، وابو حنيفة يقول الاصل فى البول الحرمة وهو عليه السلام قد علم شفاءالعرنيين وحيا،واما فى غيره فالشفاء فيه غير معلوم فلا يحل۔

الشرح الكبير لابن قدامہ(243/1) میں ہے:

(وبول ما يؤكل لحمه وروثه ومنيه طاهر وعنه انه نجس)

اختلفت الرواية في بول ما يؤكل لحمه وروثه فروي عن أحمد أنه طاهر وهو ظاهر كلام الخرقي وهو قول عطاء والنخعي والثوري ومالك ورخص في أبوال الغنم الزهري ويحيى الانصاري، قال ابن المنذر: أجمع كل من نحفظ عنه من أهل العلم على إباحة الصلاة في مرابض الغنم الا الشافعي فانه اشترط أن تكون سليمة من أبعارها وأبوالها،

البحر الرائق (5/ 277)میں ہے:

وفي الْكَشْفِ الْكَبِيرِ الْمَالُ ما يَمِيلُ إلَيْهِ الطَّبْعُ وَيُمْكِنُ ادِّخَارُهُ لِوَقْتِ الْحَاجَةِ

حاشیۃ ابن عابدين علی الدر (7/8)میں ہے:

مطلب في تعريف المال والملك والمتقوم

قوله ( مالا أو لا )المراد بالمال ما يميل إليه الطبع ويمكن ادخاره لوقت الحاجة

حاشیۃ ابن عابدين علی الدر (7/10)میں ہے:

قوله ( مرغوب فيه ) أي ما من شأنه أن ترغب إليه النفس وهو المال ولذا احترز به الشارح عن التراب والميتة والدم فإنها ليست بمال فرجع إلى قول الكنز والملتقى مبادلة المال بالمال

حاشیۃ ابن عابدين علی الدر (7/8)میں ہے:

   ‌والمالية ‌تثبت ‌بتمول ‌الناس كافة أو بعضهم، والتقوم يثبت بها وبإباحة الانتفاع به شرعا؛ فما يباح بلا تمول لا يكون مالا كحبة حنطة وما يتمول بلا إباحة انتفاع لا يكون متقوما كالخمر، وإذا عدم الأمران لم يثبت واحد منهما كالدم بحر ملخصا عن الكشف الكبير.

وحاصله أن المال أعم من المتمول؛ لأن المال ما يمكن ادخاره ولو غير مباح كالخمر، والمتقوم ما يمكن ادخاره مع الإباحة، فالخمر مال لا متقوم

ہدایہ مع فتح القدیر(7/115)میں ہے:

ولنا “أنه عليه الصلاة والسلام نهى عن بيع الكلب إلا كلب صيد أو ماشية” ولأنه منتفع به ‌حراسة ‌واصطيادا فكان ما لا يجوز بيعه، بخلاف الهوام المؤذية؛ لأنه لا ينتفع بها، والحديث محمول على الابتداء قلعا لهم عن الاقتناء ولا نسلم نجاسة العين، ولو سلم فيحرم التناول دون البيع۔

قال (ولو سلم فنجاسة عينه توجب حرمة أكله لا منع بيعه) بل منع البيع بمنع الانتفاع شرعا، ولهذا أجزنا بيع السرقين والبعر مع نجاسة عينهما لإطلاق الانتفاع بهما عندنا، بخلاف العذرة لم يطلق الانتفاع بها فمنع بيعها، فإن ثبت شرعا إطلاق الانتفاع مخلوطة بالتراب ولو بالاستهلاك كالاستصباح بالزيت النجس كما قيل جاز بيع ذلك التراب التي هي في ضمنه، وبه قال مشايخنا. وإنما امتنع بيع الخمر لنص خاص في منع بيعها.

تکملہ فتح المہم(1/353)میں ہے:

وذكر النووي و الحافظ في الفتح عن العلماء أن العلة في منع بيع الميتة والخمر والخنزير النجاسة فيتعدى ذلك الى كل نجاسة ولذلك ذكر العينى عن القرطبي أن الشافعية والمالكية لايجيزون بيع ما كان محرما نجسا فيه منفعة كالزبل والعذرة وهو مذهب أحمد كما في المغني لابن قدامة

واما ابو حنيفة والكوفيون والطبري رحمهم الله ، فقد ذهبوا الى جواز بيع السرقين والعذرة كما فى عمدة القاري ، ورد المحتار ، وكل ما فيه منفعة مباحة ، لان  مدار حلة البيع ليس على طهارة المبيع عندهم وانما مداره على كونه منتفعا به فى صورة ما ، فكل ما كانت فيه منفعة مباحة جاز بيعه ، والعلة فى تحريم الميتة والخنزير والخمر حرمة الانتفاع بهذه الاشياء.

ثم ان سائر اجزاء الخنزير نجسة لا يحل الانتفاع بها فى صورة ما ، ولكن اجاز فقهاء الحنفية استعمال شعوره للخرز للضرورة ، فان ذلك العمل لا يتاتى بدونه ، وذكر صاحب الهداية فى باب البيع الفاسد انه لا يجوز بيعها مع جواز الانتفاع بها لانها توجد مباحة الاصل ، .فلا ضرورة الى البيع ، ولكن قال الفقيه ابو الليث  فلو لم يوجد الا بالشراء جاز شراؤه لشمول الحاجة اليه، ذكره ابن الهمام فى فتح القدير وزاد البابرتي فى العناية  لكن ثمن لايطيب للبائع.

امداد الاحکام (3/371)میں ہے:

سوال:کیا فرماتے ہیں علماء دین اس بارے میں کہ ایک مقام شہر ساگر میں ایّام سردی میں چار ماہ تک پانچ سو جانور ہر روز ذبح ہوتے ہیں ۔ گائے بیل ،بھینس وغیرہ ۔اس خون کا ٹھیکہ ایک مسلمان کے پاس ہے۔ اس خون کو چمار اٹھا کر لاتے ہیں اور وہی چمار اس کو جلاتے ہیں وہ جل کر مثل خاک کے ہوجاتا ہے۔ پھر اس کو ولایت فروخت کرنے کے لئے روانہ کرتے ہیں اس کا بیوپار مسلمانوں کے لئے جائز ہے یا نہیں؟

الجواب یہ بیوپار جائزہے۔

قال فی الدّر: کما بطل بیع صبی لا یعقل ومجنون  وبول ورجیع آدمی لم یغلب عليه التراب فلو مغلوبًا به جاز کسرقین وبعر اھ۔ قال الشامی والمراد انه یجوز بیعها ولو خالصین اھ۔ وفی البحر عن السراج ویجوز بیع السرقین والبعر والانتفاع به والوقودبه۔(ج؍5،ص؍145)قال فی ص؍106: لم یذکروا حکم دودة قز: أما إذا کانت حية فینبغی جریان الخلاف الآتی إلی أن قال وقد ذکر سیدی عبد الغنی النابلسی فی رسالة أن بیعها باطل  وأنه لا یضمن متلفها، لأنها غیر مال قلت وفيه أنه من أعزّ الأموال الیوم  ویصدق عليها تعریف المال المتقدم ویحتاج إليها الناس کثیرا فی الصباغ وغیره  فینبغی جواز بیعها کبیع السرقین والعذرة المختلطة بالتراب إلی ان قال وسیاتی ان جواز البیع یجوز مع حل الانتفاع وانه یجوز بیع العلق للحاجة مع انه من الهوام وبیعها باطل وکذا بیع الحیات للتداوی اھ۔ قال الفقيه ابواللیث ان کانت الاساکفة لایجدون شعر الخنزیر الاَّ بالشراء ینبغی ان یجوزلهم الشراء اھ۔(حاشية الهدايه  ٓخرین:ص؍39)

ان اقوال کا مقتضا ء یہ ہے کہ اگر کسی وقت خون کی بھی قیمت عرفاً ہوجائے تو اس کی بیع وشراء صحیح ہے اور خون کی راکھ تو پاک ہے اس کی بیع صحیح ہونے میں کوئی شبہ نہیں لیکن اس میں اشکال صرف اتنا ہے کہ خون فی نفسہٖ مباح الاصل ہے جس کا قبضہ پہلے اس پر ہوجائے گا۔وہ اس کا مالک ہوجائے گا تو جو چمار اس کو جمع کر کے لاتے ہیں وہ اس کے مالک ہوجاتے ہیں مگر در مختار کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ مباح الاصل سے اجار ہ اس شرط سے جائز ہے کہ کام کا وقت مقرر کردیا جائے ۔اس صورت میں مزدور کی ملک میں وہ مباح داخل نہ ہوگا۔استاجره لیصید له او یحتطب له فان وقت لذلک وقتاً جاز ذلک والا لا فلو لم یوقت وعین الحطب فسد قال الشامی :قوله والاّ لا ای والحطب للعامل ط۔(ج؍5،ص؍59)

لہٰذا چماروں کو جب اس کا کے لئے اجیر مقرر کیا جائے تو یہ لازم ہے کہ وقت کے موافق اجرت مقرر کی جائے البتہ اگر ذبح کے خون پر پہلے خود قبضہ کر لیا جائے اس کے بعد چماروں کو اس کے اٹھانے اور جلانے پر اس طرح اجیر مقرر کیا جائے کہ اگر اس مقدار معین خون کو تم اٹھالاؤ اور جلادوتو یہ اجرت ملے گی۔یہ صورت جائز ہے۔ قال فی الدّر :الاّ اذاعیّن الحطب وهوا ی الحطب ملكه فیجوز مجتبی وبه یفتی اھ۔ واللّه اعلم

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved