• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

بھول کر دودھ پلانے سے رضاعت ثابت ہوگی یا نہیں؟

استفتاء

اگر بھول کر  کوئی عورت کسی کی لڑکی کو  رات  کے اندھیرے میں دودھ پلائے  تو اس صورت میں حرمت رضاعت ثابت ہوگی یا نہیں ؟شریعت کے مطابق ہماری رہنمائی فرمائیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

بھولے سے دودھ پلانے سے بھی حرمت رضاعت ثابت ہوجائے گی۔

بدائع الصنائع (4/ 8)میں ہے:

واسم الرضاع لا يقف على الارتضاع من الثدي فإن العرب تقول يتيم راضع وإن كان يرضع بلبن الشاة والبقر ولا على فعل الارتضاع منها بدليل أنه لو ارتضع الصبي منها وهي نائمة يسمى ذلك رضاعا حتى يحرم۔

فتاوی محمودیہ (13/618) میں ہے :

سوال: مسماۃ فاروق النساء نے اپنی لڑکی کے دھوکہ میں اپنے پوتا کو گود میں لیکر دودھ پلا دیا، پانچ چھ منٹ یا کچھ کم کے بعد جو اس نے دیکھا تو وہ اس کی لڑکی نہیں تھی ، بلکہ پوتا تھا، یہ علم ہوتے ہی اس نے فورا پوتہ کو علیحدہ کر دیا۔ اب مسماۃ فاروق النساء کے اس پوتہ کی نسبت شادی مسماۃ فاروق النساء کی نواسی سے ہو سکتی ہے یا نہیں؟ اور شرعی حیثیت سے کیا وہ پوتا فاروق النساء کے بیٹے اور بیٹیوں کا رضاعی بھائی ہو گیا ؟ اگر نہیں تو کیا فاروق النساء کے دیگر بیٹے بیٹیوں کی اولاد سے اس کی شادی نکاح شرعاً جائز ہے؟ جواب سے مطلع فرمائیے ۔ مکرر عرض ہے کہ وہ دودھ کا پلانا بالکل اتفاقی اور دھو کہ میں ہو گیا ارادۃ ہرگز نہیں۔

جواب : یہ پوتا فاروق النساء کی تمام اولاد کا رضاعی بھائی ہو گیا اور اس نواسی کی والدہ کا بھی رضاعی بھائی بن گیا اور یہ نواسی اس کی رضاعی بھانجی ہوگئی ، ان دونوں کا آپس میں نکاح جائز نہیں، بلکہ فاروق النساء کی اولاد در اولاد جہاں تک بھی چلے کسی سے بھی اس کا نکاح درست نہ ہوگا۔ جب دودھ کا یقینی چاہے ایک ہی گھونٹ حلق کے اندر گیا اور خواہ کسی نیت سے ( دھوکہ سے یا قصداً )  پلایا ہو بہر حال حرام ہے: ولا حل بين رضيع و ولد مرضعته، وإن سفل، الخ.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved