- فتوی نمبر: 36-48
- تاریخ: 11 جولائی 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > متفرقات حظر و اباحت
استفتاء
1۔ہمارے تبلیغی بھائیوں کا ہفتے میں ایک دن کسی مسجد میں تبلیغی مشورہ عصر کی نماز کے بعد ہوتا ہے عصر کی نماز سے فارغ ہوکر سارے ساتھی کھڑے ہوکر آپس میں مصافحہ یا معانقہ کرتے ہیں تو اس پر ایک مسجد کے امام صاحب نے کہا کہ نماز کے بعد مصافحہ کرنا یہودیوں کا طریقہ ہے۔کیا امام صاحب کی یہ بات درست ہے؟
2۔دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ مسجد کا پانی قریبی دوکاندار لے جاتے ہیں کیا ایسا کرنا درست ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔اگر نمازی آپس میں نماز سے پہلے مل چکے ہوں پھر نماز کے بعد دوبارہ کھڑے ہو کر مصافحہ کریں تو یہ مکروہ ہے اور روافض کا طریقہ ہے لیکن اگر ان کی نماز سے پہلے ملاقات نہ ہوئی ہو بلکہ اب ہفتہ بعد ایک دوسرے سے ملاقات کے وقت مصافحہ اور معانقہ کریں تو منع نہیں ہے۔
2۔ایسا کرنا درست ہے کیونکہ آجکل چندہ دہندگان کی طرف سے عرفاً اس کی اجازت ہوتی ہے۔
شامی (6/371) میں ہے:
ونقل في تبيين المحارم عن الملتقط أنه تكره المصافحة بعد أداء الصلاة بكل حال، لأن الصحابة – رضي الله تعالى عنهم – ما صافحوا بعد أداء الصلاة، ولأنها من سنن الروافض اهـ ثم نقل عن ابن حجر عن الشافعية أنها بدعة مكروهة لا أصل لها في الشرع ………. وقال ابن الحاج من المالكية في المدخل إنها من البدع، وموضع المصافحة في الشرع، إنما هو عند لقاء المسلم لأخيه لا في أدبار الصلوات فحيث وضعها الشرع يضعها فينهى عن ذلك ويزجر فاعله لما أتى به من خلاف السنة اهـ
تنقیح الفتاویٰ الحامدیہ (1/212) میں ہے:
نعم؛ لأن للناظر التصرف في الوقف بما فيه الحظ والمصلحة وحيث عرض المتولي المشروط له النظر
ہندیہ (5/341) میں ہے:
وحمل ماء السقاية إلى أهله إن كان مأذونا للحمل يجوز وإلا فلا كذا في الوجيز للكردري في المتفرقات.
فتاویٰ محمودیہ ( 3/ 144) میں ہے :
الجواب :مصافحہ کے لیے شریعت نے ابتدائے ملاقات کا وقت تجویز کیا ہے کسی نماز کے بعد اس کا وقت تجویز کرنا شرعا بے دلیل ہے غلط ہے بدعت مکروہہ ہے اور طریقہ روافض ہے۔
فتاویٰ رحیمیہ ( 10 / 123 ) میں ہے :
الجواب : مصافحہ اور معانقہ اپنے طریقے پر مسنون ہے سلام مصافحہ معانقہ داخل عبادت ہیں عبادت صاحب شریعت کے حکم کے مطابق ادا کی جائے تب ہی عبادت میں شمار ہوگی اور ثواب کے حقدار ہوں گے ورنہ بدعت ہو جائے گی اور بجائے ثواب کے عذاب ہوگا اسی طرح مصافحہ اور معانقہ کا حکم ہے عید وغیرہ نمازوں کے بعد اس کا التزام کرنا بدعت ہے۔
فتاویٰ مفتی محمود ( 10 / 440 ) میں ہے
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ احاطہ مسجد میں مسجد کے نام پر ایک نلکا لگایا گیا ہے اس نلکے سے مسلمانوں کو اپنے گھروں میں پانی لے جا کر استعمال کرنا یا بازار میں دکانوں میں رکھ کر استعمال کرنا تاکہ عوام لوگ پیتے رہیں جائز ہے یا نہیں؟
جواب: اگر دوسرا کنواں قریب نہ ہو تو ضرورت کے وقت پانی لے جانا جائز ہے لیکن جب مسجد کی تنظیف و تطہیر میں اس سے کوئی حرج واقع نہ ہو۔
فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ( 14 / 193 ) میں ہے :
سوال : جو کنواں اندرون حدود مسجد میں واقع ہے اس میں سے عام طور پر ہندو مسلمان پانی بھر سکتے ہیں یا نہیں بنانے والا روک سکتا ہے یا نہیں اور مسجد کے غسل خانے میں ہر شخص نمازی اور بے نمازی غسل کر سکتا ہے یا نہیں؟
جواب : اس چاہ مسجد سے پانی بھر سکتے ہیں اور کنواں بنانے والے کو کچھ حق روکنے کا نہیں ہے اور غسل خانے میں سب استنجاء طہارت اور غسل وغیرہ کر سکتے ہیں۔
فتاویٰ عثمانی ( 2 / 521 ) میں ہے :
سوال : مسجد کے اخراجات میں چندہ اس نیت سے دیا کہ جب پانی کی ضرورت ہوگی تو مسجد سے لے جائیں گے اس صورت میں مسجد سے پانی لے جانا جائز ہوگا یا نہیں ؟
جواب : اگر چندہ دہندگان میں یہ بات معروف ہو کہ ضرورت کے وقت اہل محلہ بھی وہاں سے پانی لے سکیں گے تو گنجائش ہے ورنہ نہیں۔
آپ کے مسائل اور ان کا حل ( 8 / 138 ) میں ہے :
سوال :ہمارے گاؤں کی مسجد میں کنواں ہے جس سے عام لوگ پینے کے لیے کپڑے دھونے کے لیے اور قریب کسی نے مکان تعمیر کرنا ہو تو اس میں پانی استعمال کرتے ہیں چونکہ اس میں پانی نکالنے والی مشین لگی ہوئی ہے مسجد کی بجلی بھی خرچ ہوتی ہے آپ سے عرض ہے کہ اس کا پانی استعمال کرنا جائز ہے یا ناجائز؟
جواب : جن لوگوں کے چندے سے مشین لگائی گئی ہے اگر انہوں نے عام لوگوں کو اس کنویں سے پانی لینے کی اجازت دی ہو ( خواہ لفظاً یا حالاً ) تو جائز ہے۔
حضرت ڈاکٹر مفتی عبدالواحد صاحبؒ ایک فتوے (5/119) میں لکھتے ہیں:
مسجد انتظامیہ اگر کسی کو منع بھی نہیں کرتی اور آس پاس کوئی سرکاری نل بھی نہ لگا ہو تو دلالتہً پانی کے استعمال کی گنجائش معلوم ہوتی ہے۔ بشرطیکہ نمازیوں کو وضو میں رکاوٹ نہ ہو۔ نیز مسجد کی صفائی میں بھی فرق نہ آئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved