- فتوی نمبر: 36-61
- تاریخ: 16 جولائی 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > متفرقات حظر و اباحت
استفتاء
کیا جماع کے بعد غسل کرنا فوراً ضروری ہے یا تا خیر کرسکتے ہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اگر تاخیر سے نماز قضا نہ ہو تی ہو تو تاخیر کر سکتے ہیں۔
شرح القسطلانی (3/367) میں ہے:
(أن عائشة وأم سلمة أخبرتاه أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- كان يدركه الفجر وهو) أي والحال أنه (جنب من) جماع (أهله)، وفي رواية يونس عن ابن شهاب عن عروة وأبي بكر بن عبد الرحمن عن عائشة قالت: كان يدركه الفجر في رمضان من غير حلم، وللنسائي عنها من غير احتلام وفي لفظ له: كان يصبح جنبا مني (ثم يغتسل ويصوم). بيانا للجواز، وإلا فالأفضل الغسل قبل الفجر
فیض القدیر (5/212) میں ہے:
(كان يدركه الفجر وهو) أي والحالة أنه (جنب من) جماع (أهله) زاد في رواية في رمضان من غير حلم (ثم يغتسل ويصوم) بيانا لصحة صوم الجنب وإلا فالأفضل الغسل قبل الفجر وأردت بالتقييد بالجماع من غير احتلام المبالغة في الرد على من زعم أن فاعل ذلك عمدا مفطر
اعلاء السنن (1/251) میں ہے:
وإذا كان تاخير الغسل وعدم فور الطهارة مباحا فى الشرع فالاولى أن يقال ان تاخير الغسل خلاف الاولى وتعجيله أفضل وتاخيره النبى صلى الله عليه وسلم كان لبيان الجواز.
ہندیہ (1/16) میں ہے:
الجنب إذا أخر الاغتسال إلى وقت الصلاة لا يأثم. كذا في المحيط.قد نقل الشيخ سراج الدين الهندي الإجماع على أنه لا يجب الوضوء على المحدث والغسل على الجنب والحائض والنفساء قبل وجوب الصلاة أو إرادة ما لا يحل إلا به
فتاوی دار العلوم دیوبند ( 1 / 213 ) میں ہے :
سوال : بعض حضرات بعد ازجماع فورا غسل کا حکم دیتے ہیں جس میں احتمال بیماری وغیرہ کا ہے کیا شرعی حکم ایسا ہی ہے ؟
الجواب: یہ بہتر ہے لیکن اگر کچھ تاخیر کرے تو کچھ حرج اور گناہ نہیں ہے۔
خیر الفتاویٰ ( 2 / 81 ) میں ہے:
سوال :اگر غسل فرض ہو جائے تو فورا غسل کرنا ضروری ہے یا کچھ تاخیر بھی کر سکتے ہیں ؟
الجواب : اصل تو یہی ہے کہ جس قدر جلد طہارت حاصل کر لی جائے بہتر ہے معہذا اگر نماز کے وقت تک تاخیر ہو جائے تو گناہ نہ ہوگا۔
مسائل بہشتی زیور ( 1 / 67 ) میں ہے
مسئلہ : جنبی اگر نماز کے وقت تک غسل میں تاخیر کرے تو وہ گنہگار نہیں ہوتا البتہ تاخیر کرنا خلاف اولی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved