- فتوی نمبر: 36-147
- تاریخ: 22 اگست 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > کنائی الفاظ سے طلاق کا حکم
استفتاء
کافی عرصہ پہلے زوجہ محترمہ سے ناراضگی ہوئی تھی جو کہ تین چار ماہ تک رہی اور پھر زید نے محترمہ سے صلح کر لی، ناراضگی حقِ زوجیت نہ ادا کرنے پر ہوئی ایسا کئی بار ہوا اور زید صلح کر لیتا زید پر محترمہ نے کئی پابندیاں بھی لگائیں، زید نے وہ بھی قبول کیں کہ گھر کا ماحول خراب نہ ہو یہاں تک کہ محترمہ نے کہا کہ آپ نے میرے کمرے میں نہیں آنا پھر کہا کہ مجھ کو کمرے سے نہیں بلانا اور نہ ہی میں نے آنا ہے پھر نہ کہنا کہ بتلایا نہیں میں نے آپ کو پہلے بتلا دیا ہے زید نے یہ بات بھی قبول کر لی ۔زید کئی بار کہتا اور محترمہ انکار کر دیتی اور زید خاموش ہو جاتا اور بات اتنی بڑھی کہ دو سال کا عرصہ ایسے گزرا کہ زید دوپہر کو بچوں کا کھانا لینے آتا تو محترمہ کو اتنی توفیق نہ ہوتی کہ زید کو پانی وغیرہ کا پوچھ لے زید نے یہ برداشت کیا پھر محترمہ کا اعتراض ہے کہ زید چار چار ماہ رجوع نہیں کرتا تو زید یہ صرف سمجھانے کے لیے کرتا ہے کہ محترمہ سمجھ جائے کہ شوہر کی ناراضگی کیا ہے؟ محترمہ نے کئی بار ناشکری اور بے قدری کا بھی اظہار کیا ۔زید ہر بار مسکرا کر بات ختم کر دیتا ہے جبکہ محترمہ دین کا علم بھی رکھتی ہیں اور دین کو سمجھتی ہیں نماز پڑھتی ہیں، قرآن پڑھتی ہیں اگر محترمہ نے اس کے باوجود غلط قدم اٹھایا تو محترمہ خود ذمہ دار ہے۔ آج سے ایک سال پہلے عید الاضحی 2025 سے پہلے بلایا محترمہ نہ آئی بار بار کہنے کے بعد محترمہ غصے کی حالت میں کمرے میں آئی اور محترمہ نے کہا “کیا کہتا ہے ” زید نے کہا آپ کو معلوم ہے کس لیے بلایا ہے محترمہ نے کہا مجھ کو ایسے کام سے نفرت ہے جو آپ چاہتے ہیں، مجھ کو کوئی ضرورت نہیں دوبارہ مجھ کو نہ بلانا میں نے نہیں آنا تو زید کو بھی غصہ آیا اور کہا کہ “تو آج سے آزاد ہے ، میرا تیرے سے کوئی تعلق نہیں تو جہاں جانا چاہتی ہے چلی جا “مجھے کوئی اعتراض نہیں ، تیرا راستہ اور میرا راستہ اور” لیکن اسی روز صبح کے وقت زید نے محترمہ کو ہاتھ لگایا ہے تو زید کو دھمکی ملی کہ مجھ کو ہاتھ نہیں لگانا پھر نہ کہنا کہ یہ کیا کیا؟ زید فورا ایک طرف ہو گیا کہ بات بڑھ جائے گی خاموشی بہتر ہے نہ جانے محترمہ کیا الفاظ بولتی اور زید بھی غصے میں کیا کچھ کہہ جاتا؟ اسی دوران محترمہ کی بڑی بہن آئی تو انہوں نے محسوس کیا کہ زید اور محترمہ آپس میں بولتے نہیں دونوں بہنوں کے درمیان کیا بات ہوئی؟ زید کو کوئی علم نہیں، زید نے باجی کو کہا کہ صلح کی کوئی گنجائش نہیں اس کے بعد زید کا بڑا بھائی آیا اور ناراضگی ختم کرنے کا کہا ،زید نے کہا”محترمہ جہاں چاہے جا سکتی ہے زید کو کوئی اعتراض نہیں ” محترمہ نے یہ الفاظ کئی بار دہرائے کہ ہر کوئی اپنی مرضی کا مالک ہے ہر کوئی اپنی مرضی کرتا ہے زید نے ان تمام باتوں کو مدنظر رکھ کر اور مجبور ہو کر ایسے الفاظ بولے آخر زید کب تک برداشت کرتا زید کی فیملی ایک چھت کے سائے میں رہتی ہے تین بیٹے شادی شدہ ہیں زید نے محترمہ کو دین کے بارے میں کئی بار بتایا کہ میاں بیوی کے معاملات بہت اہم ہوتے ہیں ایسی عورت کی کسی بھی مرد کے دل میں جگہ نہیں ہوتی جو عورت نافرما ن ہو ، ناشکری ہو اور بے قدری ہو ۔زید نے علماء کرام اور بزرگوں سے سنا ہے اور کتابوں میں پڑھا ہے میاں بیوی کی ناراضگی اللہ تعالی کو پسند نہیں جو بیوی شوہر کے کہنے پر شوہر کے پاس نہ آئے تو فرشتے ساری رات اس عورت پر لعنت کرتے ہیں جو عورت شوہر کے کپڑوں کی دھلائی کرتی ہے وہ عورت ایک ہزار نیکی کی حقدار ہوتی ہے میاں بیوی کی خوشی میں اللہ تعالی بھی خوش ہوتے ہیں اگر بیوی ایک بار شوہر کی ناشکری کرے تو اس عورت کی 70 سال کی عبادت ضائع جاتی ہے ۔مفہوم حدیث بہت ساری عورتیں جہنم میں جائیں گی جو شوہر کی نافرمان ہوں گی ایک سال ہو گیا زید گھر سے کھانا بھی نہیں کھاتا اور کپڑے بھی خود دھلائی کرتا ہے گزارش ہے کہ آپ رہنمائی فرمائیں کہ:
1۔ مذکورہ صورت میں طلاق ہوگئی ہے یا نہیں؟
2۔ زید کی بیوی کا یہ رویہ یعنی شوہر کے حقوق ادا نہ کرنا شرعاً کیسا ہے؟
وضاحت مطلوب ہے: آپ کی طلاق کی نیت تھی یا نہیں؟
جواب وضاحت:طلاق کی نیت نہیں تھی۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔مذکورہ صورت میں اگر واقعتاً آپ کی طلاق کی نیت نہیں تھی تو آپ کے حق میں کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی لیکن جب آپ کی بیوی نے مذکورہ الفاظ خود سنے ہیں تو عورت کے لیے تجدید نکاح کے بغیر آپ کے ساتھ میاں بیوی والے تعلقات قائم کرنا جائز نہیں۔
توجیہ: مذکورہ صورت میں شوہر کے یہ الفاظ کہ ” تو آج سے آزاد ہے” کنایات طلاق کی تیسری قسم میں سے ہیں اور کنایات سے دیانۃً شوہر کی نیت کے بغیر طلاق واقع نہیں ہوتی تاہم ایسے الفاظ سے غصے کی حالت میں شوہر کی نیت کے بغیر بھی بیوی کے حق میں بائنہ طلاق واقع ہوجاتی ہے ، مذکورہ صورت میں چونکہ شوہر نے یہ الفاظ غصے کی حالت میں کہے ہیں اس لیے بیوی کے حق میں ان الفاظ سے ایک بائنہ طلاق واقع ہوگئی ہے اور بائنہ طلاق سے نکاح ختم ہوجاتا ہے تاہم باہمی رضامندی سے نیا نکاح کرکے اکٹھے رہنے کی گنجائش ہوتی ہے لہٰذا اگر میاں بیوی چاہیں تو نیا نکاح کرکے رہ سکتے ہیں اور شوہر نے جو دوسرے جملے استعمال کیے ہیں مثلا ً (میرا تیرے سے کوئی تعلق نہیں، تو جہاں جانا چاہتی ہے چلی جا) کنایات طلاق میں سے ہیں جن سے لایلحق البائن البائن کے اصول کے پیشِ نظر مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔
2۔ مذکورہ صورت میں اگر بیوی کسی شرعی یا طبعی عذر کے بغیر ایسا کرے تو یہ گناہ کا کام ہے ہاں اگر بیوی میں بوڑھاپے یا بیماری وغیرہ کی وجہ سے ہمبستری کا تحمل نہ ہو تو وہ گناہ گار نہیں۔
1۔شامی (4/520) میں ہے:
ونحو اعتدي واستبرئي رحمك، أنت واحدة، أنت حرة، اختاري أمرك بيدك سرحتك، فارقتك لا يحتمل السب والرد
شامی (4/399) میں ہے:
والثالث يتوقف عليها في حالة الرضا فقط، ويقع حالة الغضب والمذاكرة بلا نية
شامی (4/407) میں ہے:
(قوله لا يلحق البائن البائن) المراد بالبائن الذي لا يلحق هو ما كان بلفظ الكناية لأنه هو الذي ليس ظاهرا في إنشاء الطلاق كذا في الفتح
شامی (3/409) میں ہے:
(وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع)
امداد الاحکام(2/610) میں ہے:
اور چوتھا جملہ یہ ہے کہ “وہ میری طرف سے آزاد ہے” اس کنایہ کا حکم در مختار میں صریح موجود ہے کہ غضب ومذاکرہ میں بدون نیت بھی طلاق بائن واقع ہوجاتی ہے۔
فقہ اسلامی (ص :122)میں ہے:
ایک جملہ ہے تجھے آزاد کیا اور دوسرا جملہ ہے تو آزاد ہے ۔ پہلا جملہ طلاق میں صریح ہے ۔ اور اس سے طلاق رجعی پڑتی ہے جبکہ دوسرا جملہ طلاق میں کنایہ ہے ۔اس سے طلاق بائن پڑتی ہے ۔
امدادالاحکام (2/460) میں ہے:
سوال: (۱) زید نے مسمیٰ ہندہ سے کہا کہ” اب تو دوسرا نکاح کرے گی ہی فلاں سے” یا یوں کہا “جا نکاح کر” یا ہند ہ کے گھر والوں سے کہا کہ “جاؤ دوسرا انتظام کرو ” لفظ ثالث سے مقصود طلاق نہیں،علی ہذا ماقبل کے دونوں لفظوں سے بھی طلاق کا خیال نہیں، زید کہتا ہے کہ میں نے الفاظ مذکورہ اس وجہ سے استعمال کیے کہ “آئندہ ہندہ کو عبرت ہو ” پھر ایسے حرکت ِ ناشائستہ نہ کرے ممکن ہے کہ آئندہ اپنی حرکتِ نا معقول سے باز آجاوے جب مقصود تنبیہ ہے طلاق نہیں تو کیا دلالت حال کا اعتبار کر کے شرع وقوع ِ طلاق کا حکم لگا سکتی ہے یا نہیں؟ اگر یہ الفاظ مذاکرہ طلاق اور حالت غضب میں نہ کہے جاویں بلکہ استہزاء ًکہے جاویں تو کیا حکم ہے ؟…………….
(۳) اگر زید کی نیت قضاءً معتبر نہ ہو تو کیا دیانۃً فیما بینہ و بین اللہ بھی معتبر نہ ہوگی؟ یعنی اگر قضاءً ہندہ طالق ہو گئی تو فیمابینہ و بین اللہ بھی طالق ہوئی یا نہیں ؟ اگر دیانۃً طلاق نہیں پڑی تو کیا تعلق رکھنا ہندہ سے جائز ہے یا تجدید نکاح کی ضرورت ہے؟
الجواب:(۱) زید کا یہ قول کہ “اب تو دوسرا نکاح کرے گی ہی ” کنایہ یا صریح کچھ نہیں، اس سے انشاء طلاق کا قصد محاورات میں نہیں ہو سکتا اور دوسرا اور تیسرا لفظ یعنی “جانکاح کر ” یا ہندہ کے اہل سے کہا “جاؤ دوسرا انتظام کرو “یہ کنایات طلاق میں سے ہے جس کا حکم یہ ہے کہ قضاءً دلالت حال غضب یا مذاکرہ کے ہوتے ہوئے بدون نیت کے اس سے طلاق واقع ہو جائے گی اور اگر دلالت حال و مقال نہ ہو تو بدون نیت کے وقوع نہ ہوگا اور دلالت حال غضب کے ہوتے ہوئے قضاءً نیت تہدید مسموع نہ ہوگی اور عورت قضاء کا سا معاملہ کرے گی اور دیانۃً جمیع کنایات میں بدون نیت کے طلاق واقع نہیں ہوتی ۔كما يظهر من الدر والشامية (2/765،764) من تقييدهما مسئلة وقوع الطلاق بها بدلالة الحال من غير نية بالقضاء وتعليلهما اياها بانه صرف عن الظاهر فلذا وقع بها قضاء بلا توقف على النية كما في صريح الطلاق اذا نوى به الطلاق عن وثاق ، قلت وقد مر في باب الصريح انه لو نوى به الطلاق عن وثاق دين فكذا في المشبه فافهم
(۳) جن صورتوں میں قضاءً وقوع ِ طلاق ہوتا ہے اور دیانۃً نہیں ہوتا وہاں حکم یہ ہے کہ شوہر کو تو بیوی کے ساتھ معاملۂ زوجیت جائز ہے لیکن اگر عورت نے الفاظ طلاق کنایہ وغیرہ خود سنے ہیں یا تو کسی عادل نے اسے خبر دی ہے تو اس کو شوہر کے پاس رہنا جائز نہیں اور نہ تمکین جائز ہے۔ لانها کالقاضی لا تقبل منه الا ما یقبله القاضی وترد ما یرده
2۔ مسند احمد (رقم الحدیث:7471) میں ہے:
حدثنا يزيد، أخبرنا شعبة، عن قتادة، وابن جعفر، حدثنا شعبة، قال: سمعت قتادة، عن زرارة بن أوفى، عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ” إذا باتت المرأة هاجرة فراش زوجها، باتت تلعنها الملائكة
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب عورت اپنے شوہر کے بستر کو چھوڑ کر رات گذارے تو وہ اس حال میں رات گذارتی ہے کہ فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved