• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

مسائل بہشتی زیور میں عید پڑھنے سے متعلق ایک مسئلہ کی تحقیق

استفتاء

اگر نماز صرف عیدگاہ میں  ہوتی ہو تو عید گاہ میں جاکر عید کی نماز پڑھنا  یعنی شہر کی مسجد میں بلاعذر نہ پڑھنا۔

یہ مسئلہ مسائل بہشتی زیور میں عید کی سنتوں میں لکھا ہے ، اس میں یہ رہنمائی فرمادیں کہ یہ شروع کی بات

“اگر نماز صرف عیدگاہ میں  ہوتی ہو ” قید اتفاقی ہے یا احترازی ہے ؟یعنی مکمل مسئلہ کیا ہے ؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

حنفیہ کے ہاں راجح قول کے مطابق عید کی نماز شہر سے باہر کھلے میدان میں پڑھنا سنت ہے۔ لہٰذا مذکورہ قید اتفاقی ہے  یا اس میں تسامح ہوا ہے۔

بذل المجہود (5/ 256) میں ہے:

وقال الشوكاني في “النيل”: الحديث يدل على أن ترك الخروج إلى الجبانة، وفعل الصلاة في المسجد عند عروض عذر المطر غير مكروه، وقد اختلف هل الأفضل فعل صلاة العيد في المسجد أو الجبانة؟ فذهبت العترة ومالك إلى أن الخروج إلى الجبانة أفضل، واستدلوا على ذلك بما ثبت من مواظبته صلى الله عليه وسلم على الخروج إلى الصحراء، وذهب الشافعي والإمام يحيى وغيرهما إلى أن المسجد أفضل.

قال في “الفتح”: قال الشافعي في “الأم”: بلغنا أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يخرج في العيدين إلى المصلى بالمدينة، وهكذا من بعده إلا من عذر مطر ونحوه، وكذا عامة أهل البلدان إلا أهل مكة، ثم أشار الشافعي إلى أن سبب ذلك سعة المسجد، وضيق أطراف مكة، قال: فلو عمر بلاد وكان مسجد أهله يسعهم في الأعياد لم أر أن يخرجوا منه، فإن لم يسعهم كرهت الصلاة فيه ولا إعادة.

قال الحافظ: ومقتضى هذا أن العلة تدور على الضيق والسعة لا لذات» «الخروج إلى الصحراء، لأن المطلوب حصول عموم الاجتماع، فإذا حصل في المسجد مع أولويته كان أولى، انتهى.

وفيه أن كون العلة الضيق والسعة مجرد تخمين لا ينتهض للاعتذار عن التأسي به صلى الله عليه وسلم في الخروج إلى الجبانة بعد الاعتراف بمواظبته صلى الله عليه وسلم على ذلك، انتهى.

ومذهب الحنفية في ذلك ما قال صاحب “الدر المختار”: “والخروج إليها” أي الجبانة لصلاة العيد “سنة وإن وسعهم المسجد الجامع” هو الصحيح، قال الشامي: قال في “الظهيرية”: وقال بعضهم: ليس بسنة، وتعارف الناس ذلك لضيق المسجد وكثرة الزحام، والصحيح الأول، انتهى.»

الدر المختار (5/108) میں ہے:

 (والخروج إليها) أي الجبانة لصلاة العيد (سنة وإن وسعهم المسجد الجامع) هو الصحيح

(قوله: هو الصحيح) قال في الظهيرية. وقال بعضهم: ليس بسنة وتعارف الناس ذلك لضيق المسجد وكثرة الزحام والصحيح هو الأول.

وفي الخلاصة والخانية: السنة أن يخرج الإمام إلى الجبانة، ويستخلف غيره ليصلي في المصر بالضعفاء بناء على أن صلاة العيدين في موضعين جائزة بالاتفاق، وإن لم يستخلف فله ذلك

المحیط البرہانی (2/ 100) میں ہے:

والخروج إلى الجبانة لصلاة العيد سنّة، وإن كان يسعهم المسجد الجامع، على هذا عامة المشايخ. وبعضهم قالوا: الخروج إلى الجبانة ليس سنّة، وإنما تعارف الناس ذلك لضيق المسجد، والصحيح ما عليه عامة المشايخ ………. وتجوز إقامة صلاة العيد في موضعين نص على هذا في «الأصل» وهذا لما ذكرنا أن السنّة في صلاة العيد أن تقام خارج المصر بالجبانة، ولا يمكن للضعفاء الخروج إليها إلا بحرج عظيم، فجوزنا الإقامة في موضعين دفعاً للحرج.

ہندیہ (1/ 150) میں ہے:

الخروج إلى الجبانة في صلاة العيد سنة وإن كان يسعهم المسجد الجامع، على هذا عامة المشايخ وهو الصحيح، هكذا في المضمرات.

بزازیہ (1/220) میں ہے:

والسنة الخروج الى الجبانة وان وسعهم الجامع ويستخلف من يصلى في المصر بالضعفاء والمرضى.

البحر الرائق شرح كنز الدقائق (2/ 171) میں ہے:

وفي التجنيس والخروج إلى الجبانة سنة لصلاة العيد، وإن كان يسعهم المسجد الجامع عند عامة المشايخ هو الصحيح .

وفي المغرب الجبانة المصلى العام في الصحراء، وعلى هذا فيجوز أن يكون منصوبا عطفا على يطعم؛ لأن التوجه إلى المصلى مندوب كما أفاده في التجنيس، وإن كانت صلاة العيد واجبة حتى لو صلى العيد في الجامع، ولم يتوجه إلى المصلى فقد ترك السنة.

النہر الفائق (1/ 367) میں ہے:

وقد يقال: ليس الكلام في مطلق التوجه بل إلى خصوص المصلى، ولاشك في ندبه ففي (التجنيس) وغيره الخروج إلى الجبانة لصلاة العيد سنة. وإن كان يسعهم المسجد الجامع عند عامة المشايخ وهو الصحيح.

حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح (ص:531) میں ہے:

قوله: “ثم يتوجه إلى المصلى” بالنصب عطف على المندوبات فإن خصوص التوجه إلى المصلى مندوب وإن وسعهم المسجد عند عامة المشايخ وهو الصحيح وقد كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يخرج في صلاة العيد إليه وهو موضع معروف بالمدينة بينه وبين باب المسجد ألف ذراع كما في العيني على البخاري وأما مطلق التوجه فواجب.

درر الحكام شرح غرر الأحكام (1/ 142) میں ہے:

والخروج إليها سنة وإن وسعهم المسجد

وفي حاشيته: (قوله والخروج إليها أي الجبانة سنة، وإن وسعهم المسجد) أقول هذا عند عامة المشايخ وهو الصحيح كما في البحر عن التجنيس.

خزانۃ المفتین (ص:774) میں ہے:

والخروجُ إلى الجبّانة لصلاة العيد سنّةٌ وإن كان المسجدُ الجامعُ يسعُهم

والسنّةُ أن يخرج الإمام إلى الجبّانة، ويستخلفَ غيرَه ليصلّي في المصر بالضعفاء والمرضى، ويصلّي هو في الجبّانة بالأقوياء والأصحّاء، وإن لم يستخلف أحداً كان له ذلك

فتاوی تاتارخانیہ (2/611)میں ہے:

والخروج الي الجبانة لصلاة العيد سنة وان كا يسعهم لمسجد الجامع على هذا عامة المشايخ وبعضهم قالوا: الخروج الي الجبانة ليس بسنة انما يتعارف الناس ذلك لضيق المسجد وكثرة الزحام والصحيح ما عليه عامة المشايخ وفى الخلاصة: والخروج أفضل ان امكن ثم لا يبعدون عن مصر بل يقيمونها في فناء المصر

امداد الفتاویٰ (2/582) میں ہے:

في الدر المختار والخروج إليها أي الجبانة لصلاة العيد سنة وان وسعهم المسجد الجامع والصحيح اور احادیث سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بجز ایک بار کہ عذر بارش کی وجہ سے مسجد میں ادا فرمائی تھی ہمیشہ میدان ہی میں تشریف لے جاتے تھے حتی کہ جن پر عذر شرعی سے نماز بھی نہ تھی ان کے لے جانے کا اہتمام فرماتے تھے چنانچہ بکثرت احادیث وارد ہیں پس جس امر کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو قولاً وفعلاً اہتمام ہو اس کے خلاف کا قولا ً و فعلا ً اہتمام کرنا صریحاً مخالفت سنت کی ہے جس کے گناہ ہونے میں کوئی شبہ نہیں ۔حدیث میں ہے :فمن رغب عن سنتي فليس مني.

امداد الاحکام (1/732) میں ہے:

سوال: نماز عیدین مسجد میں ہی پڑھنی چاہیے یا جنگل میں، اصل شرعی حکم کیا ہے؟ جو لوگ اپنی ضد نفسانیت سے عنادا جنگل میں نہ جائے اور مسجد ہی میں پڑھے اور خطیب جامع مسجد دوسرے لوگوں کے ہمراہ جنگل میں پڑھتا ہو اور تھوڑے اپنی نفسانیت سے نہ جائے اور کوئی عذر شرعی بھی نہ ہو تو ان کا کیا حکم ہے ؟

الجواب : نماز عیدین کا عید گاہ میں پڑھنا سنت ہے بلاوجہ اس سنت کا چھوڑنا برا ہے لیکن اگر کوئی جماعت شہر ہی میں عید کی نماز بلا عذر پڑھ لے تو اس کو بھی ملامت نہ کرنا چاہیے کیونکہ صلاۃ عید کا متعدد مواقع پر  پڑھنا بالاتفاق جائز ہے اور اگر کوئی جماعت بستی میں عید کی نماز اس لیے پڑھے کہ مثلا عید گاہ کا امام جاہل  ہے یا فاسق ہے تو یہ جماعت اس فعل میں معذور ہے۔لیکن دینی کاموں میں ضد اور نفسانیت کو کام میں لانا گناہ ہے، اگر کوئی غرض محمود ہو تو بستی میں بھی عید کی نما ز جائز ہے۔

کفایت المفتی (3/293) میں ہے:

عید کی نماز شہر سے باہر جاکر عیدگاہ میں پڑھنا مسنون ہے۔ والخروج إليها (أی الجبانة) لصلوة العید سنة وإن وسعهم المسجد الجامع وهو الصحیح (درمختار ص ۶۱۲ ج۱) اور شہر میں بلا عذر عید کی نماز پڑھنا مکروہ ہے، اگرچہ نماز ہوجائے گی مگر ثواب کم ہوگا اور اگر  عذر ہو تو بلا کراہت جائز ہے۔

کفایت المفتی (3/296) میں ہے:

عیدین کی نماز ادا کرنے کا طریقہ مسنونہ و متوارثہ سلفاً و خلفاً یہی ہے کہ شہر کے باہر میدان میں ادا کی جائے اور تمام شہر کے لوگ جن کو کوئی عذر نہ ہو باہر جاکر ہی نماز ادا کریں آنحضرت ﷺ نے بجز ایک مرتبہ کے ہمیشہ شہر کے باہر جبانہ میں ہی نماز عید ادا فرمائی ہے اور حضور اکرمﷺ کے بعد خلفائے راشدین کے فعل سے بھی یہی ثابت ہے اور ایک مرتبہ جو شہر میں حضور اکرم ﷺنے نماز عید پڑھی ہے اس کی وجہ یہ تھی کہ بارش کی وجہ سے باہر جانا دشوار تھا ہمیشہ شہر سے باہر عید کے لئے تشریف لے جانا ظاہر ہے کہ کوئی عادی فعل نہیں تھا بلکہ نماز کی باہر افضلیت کی  بنا پر تھا اس بنا پر محققین احناف بلا عذر شہر میں نماز عید ادا کرنے کو خلاف سنت  اور مکروہ کہتے ہیں  لیکن یہ ضرور ہے کہ شہر کے تمام لوگ باہر جانے کے لائق نہیں ہوتے کیونکہ آبادی میں بوڑھے اور کمزور اور مریض وغیرہ بھی ہوتے ہیں اس لئے یہ بھی سنت ہے کہ امام شہر کی جامع مسجد میں اپنے نائب کو نماز عید پڑھانے کے لئے چھوڑ جائے تاکہ معذورین کی نماز بھی آسانی سے ہوجائے اور اگر شہر بڑا ہو اور تمام معذورین کا ایک مسجد میں جمع ہونا بھی  بعد اطراف شہر کی وجہ سے مشکل ہو تو دو تین مسجدوں میں نماز عید ہوسکتی ہے ۔      

میدان  میں نماز پڑھنے سے یہی مراد ہے کہ شہر کی آبادی سے باہر جاکر میدان میں پڑھی جائے بعض عبارات میں لفظ صحرا واقع ہے جو  آبادی سے باہر کے میدان پر ہی صادق آتا ہے ضرورت سے زیادہ تعدد اور مساجد میں نماز عید قائم کرنے کی کثرت اور غیر معذورین کا شہر میں نماز پڑھنا خلاف سنت  اور مکروہ ہے کیونکہ عیدین کی نماز شہر سے باہر قائم کرنے کی حکمت یہی تھی کہ پوری جمعیت اسلامیہ کے اجتماع سے مسلمانوں کی شوکت ظاہر  ہو اور ظاہر ہے کہ شہر میں بکثرت مقامات میں عید پڑھنے سے یہ غرض  مفقود اور مضمحل ہوجائے گی ۔      

فتاوی محمودیہ(8/404) میں ہے:

سوال: عیدالاضحی کی نماز شہر کی مساجد میں ہوجاتی ہے۔جیساکہ یہ مسئلہ بہشتی زیور میں لکھاہوا ہے مگر قابلِ دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیااتنی بڑی تعداد میں سنت کاترک مداومت کا باعث نہیں۔ واضح ہوہمارے یہاں شہر میں نوے فیصد مساجدمیں عیدالاضحی کی نماز پڑھ لی جاتی ہے اورشہر کی مساجد میں نماز پڑھ لینے کی مصلحت یہ بتاتے ہیں کہ جلداز جلد قربانی کے کام سے فرصت مل جاتی ہے ایک امام مسجد اصرار کرتے ہیں کہ شہر میں نماز ادا کرلینا بہتر نہیں خلاف سنت ہے اس لئے عیدگاہ میں نماز ہونی چاہيے۔ ان کایہ کہنا صحیح ہے یانہیں؟

جواب: عیدگاہ میں جاکر نماز عید ادا کرنامندوب ہے اگرچہ جامع مسجد میں وسعت ہو، فان خصوص التوجه إلى المصلی مندوبٌ وان وسعه المسجد عندعامة المشائخ وهو الصحیح (طحطاوی، ص:  290)  اگر عید گاہ میں لوگ جاکر نماز ادا کرلیں اورکچھ لوگ شہر کی جامع مسجد میں پڑھ لیں تب بھی مستحقِ ملامت نہیں، سب لوگ اگر مسجد ہی میں پڑھیں توخلافِ مندوب ہے۔

فتاویٰ محمودیہ (8/407) میں ہے:

عید کی نماز صحراء میں جاکر پڑھنا سنت ہے جب کہ وہاں کوئی شرعی منکرنہ ہو اور مساجد میں پڑھنا بھی مکروہ نہیں، البتہ سنت کاثواب حاصل نہ ہوگا۔ صحراء میں عیدگاہ کاہونا ضروری نہیں بلکہ عیدگاہ کے بغیر بھی صحراء میں پڑھنے سے سنت کاثواب حاصل  ہوجائے گا بہتر یہ ہے کہ تمام آدمی جنگل میں جاکر عیدین ادا کریں اورجومعذورین ہوں وہ سابق عیدگاہ میں(جو آبادی میں ہے ) ادا کریں اورہرمسجد میں عیدین کی ادائیگی بندکردی جائے اوراگروسعت اورسہل ہوتوجنگل میں نئی عیدگاہ بنائیں ورنہ بغیر عید گاہ ہی ادا کرلیاکریں۔

فتاوی محمودیہ (8/415) میں ہے:

عید کی نماز عیدگاہ میں جاکر پڑھنا سنت ہےاگر کوئی عذر ہو تو مسجد میں بھی درست ہے، اوربلاعذر مسجد میں پڑھنے سے نمازتو ہوجاتی ہے لیکن حضور اکرمﷺ کے اتباع کی فضیلت حاصل نہیں ہوتی ۔نیز باہر جاکر ادا کرنے میں کچھ اوربھی مصالح ہیں وہ بھی اس صورت میں فوت ہوتی ہیں اگر کوئی شخص خودعیدگاہ میں نہ جائے توبلاوجہ دوسروں کوجانے سے نہیں روکنا  چاہیے۔

احسن الفتاویٰ (4/129) میں ہے:

جواب:  عید گاہ شہر سے باہر ہونا سنت مؤکدہ ہے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم عیدین کی نماز ہمیشہ باہر ادا فرماتے تھے بلکہ معذورین کو بھی ساتھ لے جانے کا اہتمام فرماتے تھے صرف ایک مرتبہ بارش کی وجہ سے باہر تشریف نہیں لے  جا سکے۔ رواه ابو داؤد في سننه اس لیے اصل حکم یہی ہے کہ عید کے لیے شہر سے باہر ایک ہی جگہ اجتماع عظیم ہو اس میں شوکت اسلام کا مظاہرہ بھی ہے مگر بڑے شہروں سے باہر نکلنا مشکل ہے اس لیے شہر کے اندر بڑے میدان میں یا بوقت ضرورت مسجد میں ادا کرنا بلا کراہت درست ہے لیکن حتی الامکان لازم ہے کہ ہر محلہ میں چھوٹے چھوٹے اجتماعات کی بجائے ایک مقام پر بڑے اجتماع کی کوشش کی جائے۔

قال في الدر والخروج اليها اي الجبانة لصلاة العيد سنة وان وسعهم المسجد الجامع هوالصحيح

وفي الشامية: قال في الظهيرية: وقال بعضهم: ليس بسنة وتعارف الناس ذلك لضيق المسجد وكثره الزحام والصحيح هو الاول اه‍ وفي الخلاصة والخانية: السنةان يخرج الامام الى الجبانة ويستخلف غيره ليصلي في المصر بالضعفاء بناء على ان صلاة العيدين في موضعين جائزة بالاتفاق وان لم يستخلف له ذلك اه‍(رد المختار ص٧٧٦ج١) فقط والله اعلم.

فتاوی دارالعلوم دیوبند(5/225) میں ہے:

سوال: جو لوگ عیدین کو جمعہ مسجد میں پڑھتے ہیں ان کی نماز ہو جاتی ہے ؟

الجواب :نماز ہو جاتی ہے مگر عیدگاہ میں پڑھنا سنت ہے عید گاہ میں بلا عذر نماز عیدین نہ پڑنا خلاف سنت ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved