• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

(1)شرکت میں شرکاء کے مخلص ہونے پر فضیلت (2) کاروبار کا نام “الغفاری” رکھنا

استفتاء

1۔میں کسی کے ساتھ کاروبار میں شراکت کرنا چاہتا ہوں۔ کیا اسلام میں شراکت کا کوئی ذکر ہے کہ شراکت میں برکت ہے یا وہ بات کہ کوئی دو بندے کاروبار میں شریک ہوں اور وہ ایک دوسرے کے لیے دل سے سچے ہوں۔ تو اس کاروبار میں اللہ کی مدد ہے۔

2۔میرا نام ابوذر غفاری ہے۔ ہم اس کاروبار کا نام (الغفاری) کے نام سے رکھنا چاہتے ہیں کیا اس نام کو رکھنا ٹھیک ہے یا غلط؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔حدیث مبارکہ میں آتا ہے: اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ شراکت دار جب تک ایک دوسرے کے ساتھ خیانت نہ کریں تب تک میں ( ان کی مدد کرنے اور برکت عطاء کرنے کے اعتبارسے ) ان کا تیسرا ہوتا ہوں۔ اور جب ان میں سے کوئی ایک خیانت کرتا ہے تو میں ان کے درمیان سے نکل جاتا ہوں( نہ ان کی مدد کرتا ہوں اور نہ ہی ان کو برکت عطاء کرتا ہوں۔

2۔ رکھ سکتے ہیں۔

توجیہ: الغفارى نام رکھنے میں دو احتمال ہو سکتے ہیں  :

۱۔اللہ تعالی کے نام ” الغفار ” (بفتح الغین و تشدیدالفاء) کی نسبت سے  کاروبار کا نام ” الغفاری ” رکھنا ۔ اس طرح کاروبار کا نام رکھنادرست ہے، اس کا ترجمہ ہے” غفار والا “.اس صورت میں “الغفاری” میں “یاء” نسبت کی ہوگی۔

کاروبار کا ایسا نام رکھنے سے مقصود  کاروبار کو خدا کا نام دینا  نہیں ہوتا بلکہ یہ نام تبرک کے لیے استعمال ہوتے ہیں، چنانچہ بعض اہلِ علم کے  ہاں بھی ا س کا رواج ہے جیسے ماہنامہ الحق ، ربانی وغیرہ۔لیکن اس میں چونکہ اللہ تعالیٰ کا نام کاغذوں، پوسٹروں، شاپروں وغیرہ پر بھی استعمال ہوتا ہے جس میں عموماً بے ادبی ہو ہی جاتی ہے لہٰذا بہتر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نام پر کاروبار کا نام نہ رکھا جائے۔

۲۔حضرت ابو ذر غفاری [بكسرالغين] کے قبیلے کی نسبت  سے”الغفاری” نام رکھنا ۔اس طرح کاروبار کا نام رکھ سکتے ہیں ۔اس صورت میں بھی قبیلہ بنو غفار کی طرف نسبت کرتے ہوئے  “الغفاری” میں “یاء” نسبت کی ہوگی۔

سنن ابی داؤد (رقم الحدیث:3383 ) میں ہے:

عن أبي هريرة، رفعه، قال: “إن الله يقول: ‌أنا ‌ثالثُ الشريكَين، ما لم يَخُنْ أحدُهما صاحبَه، فإذا خانَه خرجْتُ من بينهما”

بذل  المجہود (11/ 78)میں ہے :

(قال) أي النبي صلى الله عليه وسلم: (إن الله تعالى يقول: أنا ثالث الشريكين) أي بالمعاونة وإعطاء البركة فيه (ما لم يخن أحدهما صاحبه، فإذا خانه خرجت من بينهم) فلا أُعينهم، ولا يحصل في مالهم البركة.

مرقاة الصعود إلى سنن  ابی داؤد للسیوطی(2/ 841)میں ہے:

وقال الطيبي: شركة الله للشريكين على الاستعارة، كأنّه تعالى جعل البركة والفضل بمنزلة المال المخلوط، فسمّى ذاته تعالى ثالثًا لهما، وقوله: “خرجت من بينهما” ترشيح للاستعارة.

عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری (22/ 208)میں ہے:

وقال الطبري: لا ينبغي لأحد أن يسمى باسم قبيح المعنى ولا باسم معناه التزكية والمدح ونحوه، ولا باسم معناه الذم والسب۔

ہندیہ(5/362) میں ہے:

والتسمية باسم يوجد في كتاب الله تعالى كالعلي والكبير والرشيد والبديع جائزة لأنه من الأسماء المشتركة ويراد في حق العباد غير ما يراد في حق الله تعالى كذا في السراجية

درمختار(9/688) میں ہے:

وجاز التسمية بعلي ورشيد من الأسماء المشتركة ويراد في حقنا غير ما يراد في حق الله تعالى لكن التسمية بغير ذلك في زماننا أولى لأن العوام يصغرونها عند النداء كذا في السراجية

تحفۃ المودودباحکام المولودلابن القیم ؒ (ص184 )میں ہے:

والمقصود أنه لا يجوز لأحد أن يتسمى بأسماء الله المختصة به وأما الأسماء التي تطلق عليه وعلى غيره كالسميع، والبصير، والرؤوف، والرحيم، فيجوز أن يخبر بمعانيها عن المخلوق، ولا يجوز أن يتسمى بها على الإطلاق بحيث يطلق عليه كما يطلق على الرب تعالى

فتاوی محمودیہ 379/19 میں ہے :

سوال: کیا بچہ کانام ربانی رکھاجاسکتاہے ؟

الجواب حامداًومصلیاً: ربانی نام رکھنا درست ہے اس کا ترجمہ ’’اللہ والا ‘‘ لیکن پیغمبر وں کے نام کے موافق نام رکھنا یاپھر ایسا نام رکھناجس میں عبد آئے اور اللہ کے کسی نام کی طرف مضاف ہو بہتر و پسند یدہ ہے، جیسے عبدالرحمن ،عبدالرحیم وغیرہ۔

آپ کے مسائل اور ان کا حل(8/678) میں ہے:

سوال: اگر ہم اپنی دکان کا نام خدا کے صفاتی ناموں میں سے رکھیں، مثلاً :’’عبداللہ جنرل سٹور‘‘، ’’رزّاق ٹی اسٹال‘‘ یا ایسا کوئی نام جو قرآن پاک میں آتا ہو تو شرعی عذر تو کوئی نہیں؟ کیونکہ ایسے نام رکھنے میں بے ادبی کا احتمال ہوتا ہے۔ کیا ہم اپنی دکان کا نام ’’حسنین‘‘ رکھ سکتے ہیں؟ یا ’’ہاشمی‘‘ یا ’’سید‘‘ اگرچہ ہماری ذات سید یا ہاشمی نہیں ہے۔

جواب: حتیٰ الوسع ایسے نام نہیں  رکھنے چاہئیں، جس میں مقدس الفاظ کی بے حرمتی ہوتی ہو۔

الحرز الثمين للحصن الحصين، لملا علی قاریؒ (1/294)میں ہے :

ابوذر الغفاري بكسر الغين وتخفيف الیاء نسبة إلى قبيلة بني غفار.

فرہنگ آصفیہ میں ہے :

یائے معروف کبھی خطابی کبھی نسبتی کبھی مصدری کبھی لیاقتی ، متکلمی فاعلی ، مفعولی مبالغہ وغیرہ آتی ہے اور سنسکرت میں بھی نسبتی معنی پیدا کرتی ہے۔ مثلا کا بلی

فیروز اللغات میں ہے:

یائے معروف کی متعدد قسمیں ہیں مثلا : (1) یائے نسبتی جیسے پاکستانی ، طلائی، بخاری، سرمئی، موسوی ، بنگالی ، خانگی، ربانی ، حنفی ، مدنی وغیرہ (2) یائے خطاب جیسے مشفقی ، مکرمی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved