- فتوی نمبر: 36-52
- تاریخ: 11 جولائی 2026
- عنوانات: عبادات > نماز > سجدہ تلاوت کا بیان
استفتاء
مکروہ اوقات میں سجدہ تلاوت جائز ہے یا نہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اگر تلاوت غیر مکروہ وقت میں کی گئی ہو تو مندرجہ ذیل تین مکروہ اوقات میں سجدہ تلاوت کرنا مکروہ تحریمی ہے یعنی ناجائز ہے اور اگر تلاوت ہی مندرجہ ذیل تین مکروہ اوقات میں کی گئی ہو تو پھر ان تین مکروہ اوقات میں سجدہ تلاوت کرنا مکروہ تنزیہی ہے ۔تین مکروہ اوقات یہ ہیں:
1۔سورج طلوع ہونے سے لے کر اشراق تک کا وقت یعنی سورج نکلنے سے لے کرکم از کم دس (10) منٹ بعد تک اور احتیاطاً بیس (20) منٹ بعد تک۔
2۔نصف النہار شرعی سے لے کر نصف النہار عرفی تک یعنی ظہر کا وقت داخل ہونے سے 40، 45 منٹ پہلے تک کا وقت۔
3۔سورج غروب ہونے سے پہلے کم از کم دس (10) منٹ تک اور احتیاطاً بیس (20) منٹ تک کا وقت ۔
شامی (1/370) میں ہے:
(وكره) تحريما، وكل ما لا يجوز مكروه (صلاة) مطلقا (ولو) قضاء أو واجبة أو نفلا أو (على جنازة وسجدة تلاوة وسهو)…… (مع شروق) ………. (واستواء)… (وغروب، إلا عصر يومه) …. (وينعقد نفل بشروع فيها) بكراهة التحريم (لا) ينعقد (الفرض) وما هو ملحق به كواجب لعينه كوتر (وسجدة تلاوة، وصلاة جنازة تليت) الآية (في كامل وحضرت) الجنازة (قبل) لوجوبه كاملا فلا يتأدى ناقصا، فلو وجبتا فيها لم يكره فعلهما: أي تحريما
(قوله: واستواء) التعبير به أولى من التعبير بوقت الزوال؛ لأن وقت الزوال لا تكره فيه الصلاة إجماعا بحر عن الحلية: أي لأنه يدخل به وقت الظهر كما مر. وفي شرح النقاية للبرجندي: وقد وقع في عبارات الفقهاء أن الوقت المكروه هو عند انتصاف النهار إلى أن تزول الشمس ولا يخفى أن زوال الشمس إنما هو عقيب انتصاف النهار بلا فصل، وفي هذا القدر من الزمان لا يمكن أداء صلاة فيه، فلعل أنه لا تجوز الصلاة بحيث يقع جزء منها في هذا الزمان، أو المراد بالنهار هو النهار الشرعي وهو من أول طلوع الصبح إلى غروب الشمس، وعلى هذا يكون نصف النهار قبل الزوال بزمان يعتد به. اهـ. إسماعيل ونوح وحموي.
وفي القنية: واختلف في وقت الكراهة عند الزوال، فقيل من نصف النهار إلى الزوال لرواية أبي سعيد عن النبي – صلى الله عليه وسلم – «أنه نهى عن الصلاة نصف النهار حتى تزول الشمس» ) قال ركن الدين الصباغي: وما أحسن هذا؛ لأن النهي عن الصلاة فيه يعتمد تصورها فيه اهـ وعزا في القهستاني القول بأن المراد انتصاف النهار العرفي إلى أئمة ما رواه النهر، وبأن المراد انتصاف النهار الشرعي وهو الضحوة الكبرى إلى الزوال إلى أئمة جوارزم
(قوله: فلو وجبتا فيها) أي بأن تليت الآية في تلك الأوقات أو حضرت فيها الجنازة.
(قوله: تحريما) أفاد ثبوت الكراهة التنزيهية.
(قوله: وفي التحفة إلخ) هو كالاستدراك على مفهوم قوله أي تحريما، فإنه إذا كان الأفضل عدم التأخير في الجنازة فلا كراهة أصلا، وما في التحفة أقره في البحر والنهر والفتح والمعراج حضرت ” وقال في شرح المنية: والفرق بينها وبين سجدة التلاوة ظاهر؛ لأن تعجيل فيها مطلوب مطلقا إلا لمانع، وحضورها في وقت مباح مانع من الصلاة عليها في وقت مكروه، بخلاف حضورها في وقت مكروه وبخلاف سجدة التلاوة؛ لأن التعجيل لا يستحب فيها مطلقا اهـ أي بل يستحب في وقت مباح فقط فثبتت كراهة التنزيه في سجدة التلاوة دون صلاة الجنازة
ہندیہ (1/52) میں ہے:
ثلاث ساعات لا تجوز فيها المكتوبة ولا صلاة الجنازة ولا سجدة التلاوة إذا طلعت الشمس حتى ترتفع وعند الانتصاف إلى أن تزول وعند احمرارها إلى أن يغيب إلا عصر يومه ذلك فإنه يجوز أداؤه عند الغروب. هكذا في فتاوى قاضي خان قال الشيخ الإمام أبو بكر محمد بن الفضل ما دام الإنسان يقدر على النظر إلى قرص الشمس فهي في الطلوع.
كذا في الخلاصة هذا إذا وجبت صلاة الجنازة وسجدة التلاوة في وقت مباح وأخرتا إلى هذا الوقت فإنه لا يجوز قطعا أما لو وجبتا في هذا الوقت وأديتا فيه جاز؛ لأنها أديت ناقصة كما وجبت. كذا في السراج الوهاج وهكذا في الكافي والتبيين لكن الأفضل في سجدة التلاوة تأخيرها وفي صلاة الجنازة التأخير مكروه. هكذا في التبيين ولا يجوز فيها قضاء الفرائض والواجبات الفائتة عن أوقاتها كالوتر. هكذا في المستصفى والكافي
مراقی الفلاح (ص: 185) میں ہے:
“ثلاثة أوقات لا يصح فيها شيء من الفرائض والواجبات التي لزمت في الذمة قبل دخولها” أي الأوقات المكروهة أولها “عند طلوع الشمس إلى أن ترتفع” وتبيض قدر رمح أو رمحين “و” الثاني “عند استوائها” في بطن السماء “إلى أن تزول” أي تميل إلى جهة الغرب “و” الثالث “عند اصفرارها” وضعفها حتى تقدر العين على مقابلتها “إلى أن تغرب” لقول عقبة بن عامر رضي الله عنه “ثلاثة أوقات نهانا رسول الله صلى الله عليه وسلم أن نصلي فيها وأن نقبر موتانا: عند طلوع الشمس حتى ترتفع وعند زوالها حتى تزول وحين تضيف إلى الغروب حتى تغرب” رواه مسلم
امداد الاحکام (1/413) میں ہے:
اور وقت مستحب کی انتہاء اصفرار شمس تک ہے یعنی دھوپ زرد ہو جانے تک تاخیر کرنا مکروہ تحریمی ہے اور اس کا تخمینہ کبھی احقر نے تو کیا نہیں مگر مولانا یحیی کاندہلویؒ نے حضرت گنگوہیؒ کا قول نقل کیا تھا کہ غروب سے صرف دس منٹ پہلے دھوپ زرد ہوتی ہے خود بھی اس کا تجربہ کر لیا جاوے۔
فتاویٰ محمودیہ (21/462) میں ہے:
سوال: طلوع آفتاب 4 بج کر 18 منٹ پر ہے اور ایک شخص اشراق کی نماز 4 بج کر 25 منٹ پر شروع کرے تو کیا صحیح ہوئی؟ کم سے کم کتنا توقف کیا جائے؟
الجواب حامداومصلیا : اتنی دیر میں شعاع شمس صاف نہیں ہوتی بلکہ مکروہ وقت رہتا ہے 20 منٹ میں مکرو وقت بالکل خارج ہو جاتا ہے۔
احسن الفتاویٰ (2/135) میں ہے:
سوال : ایک شخص بعد نماز عصر تلاوت کر رہا ہے، درمیان میں سجدہ تلاوت آگیا کیا وہ عصر اور مغرب کے درمیان سجدہ تلاوت کر سکتا ہے؟ بینوا توجروا
الجواب :جائز ہے البتہ دھوپ پھیکی پڑ چکی ہو مکروہ تنزیہی ہے یہ حکم تلاوتِ حاضرہ کا ہے اگر غیر مکروہ وقت میں تلاوت کی ہو تو اوقات مکروہہ (طلوع، غروب، نصف النہار) میں سجدہ تلاوت کرنا مکروہ تحریمی ہے الخ۔
عمدۃ الفقہ (2/21) میں ہے:
(جن وقتوں میں نماز جائز نہیں اور جن میں مکروہ ہے)
………… (3) سورج غروب ہونے کا وقت یعنی جب سورج میں سرخی آجائے اور اس پر نظر ٹھہرنے لگے اور دھوپ کمزور اور پیلی پیلی ہو جائے اس وقت سے غروب تک سورج غروب کی حالت میں ہے (اندازا 20 منٹ)
فتاویٰ دارالعلوم دیوبند (4/515) میں ہے:
سوال : جن وقتوں میں ہر قسم کی نماز پڑھنی مکروہ ہے سجدہ تلاوت کرنا جائز ہے ؟ مثلا فجر کے فرضوں کے بعد طلوع آفتاب یادوپہر یا بعد نماز عصر(تاغروب آفتاب) ایسا ہی صبح صادق کے وقت فجر کی سنتوں سے پہلے یا سنت اور فرض کے درمیان؟
الجواب: طلوع اور غروب اور زوال آفتاب (یعنی استوائے شمس) کے وقت سجدہ تلاوت بھی حرام ہے مگر جب کہ آیت سجدہ انہیں اوقات میں پڑھے تو سجدہ بھی ان اوقات میں درست ہے اور صبح کی نماز کے بعدتاطلوع آفتاب اور بعد نماز عصرتاغروب اور بعد صبح صادق سجدہ تلاوت درست ہے ۔
مسائل بہشتی زیور (1/185) میں ہے:
مسئلہ: سورج نکلتے وقت اور ٹھیک دوپہر کو اور سورج ڈوبتے وقت کوئی نماز صحیح نہیں ہے اور ان تینوں وقت میں سجدہ تلاوت بھی مکروہ اور منع ہے۔
مسئلہ: ٹھیک دوپہر سے ضحوۃالکبری سے زوال تک کا وقت مراد ہے یعنی زوال سے متصل قبل پون گھنٹہ یہی قول زیادہ معتبر معلوم ہوتا ہے جیسا کہ رد المحتار میں مذکور ہے۔
مسئلہ: فجر کی نماز پڑھ لینے کے بعد جب تک سورج نکل کے اونچا نہ ہو جائے نفل نماز پڑھنا مکروہ ہے البتہ سورج نکلنے سے پہلے قضاء نماز پڑھنا درست ہے اور سجدہ تلاوت بھی درست ہے اور جب سورج نکل آیا تو جب تک ذرا روشنی نہ آجائے جس میں تقریبا 20 منٹ لگتے ہیں قضاء نماز پڑھنا بھی درست نہیں ہے ایسے ہی عصر کی نماز پڑھ لینے کے بعد نفل نماز پڑھنا جائز نہیں البتہ قضاء نماز اور سجدہ تلاوت درست ہے لیکن جب دھوپ پھیکی پڑ جائے تو یہ بھی درست نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved