- فتوی نمبر: 36-141
- تاریخ: 22 اگست 2026
- عنوانات: عبادات > طہارت > نجاستوں کا بیان
استفتاء
اگر کوئی شخص ہندوستان، نئی دہلی، منڈاولی مین روڈ کے قریب ایسے علاقے میں رہتا ہو جہاں سڑکوں، راستوں اور گلیوں میں اکثر گائیں گھومتی پھرتی ہوں اور جگہ جگہ گندگی (گوبر) کرتی ہوں، اور لوگوں کو مجبوری کے تحت انہی راستوں سے گزرنا پڑتا ہو، نیز اس گندگی پر مکھیاں بھی بیٹھتی ہوں اور پھر وہی مکھیاں لوگوں کے جسم یا کپڑوں پر آجاتی ہوں، اور کبھی کوئی گندگی پر پانی در دیتا ہے۔
1۔ تو ایسی صورت میں کیا راستے میں موجود اس گندگی کے اوپر صرف چلنے سے ہے اور اس گندگی پر سے گزرنے سے کپڑے یا بدن ناپاک ہوجائیں گے؟
2۔اگر مکھیاں گوبر یا نجاست پر بیٹھنے کے بعد انسان کے کپڑوں یا جسم پر بیٹھ جائیں تو کیا اس سے کپڑے ناپاک ہوجاتے ہیں؟
3۔ایسی حالت میں نماز اور طہارت کے متعلق شریعت کا کیا حکم ہے؟
قرآن و سنت اور فقہِ اسلامی کی روشنی میں اس مسئلہ کی وضاحت فرمادیں ۔
نوٹ : اگر کوئی گندگی پر پانی پھینک دے یا گندگی تازہ ہو،اور ہم بھی چاہتے ہیں کہ اس پر سے نہ گزریں لیکِن گزرنے کا کوئی اور راستہ بھی نہیں ہے۔
الجواب:1۔ محض گندگی و نجاست پر سے گزرنے سے کپڑے یا بدن ناپاک نہ ہوں گے۔ البتہ اگر گندگی (گوبر) کپڑوں یا بدن کو لگے تو بدن یا کپڑے ناپاک ہو جائیں گے۔
2۔ اس سے بدن یا کپڑے ناپاک نہیں ہوں گے۔
3۔ اگر گندگی ( گوبر) کا وزن ساڑھے چار ماشہ یعنی 4.35 گرام سے زیادہ ہو تو دھوئے بغیر نماز نہیں ہوگی اور اگر اس کا وزن 4.35 گرام ہو تو بغیر عذر کے اس کے سمیت نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے۔ اور اگر اس کا وزن 4.35 گرام سے کم ہو تو بغیر مجبوری کے اس کے سمیت نماز پڑھنا مکروہ تنزیہی ہے۔[غیررسمی، مجیب: مفتی ***]
سوال بعد از جواب: درخواست یہ ہے کہ مجھے آپ کے دارالافتاء سے ایک فتویٰ ملا ہے جس میں لکھا ہے:
“اگر گندگی (گوبر) کا وزن ساڑھے چار ماشہ (4.35 گرام) سے زیادہ ہو تو دھوئے بغیر نماز نہیں ہوگی، اگر اس کا وزن 4.35 گرام ہو تو بلا عذر اس کے ساتھ نماز پڑھنا مکروہِ تحریمی ہے، اور اگر اس کا وزن 4.35 گرام سے کم ہو تو بلا مجبوری اس کے ساتھ نماز پڑھنا مکروہِ تنزیہی ہے۔”
اس سلسلے میں میری گزارش ہے کہ:
1۔ اس حکم کی تفصیلی وضاحت فرما دیں کہ یہ حکم کن فقہی کتابوں سے ماخوذ ہے؟
2۔ساڑھے چار ماشہ (4.35 گرام) کے حد کی اصل دلیل کیا ہے؟
3۔یہ حکم صرف گوبر کے لیے ہے یا ہر نجاستِ غلیظہ کے لیےہے؟
4۔اگر کپڑوں یا جوتوں کے تلووں پر راستے میں چلتے ہوئے معمولی گوبر لگ جائے تو اس کا یہی حکم ہوگا یا اس میں کوئی تفصیل ہے؟
5۔یہ بھی بتادیں کہ جسم کے کسی حصے پر گوبر یا نجاست غلیظہ لگ جائے ، تو ہم دیکھیں گے کہ نجاست اگر 4.35گرم سے کم ہو یا اتنی ہی ہو تو کیا نماز پڑھ سکتے ہیں ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔یہ حکم درمختار سے ماخوذ ہے ۔
2۔ ساڑھے چار ماشہ (4.35 گرام) کی حد کی دلیل یہ ہے کہ شریعت میں نجاستِ غلیظہ جو گاڑھی ہو ،پتلی اور بہنے والی نہ ہو اگرایک درہم کے وزن سے زیادہ ہوجائے تو وہ معاف نہیں بلکہ نماز کے لیے اس کو دھونا ضروری ہے اور ایک درہم کا وزن ایک مثقال یعنی ساڑھے چار ماشہ (4.35 گرام)کے برابر ہوتا ہے ۔
نوٹ: نجاست کے باب میں “الدرہم الکبیر” کا اعتبار ہوتا ہے نہ کہ عام درہم کا، اور” الدرہم الکبیر” کا وزن ایک مثقال یعنی ساڑھے چار ماشہ (4.35 گرام) کے برابر ہوتا ہے۔
3۔یہ حکم صرف گوبر کے لیے نہیں ہے بلکہ ہر اس نجاستِ غلیظہ کے لئے ہے جو گاڑھی ہو ،پتلی اور بہنے والی نہ ہو۔
4۔ اگر کپڑوں یا جوتوں کے تلووں پر راستے میں چلتے ہوئے گوبر لگ جائے تو اس کا بھی یہی حکم ہوگایعنی اگرایک درہم کے وزن سے زیادہ ہوجائے تو وہ معاف نہیں بلکہ اس سے کپڑے اور جوتے ناپاک ہوجاتے ہیں۔تاہم ایسے جوتوں سے زمین پر چلنے اور رگڑنے کی وجہ سے اگر نجاست زائل ہوجائے تو جوتے پاک ہوجائیں گے۔
5۔ اگر جسم کے کسی حصے پر گوبر یاکوئی اور نجاست ِغلیظہ لگ جائے ، تو ہم اس میں بھی یہی دیکھیں گے کہ نجاست اگر 4.35گرام سے زیادہ ہو تو اسے زائل (پاک) کیے بغیر نماز نہ ہوگی اور اگر 4.35 گرام ہو تو بلا عذر اس کے ساتھ نماز پڑھنا مکروہِ تحریمی ہے، اور اگر 4.35 گرام سے کم ہو تو بلا مجبوری اس کے ساتھ نماز پڑھنا مکروہِ تنزیہی ہے۔
درمختار (1/ 571)میں ہے:
(وعفا) الشارع (عن قدر درهم) وإن كره تحريما، فيجب غسله، وما دونه تنزيها فيسن، وفوقه مبطل فيفرض
درمختار (1/ 573)میں ہے:
(وهو مثقال) عشرون قيراطا (في) نجس (كثيف) له جرم(وعرض مقعر الكف) وهو داخل مفاصل أصابع اليد (في رقيق من مغلظة كعذرة) آدمي، وكذا كل ما خرج منه موجبا لوضوء أو غسل مغلظ (وبول غير مأكول ولو من صغير لم يطعم).
درمختار (1/561) میں ہے:
(ويطهر خف ونحوه) كنعل (تنجس بذي جرم) هو كل ما يرى بعد الجفاف ولو من غيرها كخمر وبول أصابه تراب به يفتى بدلك يزول به أثرها (وإلا) جرم لها كبول (فيغسل)
بدائع الصنائع (1/80) میں ہے:
وأما النجاسة الكثيرة فتمنع جواز الصلاة، واختلفوا في الحد الفاصل بين القليل والكثير من النجاسة قال إبراهيم النخعي: إذا بلغ مقدار الدرهم فهو كثير وقال الشعبي: لا يمنع، حتى يكون أكثر من قدر الدرهم الكبير.وهو قول عامة العلماء، وهو الصحيح؛ لما روينا عن عمر رضي الله عنه أنه عد مقدار ظفر من النجاسة قليلا، حيث لم يجعله مانعا من جواز الصلاة، وظفره كان قريبا من كفنا فعلم أن قدر الدرهم عفو؛ ولأن أثر النجاسة في موضع الاستنجاء عفو، وذلك يبلغ قدر الدرهم خصوصا في حق المبطون، ولأن في ديننا سعة، وما قلناه أوسع فكان أليق بالحنيفية السمحة، ثم لم يذكر في ظاهر الرواية صريحا أن المراد من الدرهم الكبير، من حيث العرض والمساحة، أو من حيث الوزن وذكر في النوادر: الدرهم الكبير: ما يكون عرض الكف وهذا موافق لما روينا من حديث عمر رضي الله عنه لأن ظفره كان كعرض كف أحدنا، وذكر الكرخي مقدار مساحة الدرهم الكبير، وذكر في كتاب الصلاة الدرهم الكبير المثقال فهذا يشير إلى الوزن.
الجوہرۃ النیرۃ (1/37) میں ہے:
قوله: (مقدار الدرهم) يعنى المثقال
اوزان شرعیہ (ص:11) میں ہے:
اوزان شرعیہ کو اوزان ہندیہ میں منتقل کرنے اور حساب لگانے میں جن اصول سے کام لیا جاسکتا ہے وہ تقریباً سب علمائے ہند کے نزدیک مسلم ہیں اور عرب وعجم کے سب فقہائے متقدمین ومتأخرین اس پر متفق ہیں ………..لیکن اختلاف یہاں سے پیدا ہوا کہ مولانا لکھنویؒ نے ستر جو ، جو مقدارِ درہم ہے اس کو دو ماشہ ڈیڑھ رتی قرار دیا اور جمہور علمائے ہند نے تین ماشہ ایک رتی اور پانچواں حصہ رتی کا قرار دیا۔ اسی طرح مثقال مولانا لکھنویؒ کی تحقیق پر تین ماشہ ایک رتی کا ہوتا ہے اور جمہور کی تحقیق پر ساڑھے چار ماشہ کا۔
مسائل بہشتی زیور (1/115) میں ہے:
اگر نجاست غلیظہ میں سے گاڑھی چیز لگ جائے جیسے پاخانہ اور مرغی وغیرہ کی بیٹ تو اگر وزن میں ایک درہم یعنی ساڑھے چار ماشہ یعنی 4.35 گرام یا اس سے کم ہو تو دھوئے بغیر نماز درست ہے اگرچہ اس کا پھیلاؤ کم ہو یا زیادہ اور اگر اس سے زیادہ وزن کی لگ جائے تو دھوئے بغیر نماز درست نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved