• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

نشہ کی وجہ سے ذہنی توازن درست نہ رہنے والےشخص کی طلاق اور حرمت مصاہرت کا حکم

استفتاء

1۔ایک آدمی نے کچھ کفریہ کلمات منہ سے بولے جس کی  وجہ سے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو گیا اور نکاح ٹوٹ گیا۔ اُس نے نکاح دوبارہ مفتی صاحب کے پاس جاکر پڑھوا لیا ۔ اب اس صورت میں ان میاں  بیوی کا نکاح پچھلے نکاح کی طرح ہی ہے یا کوئی فرق ہے ؟ ایسا ایک دفعہ ہی ہوا اور تب یہ آدمی صحیح الدماغ تھا ۔

2۔اس  آدمی کے ذہن پر کچھ اثر  ہے ۔وہ  ذہنی مریض ہے۔ اسی مرض کے دورے کی حالت میں ایک دن سوئے ہوئے اُٹھا اور کہنا شروع کیا کہ میں تمہیں طلاق دینے لگا ہوں۔ اللہ کو حاضر ناظر جان کر میں تمہیں  ۔۔۔بس اتنا ہی جملہ کئی بار کہا. پھر جب گھر کے بڑوں نے سمجھایا  تو چپ ہو گیا ۔ تھوڑی دیر بعد کسی بڑے نے سمجھاتے ہوئے کہا کہ یہ تمہاری بیوی ہے اسکا خیال کرو تو اُس  نے پنجابی میں کہا کہ  “میں نے چھوڑد ی ہے”۔ بعد میں  اُس سے پوچھا گیا کہ کیا تمہاری طلاق کی نیت تھی ؟ توا س نے کہا نہیں ۔ اس صورت میں کیا حکم ہے ؟

3۔ اسی ذہنی مریض شخص نے اپنی بالغ بیٹی کو کہا کہ میری  شرمگاہ کو پکڑو اور اُس بچی نے ہاتھ میں پکڑا درمیان میں کوئی کپڑا  نہ تھا۔ اور اُس شخص نے اپنے ہاتھ سے بچی کی شرم گاہ کو بھی بغیر کسی حائل کپڑے کے  چھوا ۔ یہ بات بچی نے ماں کو بتائی ہے۔ ماں حلفاً کہتی ہے کہ بچی نے یہی بات بتائی ہے  اور یہ بھی یقین ہے کہ بچی نے سچ ہی بولا ہے ۔ بچی کی عمر 12 سال ہے شمسی اعتبار سے اور وہ بالغ ہوچکی ہے  ۔ اب اس صورت میں کیا حکم ہے ؟

یہ آدمی دوماہ  Rehab  ( ذہنی مریضوں اور نشہ کے عادی افراد کی بحالی کے لیے بنایا گیا ادارہ۔ مجیب)میں رہ کر آیا ہے۔ اور اس آدمی کو کبھی ایکدم بیوی پر شک ہونے لگتا  ہے۔کبھی کہتا ہے کہ میں اپنے بچوں کا DNA ٹیسٹ کرواؤں گا کہ میرے ہیں یا نہیں۔ پھر اس کو  یہ بھی  لگا کہ اصل بیوی کو کچھ ہو گیا ہے قتل ہو گئی یا جہاد پر چلی گئی ،تم اس کی نقل ہو۔ اسی قسم کی دیگر علامات  کے متعلق جب بیوی نے ڈاکٹر کو بتایا تو اُس نے کہا کہ یہ شیزو فرینیا کی بیماری ہے۔ شوہر کے گھر والے کہتے  ہیں کہ اس کو کوئی بیماری نہیں ہے۔ ڈرامے کر رہا ہے۔ اور یہ اس سے ملتی جلتی باتیں تو دو سے تین  دفعہ کہہ چکا ہے۔

تنقیح :سائلہ بیوی ہے  ۔ شوہر اس وقت ری ہیب ( نشہ اور ذہنی مریضوں کی بحالی کا ادارہ) میں زیر علاج ہے اس لیے اس سے رابطہ ممکن نہیں ہے ۔پہلے بھی اسے وہاں داخل کروایا گیا تھا  لیکن علاج کی مدت مکمل کیے بغیر اسے گھر لے آئے تھے  جس کی وجہ سے  وہ ٹھیک نہیں ہوسکا تھا ۔بیوی کے علم میں پہلے یہ بات نہیں تھی کہ شوہر کی یہ حالت نشہ کی وجہ  سے ہے وہ اسے نفسیاتی مریض سمجھتی تھی اس وجہ سے سوال میں اسی کا ذکر ہے ۔ لیکن حال ہی میں جب شوہر کو دوبارہ  اس ادارہ میں داخل کروایا گیا  تو  ان سے پتا چلا کہ  شوہر نشہ کرتا ہے اور یہ حالت نشہ کی وجہ سے ہے ۔  شوہر کا نشہ کرنا  شروع میں بیوی سے مخفی رکھا گیا تھا ۔

شوہر کا ذہنی توازن درست نہیں رہتا تھا وہ بہکی  بہکی باتیں کرتا تھا  مثلا ً یہ کہ مجھے اللہ کی طرف سے اشارہ ملتا ہے کہ یہ کام کرو یا یہ کہ فلاں بندہ ایسا ہے ۔ ایک موقع پر کسی سے لڑائی کے بعد کہنے لگا کہ میری مٹھی اس وقت بند تھی اگر میں اس وقت مٹھی کھول دیتا تو وہ   تباہ ہوجاتا ۔ اسی طرح کبھی انجانا   سا خوف سوار رہتا ہے  کہ کوئی میرے تعاقب میں ہے ایک دفعہ گھر کے سارے کیمرے اتاردیے اسی طرح اپنی گاڑی کا پورا انجن کھول دیا کہ اس میں کچھ چھپایا گیا ہے ۔غرضیکہ ایک خیالی دنیا میں رہتا  تھا ۔ سوال میں ذکر کیے گئے دونوں واقعات (طلاق اور بیٹی کے ساتھ نازیبا حرکت ) اسی رمضان المبارک کے ہیں  جبکہ شوہر کی ذہنی حالت ایسی ہی تھی ۔ڈاکٹر کی بتائی ہوئی دوائیاں کھانے سے نیند بہت آتی تھی  تو گھر والوں نے دوائی چھڑوادی  تو طبیعت بگڑگئی ۔اپنے منہ پر اتنے طمانچے مارے کہ نیل پڑگئے  اور یہ کہا کہ میں تم لوگوں کو کچھ نہیں کہوں گا اپنے آپ کو ہی کہوں گا ۔اسی طرح ایک دن دوائی کا پورا پتہ ایک دم ہی کھالیا ۔ انہی دنوں یہ طلاق کا واقعہ بھی ہوا اور بیٹی والا واقعہ بھی ۔ بیٹی کے ساتھ  شوہر نے جب مذکورہ  حرکت کی  تو  اس کے بعد بیوی فورا ً اپنے والدین کے گھر آگئی تھی  اور شوہر سے کوئی بات اس بارے میں نہیں کی ۔بیوی کا کہنا ہے کہ   جب تک شوہر  دماغی طور پر   مکمل   صحت یاب نہیں ہوجاتا تو بیوی اس کے ساتھ نہیں رہ سکتی کیونکہ  کہ بچی کی عزت خطرہ میں ہے   ۔

شوہر کے بڑے بھائی کا بیان :

وہ ذہنی مریض ہے اس  وقت زیر علاج ہے ۔ آئس وغیرہ کا  نشہ کرتا رہا  ہے ۔پہلے بھی علاج کروایا تھا لیکن مکمل نہیں کیا تھا ۔ حالیہ طلاق کا واقعہ  ایسے ہی ہوا میں وہیں موجود تھا لیکن چھوڑدی کے  الفاظ نہیں بولے تھے ۔ دوسرے بیٹی والے واقعہ کے بعداس کی بیوی جب بچوں کو لے کر اپنے گھر چلی گئی تھی تب یہ بھی نشہ کے چکر میں کہیں غائب ہوگیا تھا ۔ ہم  نے اس کو ڈھونڈا ۔ میں نے اس کو مسجد میں بٹھا کر    بتایا کہ تمہاری بیوی نے بتایا ہے کہ  تم نے بچی کے ساتھ ایسی حرکت کی ہے ۔ اس پر وہ رونے لگ گیا  اور اس نے کہا میں اپنی بیٹی کے ساتھ  ایسا ہر گز نہیں کرسکتا۔  یہ بات اس نے مسجد میں بیٹھ کر  کہی ہے ۔ اب آپ حضرات ہی بتائیں گے کیا فتوی ہے ۔

بیوی کے والد کا بیان :

 یہ شخص نشہ کا عادی ہے اس کی وجہ سے اب اس کا  ذہنی توازن ٹھیک نہیں رہا ۔ جس شخص کے یہ حالات ہوں   اس کے پاس ہم اپنی بچی کو دوبارہ کیسے بھیج سکتے ہیں ۔

نوٹ: ری ہیب  سنٹر کی رپورٹ ساتھ لف ہے جس کے مطابق  یہ نشہ کا عادی ہے اور  اسےنشہ کی طلب رہتی ہے۔ بہت زیادہ جذباتی ہونا ، غصہ میں رہنا اور خود کو نقصان پہنچانا  بھی مشاہدہ کیا گیا ہے ۔ نیز یہ   شدید بے چینی اور گھبراہٹ کا شکار ہے  ۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔مذکورہ صورت میں  پہلے اور بعد کے نکاح  میں کوئی فرق نہیں ہے  ۔ جس طرح پہلے نکاح میں میاں بیوی ایک  دوسرے کے لیے حلال تھے اسی طرح دوسرے نکاح میں بھی ہیں ۔

2۔سوال میں ذکر کی گئی صورتحال سے معلوم ہوتا ہے  کہ   شوہر کا ذہنی توازن درست نہیں رہتا   جس کی وجہ سے وہ بہکی بہکی باتیں بھی کرتا ہے   اور  اسے اپنے نفع و نقصان    کا احساس بھی نہیں رہتا  ۔  حالیہ طلاق کا واقعہ جب پیش آیا ہے ان دنوں  میں  بھی اس کی ذہنی حالت ایسی ہی تھی ۔اس لیے   شوہر کے  ” میں نے چھوڑدی ہے ” کہنے سے کوئی طلاق  واقع  نہیں ہوئی۔

3۔مذکورہ صورت میں فقہ حنفی کے عام ضابطے  کی رُو سے  بیوی کے حق میں   حرمت مصاہرت  ثابت ہوگئی ہے جس کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام  ہوگئی ہے۔البتہ موجودہ حالات میں  بعض اہل علم(حضرت مولا نا ڈاکٹر مفتی عبدا لواحد صاحب      ؒ   ) کی  رائے کے مطابق بیوی شوہر پر حرام نہیں ہوئی  ۔ اس لیے  اگر بیوی کی  شوہر کے ساتھ رہنے کی کوئی مجبوری ہو  تو اس رائے پر عمل کرسکتی ہے ۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو” فقہ اسلامی  “مصنفہ ڈاکٹر مفتی عبد الواحد صاحب ؒ۔

توجیہ : مذکورہ صورت میں  اگرچہ شوہر کا ذہنی توازن  درست نہیں تھا  لیکن چونکہ بیوی کو یقین ہے کہ  بیٹی نے بھی باپ کی شرمگاہ کو  بغیر حائل کے چھوا ہے۔  اور اس میں شہوت کے ساتھ چھونے کی بھی شرط نہیں ہے  اور چونکہ شوہر اس کا انکار بھی کرتا ہے (جیسا کہ اس کے بھائی کے بیان میں مذکور ہے ) اس لیے فقہ حنفی   کےعام ضابطے  کی رُو سے      بیوی  کے حق میں حرمت مصاہرت ثابت ہوگئی ہے اور  بیوی شوہر پر حرام ہوگئی ہے۔تاہم بدلے ہوئے حالات   کے پیش نظر  بعض اہل علم(حضرت مولانا  ڈاکٹر مفتی عبدا لواحد صاحب ؒ   ) کی  رائے میں مذکورہ صورت میں بیوی شوہر پر حرام نہیں ہوئی اور مجبوری کے حالات میں اس رائے پر عمل کرنے کی گنجائش ہے ۔

فتاوی شامی (4/436) میں ہے:

(لا يقع طلاق المولى على امرأة عبده)……… والمجنون..

قوله: (والمجنون) قال في التلويح: الجنون اختلال القوة المميزة بين الأمور الحسنة والقبيحة المدركة للعواقب، بأن لا تظهر آثارها وتتعطل أفعالها، إما لنقصان جبل عليه دماغه في أصل الخلقة، وإما لخروج مزاج الدماغ عن الاعتدال بسبب خلط أو آفة، وإما لاستيلاء الشيطان عليه وإلقاء الخيالات الفاسدة إليه بحيث يفرح ويفزع من غير ما يصلح سببا. اهـ

فتاوی شامی (4/439)میں ہے:

‌يقال ‌فيمن ‌اختل عقله لكبر أو لمرض أو لمصيبة فاجأته: فما دام في حال غلبة الخلل في الأقوال والأفعال لا تعتبر أقواله وإن كان يعلمها ويريدها لأن هذه المعرفة والإرادة غير معتبرة لعدم حصولها عن الإدراك الصحيح كما لا تعتبر من الصبي العاقل.

فتاوی شامی  (4/ 121) میں ہے :

ولم يذكر المس، وقدمنا عن الذخيرة أن الأصل فيه عدم الشهوة مثل النظر، فيصدق إذا أنكر الشهوة إلا أن يقوم إليها منتشرا أي لأن الانتشار دليل الشهوة، وكذا إذا كان المس على الفرج كما مر عن الحدادي؛ لأنه دليل الشهوة غالبا»

فتاوی شامی (3/35) میں ہے :

(ولا فرق) فيما ذكر (بين اللمس والنظر بشهوة بين عمد ونسيان) وخطأ، وإكراه، فلو أيقظ زوجته أو أيقظته هي لجماعها فمست يده بنتها المشتهاة أو يدها ابنه حرمت الأم أبدا فتح

حیلہ ناجزہ (ص:91) میں ہے:

اگر عورت کا دعوی صحیح تھا مگر شہادت معتبرہ پیش نہ ہوسکی اور خاوند نے حلف کرلیا اس واسطے قاضی نے مقدمہ خارج کردیا یعنی نہ تفریق کی اور نہ زوجیت میں رہنے کا حکم دیا تو اس عورت کے لئے جائز نہیں کہ اپنے اختیار سے شوہر کو اپنے نفس پر قدرت دے بلکہ خلع وغیرہ کے ذریعہ اپنے آپ کو اس سے علیحدہ کرنے کی کوشش کرے اور اگر کوئی تدبیر کارگر نہ ہو تو جب تک اپنا بس چلے اس شوہر کو پاس نہ آنے دے۔ كما صرح به فى الدرالمختار و غيره فى من سمعت من زوجها الطلاق الثلاث و لا بينة لها.

امدادالاحکام(2/778) میں ہے :

خلاصہ یہ کہ صورت مسؤلہ میں اگر عورت کو خسر کے متعلق شہوت وبدنیتی کا دعوی ہے کہ اس نے شہوت سے اس کو مس کیا ہے اور عورت کے پاس بینہ نہیں ہے اور خسر اور شوہر دونوں عورت کی تکذیب کرتے ہیں تو قضاء اس صورت میں حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوتی اور ظاہر میں نکاح صحیح ہے لیکن چونکہ عورت کو اپنا سچا ہونا معلوم ہے اس لیے اس کو اپنے حق میں اس نکاح کو فاسد سمجھنا چاہیے اور اگر ممکن ہو تو شوہر سے علیحدہ ہوجائے اور اپنی رضا سے شوہر کو اپنے اوپر قابو نہ دے  …………………الخ

فتاوی دارالعلوم دیوبند(9/68)میں ہے:

مجنون  یعنی ایسا شخص جس کے دماغ میں خلقی طور پر کوئی نقصان ہو ، یا کسی آفت اور صدمہ کی وجہ سے ایک ایسا خلل واقع ہوگیا ہو کہ جس کی وجہ سے بھلے اور برے میں اس کو کوئی امتیاز باقی نہ رہے، نہ کسی کام میں اس کی نظر نفع نقصان پر ہو کہ وہ بحکم حدیث رفع القلم عن الثلاثۃ، اس حکم سے خارج ہے جیسا کہ در مختار کی  عبارت سے ظاہر ہے ، پس اس کی طلاق کا کوئی اعتبار نہیں ، اوراسی وجہ سے حالت جنون میں مجنون کی طلاق کے متعلق عدم وقوع کا حکم دیا گیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved