• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

دعا کے وقت ہاتھوں کو کھلا رکھنا

استفتاء

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ دعا کے وقت ہاتھوں کو کھلا رکھا جائے گا اس کی کیا حقیقت ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

فقہاء کرام نے دعاء کے آداب میں دونوں ہاتھوں کے درمیان تھوڑے سے فاصلے کو ذکر کیا ہے لیکن اس کی دلیل ذکر نہیں کی، اور نہ ہی تاحال ہمیں اس کی کوئی دلیل معلوم ہوسکی، دلیل ذکر نہ کرنے سے یا دلیل معلوم نہ ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ دلیل کا وجودہی نہیں، ممکن ہے کہ حضرات فقہاء کرام کے سامنے کوئی دلیل ہو جس تک ہماری نظر نہ پہنچی ہو۔

فتاوی عالمگیری (318/5)میں ہے :

والأفضل في الدعاء أن يبسط كفيه ويكون بينهما فرجة وإن قلت ولا يضع إحدى يديه على الأخرى فإن كان في وقت عذر أو برد شديد فأشار بالمسبحة قام مقام بسط  كفيه والمستحب أن يرفع يديه عند الدعاء بحذاء صدره.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved