- فتوی نمبر: 36-101
- تاریخ: 04 اگست 2026
- عنوانات: عبادات > حج و عمرہ کا بیان > جنایات کا بیان
استفتاء
میری دوست کا سوال ہے کہ وہ حج کے لیے گئی تھی اور طواف زیارت تو انہوں نے کیا مگر غلطی ان سے یہ ہوئی کہ بغیر وضو کے طوافِ زیارت ادا ہوا کیونکہ دو دفعہ انہوں نے وضوکیا مگر گیس کے مسئلے کی وجہ سے ان کا طواف بغیر وضوکے ہوا کیونکہ وہ بھول گئی تھی اب آپ اس مسئلے کا شرعی حل بتائیں۔
وضاحت مطلوب ہے: (1) طواف کے کتنے چکر بغیر وضو کے ادا کیے تھے؟(2) طواف وداع ایام نحر میں کیا تھا یا بعد میں؟ (3) گیس کا مسئلہ کتنا تھا؟ مطلب یہ کہ کسی نماز کا وقت شروع ہونے سے لیکر ختم ہونے تک ان کو اتنا وقت مل جاتا تھا کہ اگر وضو کرکے نماز پڑھتی تو ان کو اس دوران گیس کا مسئلہ پیش نہ آتا ہو یا اتنا وقت نہیں ملتا تھا بلکہ نماز کے دوران ان کے گیس کے مسئلہ کی وجہ سے وضو ٹوٹ جاتا تھا؟
جواب وضاحت:کافی عرصہ گذر گیا ہے اس لیے یاد نہیں ہے۔ بس آپ یہ بتائیں کہ طوافِ زیارت بغیر وضو کے کسی مسئلے کی وجہ سے ہوجائے تو اس کا کیا حکم ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اگر پورا طواف زیارت یا اکثر یعنی چار چکر بغیر وضوکے کیے ہوں تو دم واجب ہوگا اور اگر اکثر یعنی چار چکر سے کم حصہ بغیر وضو کے کیے ہوں تو ہر چکرکے بدلے میں پونے دو کلو گندم یا اس کی قیمت صدقہ کرنا ہوگی ۔
غنیۃ الناسک (ص:351) میں ہے:
ولو طاف للزيارة كله أو اكثره فعليه شاة ويعيد طاهرا استحبابا وقيل حتما فان اعاده سقط عنه الدم سواء اعاده في ايام النحر او بعدها ولا شئ عليه للتاخير وقيل عليه دم وقيل صدقة لكل شوط ولو طاف اقله محدثا ولم يعد فعليه لكل شوط نصف صاع الا اذا بلغت قيمته دما فينقص منه ما شاء.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved