• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

زانی اور مزنیہ کی اولاد کے آپس میں نکاح کا حکم

استفتاء

شادی شدہ مرد اور شادی شدہ  عورت کے آپس میں ناجائز تعلقات رہے ہیں اوراب فاعل کی اولاد کا مفعول کی اولاد کے ساتھ نکاح جائز ہے یا نہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

کسی مرد و عورت کے ناجائز تعلقات اگر اس حد تک بھی پہنچ جائیں کہ جس سے حرمتِ مصاہرت ثابت ہوجاتی  ہے تو حرمتِ مصاہرت خود اس  مرد وعورت کے لیےہوتی ہے یعنی وہ مرد خود اس عورت کی ماں، بیٹی سے نکاح نہیں کرسکتا  یا وہ عورت اس مرد کے باپ یا بیٹے سے نکاح نہیں کرسکتی۔  دونوں کی اگلی نسل میں باہم حرمتِ مصاہرت  ثابت نہیں  ہوتی کہ ان کی اولادیں بھی آپس میں نکاح نہ کرسکیں۔ لہٰذا مذکورہ صورت میں اولاد کا باہم نکاح جائز ہے۔

البحر الرائق (3/108) میں ہے:

ويحل لاصول الزانى و فروعه أصول المزني به‍ا وفروعها.

مجمع الانہر (1/327) میں ہے :

لوزنى بامرأة حرمت عليه أصولها وفروعها وحرمت المزنية على اصوله وفروعه ولا تحرم اصولها وفروعها على ابن الواطی وأبيه.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved