- فتوی نمبر: 36-173
- تاریخ: 31 اگست 2026
- عنوانات: عبادات > حج و عمرہ کا بیان > حج بدل کا بیان
استفتاء
ایک خاتون اپنا فرض حج ادا کر چکی ہے اس کا ایک بچہ معذور ہے جس کی خدمت کی وجہ سے فی الوقت وہ خاتون حج کے لیے نہیں جا سکتی اور نہ بچے کو لے جا سکتی ہے اس خاتون کو حج ادا کرنے کا بہت شوق ہے تو کیا وہ خاتون حج کا ثواب پانے کے لیے حج بدل اس صورت میں بھی کروا سکتی ہے کیا اس کو اپنے نفلی حج کا ثواب ملے گا؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں خاتون حج کروا سکتی ہے اور اس کو نفلی حج کا ثواب بھی ملے گا۔
توجیہ : جیسے فرض حج میں حج بدل ہو سکتا ہے ایسے ہی نفلی حج میں بھی حج بدل ہو سکتا ہے۔ نیز نفلی حج بدل میں حج کروانے والے کا خود حج ادا کرنے سے عاجز ہونا بھی شرط نہیں لہذا اگر کوئی کسی کو خرچ دے کر اپنی طرف سے نفلی حج بدل کے لیے بھیجے اور حج ادا کرنے والا بھیجنے والے کی طرف سے نیت بھی کرے تو اس سے بھیجنے والے کا نفلی حج ہو جائے گا اور اس کو اس کا ثواب بھی ملے گا۔
غنیۃ الناسک (ص:490) میں ہے:
النيابة تحزئ في العبادة المالية كالزكاة والكفارات مطلقا، ولو كان النائب ذميا؛ لأن العبرة لنية المؤكل ولو بعد دفع الوكيل إلى الفقير، وهي قائمة في يده على ما في رد المحتار)، ولا تُجزئ في البدنية كالصلاة والصوم بحال، وفي المركبة منهما إن كانت واجبة كحج الفرض والمنذور، ………………. وإن كانت نافلة كحج النفل وعمرة التطوع تجزئ في الحالتين، ولا يشترط فيه العجز ولا غيره مما يشترط في حج الفرض وعمرة الإسلام إلا أهلية النائب بالإسلام والعقل والتميز والنية عنه في الإحرام إن أمره بالحج وإلا فَجَعَل ثوابه له بعد الأداء؛ إذ بدون الأمر به يقع الحج عن الفاعل بالاتفاق فهو ليس حاجا عنه بل هو جاعل ثواب حجه له، والثواب إنما يحصل بعد الأداء فبطلت نيته له في الإحرام فلا يحصل له الثواب إلا إذا جعله به بعد الأداء كما قالوا في مسألة الحج عن الأبوين
ہندیہ (1/257) میں ہے:
ففي الحج النفل تجوز النيابة حالة القدرة؛ لأن باب النفل أوسع، كذا في السراج الوهاج
غنیۃ الناسک (ص:509) میں ہے:
فصل في شرائط النيابة في الحج الفرض
ولاجزاء النيابة في حجة الاسلام ونحوها كالقضاء والنذر عشرون شرطا: ………… وهذه الشرائط كلها في الحج الفرض وأما في الحج النفل فلا يشترط شئ منها غالبا الا الاسلام والعقل، والتمييز والنية ولو بعد الاداء (لباب).
وهذا ظاهر في الحج النفل عن الغير إذا كان تَبَرُّعًا، أما إذا كان بأمره وماله فينبغى أن يُشترط فيه جميع هذه الشرائط إلا الثلاثة الأول منها، فيُشترط أن يُنفق من ماله في أكثر الطريق، وهكذا فإن خالف كما إذا أنفق من مال نفسه تبرعًا أو نحو ذلك ينبغي أن يكون ضامنا والحج له .
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved