- فتوی نمبر: 36-65
- تاریخ: 16 جولائی 2026
- عنوانات: مالی معاملات > شرکت کا بیان > مشترکہ خاندانی نظام
استفتاء
حضرت مفتی صاحب! ہمارا ایک وراثت اور جائیداد سے متعلق پیچیدہ مسئلہ ہے۔ براہِ کرم درج ذیل مکمل صورتِ حال کی روشنی میں فقہ حنفی کے مطابق شرعی حکم بیان فرما دیں۔ہم آٹھ بہن بھائی ہیں۔ ہمارے والد اور والدہ نے مل کر ایک مکان تعمیر کیا تھا، لیکن سرکاری ریکارڈ، رجسٹری اور ملکیتی دستاویزات میں وہ مکان ہمارے والد صاحب کے نام پر تھا۔ تقریباً سن 2010 میں ہمارے بڑے بھائی زید نے دعویٰ کیا کہ اس نے یہ مکان 65 لاکھ روپے میں خریدا ہے۔ اس وقت ہمارے والد صاحب حیات تھے۔ بعد میں اس کا کہنا ہے کہ اس نے مکان کی مکمل قیمت سن 2022 تک ادا کی، جبکہ ہمارے والد صاحب کا انتقال سن 2019 میں ہو چکا تھا۔ اس مبینہ خرید و فروخت کے معاہدے کی تفصیلات کسی بھی بہن یا بھائی کے سامنے نہیں آئیں۔ نہ ہمیں معاہدے کی شرائط معلوم ہیں، نہ ادائیگیوں کا ریکارڈ معلوم ہے، نہ یہ معلوم ہے کہ کتنی رقم کب کب ادا کی گئی، اور نہ ہی ہمارے سامنے کوئی مکمل حساب کتاب یا معتبر دستاویزات پیش کی گئی ہیں۔ تمام بہن بھائی اس معاملے کی تفصیلات سے لاعلم رہے ہیں اور ہمارے سامنے کبھی کوئی واضح ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ ہماری والدہ البتہ شروع سے یہی کہتی رہی ہیں کہ:”یہ میرا مکان ہے، میں نے زید کو دے دیا ہے”اور یہ بھی فرماتی رہی ہیں کہ”اس نے مجھے پیسے دے دیے ہیں”لیکن کتنے پیسے دیے گئے، کب دیے گئے، مکمل رقم ادا ہوئی یا نہیں، اس کے ثبوت کیا ہیں؟ اس بارے میں کوئی واضح تفصیل ہمارے سامنے موجود نہیں ہے۔ اسی طرح والد صاحب بھی یہ کہتے تھے کہ میں نے اسے بیچ دیا ہے اور 65 لاکھ میں سودا ہوا ہے لیکن اس نے کتنے پیسے دیے اس بارے میں وہ کہتے تھے یہ جانے اور اس کی ماں جانے ۔ لیکن جہاں تک گواہوں کا تعلق ہے تو ممکن ہے کہ ایک یا دو افراد اس معاملے کے گواہ ہوں، مزید یہ کہ تقریباً سن 2017 یا 2018 میں اس معاملے پر اختلاف پیدا ہوا تھا۔ اس وقت ہمارے والد صاحب اور ہم دو بھائی اپنے استاذ محترم مولانا ***صاحب کے پاس گئے تھے۔ انہوں نے اس وقت مشورہ دیا تھا کہ اگر جائیداد اپنے بیٹے کو دینی یا فروخت کرنی ہو تو دو شرطوں کے ساتھ کی جائے: (1) جائیداد کی قیمت موجودہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق مقرر ہو، اور (2) ادائیگی کی واضح مدت طے کی جائے کہ کتنے عرصے میں رقم مکمل ادا کی جائے گی۔ یہ بات بعد میں والدہ اور زید دونوں کو بھی بتائی گئی تھی، لیکن وہ اس پر عمل کرنے کو تیار نہیں ہوئے۔ مزید یہ بھی کہ سن 2010 میں اس مکان کی اندازاً قیمت 65 لاکھ روپے تھی، جبکہ سن 2022 تک اسی نوعیت کے مکانات کی مارکیٹ ویلیو ایک کروڑ روپے سے بھی زائد ہو چکی تھی۔ اس لیے ہمارے ذہن میں یہ اشکال بھی ہے کہ اگر واقعی معاملہ 2010 میں طے ہوا تھا لیکن ادائیگی 2022 تک جاری رہی، تو کیا شرعاً پرانی قیمت معتبر ہوگی یا موجودہ مارکیٹ ریٹ کا بھی کوئی اثر ہوگا؟ اب زید کا موقف یہ ہے کہ یہ مکان والدہ کا تھا اور والدہ نے اسے دے دیا ہے، لہٰذا اس میں کسی دوسرے بہن بھائی کا کوئی حق نہیں ہے۔ جبکہ باقی بہن بھائیوں کا موقف یہ ہے کہ چونکہ مکان والد صاحب کے نام پر تھا، اس لیے وہ ان کی ملکیت تھا اور ان کے انتقال کے بعد وہ ان کے ترکہ میں شامل ہو گیا، جس میں تمام شرعی ورثاء کا حق بنتا ہے۔
لہٰذا درج ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں:
1۔اگر مکان سرکاری اور قانونی دستاویزات میں والد صاحب کے نام پر تھا تو شرعاً اس کی ملکیت کس کی شمار ہوگی؟
2۔کیا والدہ اکیلی یہ اختیار رکھتی تھیں کہ اس مکان کو کسی ایک بیٹے کو دے دیں جبکہ وہ والد صاحب کے نام پر تھا؟
3۔ اگر خرید و فروخت کا دعویٰ کیا جائے لیکن ادائیگیوں کی تفصیلات، دستاویزات اور واضح ثبوت موجود نہ ہوں تو شرعاً اس دعوے کی کیا حیثیت ہوگی؟
4۔اگر صرف والدہ یہ کہتی رہیں کہ “اس نے مجھے پیسے دے دیے ہیں” لیکن ادائیگیوں کی تفصیل واضح نہ ہو تو شرعاً اس بیان کی کیا حیثیت ہوگی؟
5۔ اگر ایک یا دو گواہ موجود ہوں لیکن باقی ورثاء کو تفصیلات معلوم نہ ہوں تو شرعی فیصلہ کس بنیاد پر ہوگا؟
6۔ اگر واقعی 2010 میں بیع طے ہوئی تھی لیکن قیمت 2022 تک ادا کی جاتی رہی تو کیا اتنی طویل مدت شرعاً درست ہے؟
7۔اگر فروخت کنندہ (والد صاحب) کا انتقال قیمت کی مکمل ادائیگی سے پہلے ہو گیا ہو تو اس کا شرعی حکم کیا ہوگا؟
8۔ کیا والد صاحب کے انتقال کے بعد یہ مکان ان کے ترکہ میں شامل ہوگا اور تمام شرعی ورثاء کا اس میں حصہ بنے گا؟
9۔کیا ایک وارث باقی ورثاء کے شرعی حقوق ادا کیے بغیر یا ان کی رضامندی کے بغیر پوری جائیداد اپنے نام کروا سکتا ہے؟
10۔ مذکورہ تمام حقائق کی روشنی میں اس مکان کی شرعی ملکیت کس کی شمار ہوگی اور تمام ورثاء کے حقوق کیا ہیں؟ براہِ کرم فقہ حنفی کی روشنی میں اس مسئلے کا تفصیلی، مدلل اور واضح شرعی حکم بیان فرما دیں۔ جزاکم اللہ خیراً و احسن الجزاء۔
زید کا موقف :
دارالافتاء کے نمبر سے زید سےرابطہ کیا تو انہوں نے فون پر درج ذیل موقف دیا ۔
میں اپنے بہن بھائیوں میں سب سے بڑا ہوں ۔ یہ گھر ہماری والدہ نے اپنے وراثتی حصہ کے پیسوں سے خریدا تھا ۔ اور اس وقت گھر کے بڑے ہمارے دادا تھے اس لیے ان کے نام رجسٹری کروائی گئی ۔ ہمارے والد صاحب محکمہ اوقاف میں ملازم تھے ۔ ان کے اتنے وسائل ہی نہ تھے کہ وہ مکان خریدسکتے ۔ جب میں نے ہوش سنبھالا تو والد صاحب سے کہہ کر اس گھر کو دادا کے نام سے والد صاحب کے نام منتقل کروایا اور رجسٹری کے پیسے سارے میں نے ادا کیے ۔ آج سے تقریبا پندرہ سال قبل کی بات ہے میں نے والد صاحب سے گزارش کی کہ یہ مکان مجھے دے دیں ۔ والدہ نے بھی سفارش کی تو والد صاحب راضی ہوگئے ۔ 60 لاکھ روپے ہمارے درمیان اس کی قیمت طے ہوئی ۔ جو میں نے 4 سال کے عرصہ میں مکمل ادا کردی ۔ بلکہ والدہ نے کہا یہ کم ہیں تو میں نے 15 لاکھ مزید ادا کردیے ۔ میرے پاس الحمدللہ وسعت تھی اس لیے میں نے یہ گھر خریدلیا ۔ میں والدہ سے بار بار کہتا رہا اس کو کاغذات میں بھی میرے نام منتقل کروادیں ۔ وہ کہتی تھیں کہ یہ تمہارا ہی ہے ۔ جب مرضی کروالینا ۔ لیکن وہ گھر والد صاحب کے نام ہی رہا یہاں تک کہ سات سال پہلے والد صاحب کا انتقال ہوگیا ۔ ان کے انتقال کے بعد میری والدہ ، دونوں بہنیں اور دو بھائی میرے حق میں دستبردار ہوگئے اور یہ گھر میرے نام ہوگیا لیکن چھوٹے تین بھائیوں نے اختلاف کیا کہ یہ گھر تو والد صاحب کا ہے لہٰذا وراثت میں تقسیم ہوگا۔ آج سے چند سال قبل میرے ایک بھائی جو بیرون ملک رہتے ہیں انہوں نے میرے ادا کیے گئے پیسوں (75 لاکھ) سے سب بہن بھائیوں کے لیے ایک بڑے گھر کا سودا کیا ۔ والدہ کے حکم پر میں ان کی معاونت کے لیے ساتھ ہوگیا۔ لیکن وہ پیسے ڈوب گئے اور ہم سے دھوکہ کردیا گیا۔
والدہ کا موقف:
والدہ کا بیان زید کے ذریعہ صوتی پیغام کی صورت میں موصول ہوا جس کا خلاصہ درج ذیل ہے :
میں خالد اور زید کی والدہ ہوں ۔ اللہ جانتا ہے کہ جن پیسوں سے گھر لیا تھا وہ میرے تھے جو میرے باپ کی دکان کےحصہ سے ملے تھے۔ ان کے باپ کی کوئی آمدنی نہیں تھی۔ وہ تو بہت معمولی سے ملازم تھے۔ میں نے اپنا زیور بیچ کر اور مزدوریاں کرکے پیسے جمع کیے اور بچوں کے لیے مکان لیا ۔یہ مکان دو سوا دو مرلہ میں ہے ۔ بڑا بیٹا زید تھا یہ ابو سے کہتا تھا کہ یہ مکان مجھے دے دو ۔ پہلے وہ منع کرتے کہ چھوٹے بہن بھائی کہاں جائیں گے ؟ پھر ایک دن انہوں نے اس کو مبارکباد دی کہ یہ مکان تمہیں دے دیا ۔ اللہ جانتا ہے کہ اس نے تین چار سالوں میں کچھ نقد اور کچھ کمیٹی دے کر مکمل پیسے دے دیے تھے اور اپنے ابو کو دیے تھے پھرانہوں نے مجھے پیسے دے دیے کہ یہ مکان کی پیمنٹ آگئی ۔ میں نے ان پیسوں سے اس کے بھائیوں کو مکان دلوایا تھا کیونکہ ان کے پاس کچھ نہیں تھا ۔ لیکن ان کے ساتھ دھوکہ ہوگیا ۔ اب اس کے باقی سب بھائی رضامند ہیں کہ یہ مکان اسی کا ہے اور اس نے اس مکان کے پیسے امی کو دیے ہیں لیکن تین بھائیوں نے ایکا کرلیا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ ہمیں بھی اس میں سے دو ۔ جب میرا مکان لیا تھا مجھے کچھ نہیں پتا تھا کہ کس کے نام کروانا چاہیے ! ہم سادہ لوگ تھے ،سادہ زمانہ تھا ، میں نے ان کے ابو سے کہا آپ نے ہی کرنا ہے جو کرنا ہے ۔ اب میں نے ان بچوں سے معافی بھی مانگی ہے کہ مجھے اس وقت علم نہیں تھا ۔ میں نے بہت کوشش کی ہے کہ ان کا سمجھوتہ ہوجائے ۔ لیکن نہیں ہوسکا ۔ اب آپ ہی بتائے کہ یہ بڑے بیٹے کا مکان ہے یا اس میں باقیوں کا بھی حصہ ہے ؟
خالد کی طرف سے مزید وضاحت : یہ بات درست نہیں ہے کہ یہ مکان صرف والدہ کے پیسوں سے بنا ہے بلکہ والد صاحب نے بھی کمیٹیاں ڈالی ہوئی تھیں اور ان کے بھی اچھے خاصے پیسے اس میں شامل تھے ۔ نیز ابھی تک بھی مکان والد صاحب کے ہی نام ہے۔ ہمارے جو دو بھائی زید کا ساتھ دے رہے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ جس مکان میں دھوکہ ہوا اس کا سودا وہی کررہے تھے ، ان کے ذریعہ سب کا نقصان ہوا لہٰذا وہ اپنے حصہ سے دستبردار ہوگئے ۔ اور بہنوں کو والدہ نے دکان دلوادی تھی اس لیے وہ بھی خاموش ہیں ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔ اگر مکان والدہ کے پیسوں سے خریدا تھا تو صرف والدہ کا ہی شمار ہوگا اور اگر والد اور والدہ دونوں نے پیسے ملا کر خریدا تھا تو دونوں کا ہوگا اگرچہ سرکاری کاغذات میں والد کے نام ہو ۔
2۔ اگر والدہ ہی اس کی مالک تھیں تو ان کو اختیار تھا اور اگر دونوں مالک تھے تو دونوں کی رضامندی ضروری تھی۔اور فریقین کو بھی یہ بات تسلیم ہے کہ والد یہ کہتے تھے کہ یہ مکان زید کو بیچ دیا ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی اس پر راضی تھے ۔
3،4،5- جب گھر کے مالک (والد یا والدہ جو بھی ہوں ) نے اپنا مملوکہ گھر بیچ دیا ہے تو یہ گھر ان کی ملکیت سے نکل کر خریدار (بیٹے) کی ملکیت میں چلاگیا اگر چہ وہ اس کی تفصیلات (قیمت اور ادائیگی کی مدت ) کسی کو نہ بھی بتائیں ۔
6۔ اگر بیچتے وقت ہی یہ مدت طے ہوگئی تھی یا طے تو نہیں ہوئی تھی لیکن بیچنے والوں (والد اور والدہ )نے اتنی ڈھیل دےدی ہو تو اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں ۔
7۔ اگر مکان کے مالک والد صاحب تھے اور ان کی زندگی میں مکمل قیمت ادا نہیں کی گئی تو بقایا رقم ان کاترکہ بنے گی اور ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے بقدر تقسیم ہوگی۔لیکن چونکہ مذکورہ صورت میں والدہ کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ والد کی زندگی میں ان کو پوری قیمت کی ادائیگی کردی گئی تھی اس لیے یہ رقم ورثاء میں تقسیم نہیں ہوگی ۔
8۔ جب والد صاحب یہ کہہ چکے ہیں کہ یہ مکان زید کو بیچ دیا ہے تو یہ والد صاحب کے ترکہ میں شامل نہیں ہوگا بلکہ اس کا مالک زید ہی ہوگا ۔
9۔ اگر اس جائیداد میں سب ورثاء کا حق ہو تو ایسا کرنا جائز نہیں لیکن اگر کوئی وارث وہ جائیداد پہلے ہی خرید چکا ہو تو اسے اپنے نام کروانا درست ہے۔
10 ۔ مذکورہ صورت میں قطع نظر اس سے کہ مکان والدہ کا تھا یا والد صاحب کا تھا یا دونوں کا تھا ، جب دونوں فریقوں کو یہ تسلیم ہے کہ انہوں نے یہ مکان ایک بیٹے کو فروخت کردیا ہے تو یہ مکان اسی خریدار کا ہوگا ۔ یہ گھر والد صاحب یا والدہ کے ترکہ میں شمار نہیں ہوگا اور نہ ہی اس میں دیگر ورثاء کا حق ہوگا ۔
فتاوی شامی (6/463) میں ہے:
اعلم أن أسباب الملك ثلاثة: ناقل كبيع وهبة وخلافة كإرث وأصالة، وهو الاستيلاء حقيقة بوضع اليد أو حكما بالتهيئة كنصب الصيد
قوله ناقل أي من مالك إلى مالك، وقوله وخلافة: أي ذو خلافة، وكذا يقال فيما بعده ط (قوله وهو الاستيلاء حقيقة) شمل إحياء الموات فلا حاجة إلى عده قسما رابعا كما فعل الحموي
درر الحکام شرح مجلۃ الاحکام (3/ 201) میں ہے:
«كل يتصرف في ملكه المستقل كيفما شاء أي أنه يتصرف كما يريد باختياره أي لا يجوز منعه من التصرف من قبل أي أحد هذا إذا لم يكن في ذلك ضرر فاحش للغير.»
ہدایہ (3/ 24) میں ہے:
«ويجوز البيع بثمن حال ومؤجل إذا كان الأجل معلوما …. ولا بد أن يكون الأجل معلوما؛ لأن الجهالة فيه مانعة من التسليم الواجب بالعقد، فهذا يطالبه به في قريب المدة، وهذا يسلمه في بعيدها.»
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved