• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

شوہر کا بیوی کو ناجائز تعلقات بنانے کے لیے مجبور کرنے اور بیوی پر تشدد کرنے کی صورت میں عدالتی خلع سے طلاق کا حکم

استفتاء

صورت مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے عزیزوں کی ایک بیٹی کا نکاح عزیزوں ہی میں سے ایک لڑکے سے ہوا۔ شادی کے کچھ عرصے بعد خاوند نے پیسوں کے عوض اپنی بیوی کو  اپنے دوستوں سے تعلقات بنانے کیلئے مجبور کیا کہ وہ اس کے دوستوں سے فون پر بات چیت کرے لیکن اسکی بیوی اس کام کیلئے رضا مند نہ ہوئی باوجود کوشش خاوند کو اس معاملے میں ناکامی ہوئی ۔ اس کے بعد خاوند نے پیسوں کے عوض اپنی بیوی  کے دوستوں کے  ساتھ ناجائز تعلقات زبر دستی بنانے کی کوشش کی ،جسکی صورت یہ تھی کہ وہ اپنی بیوی کو کسی بہانے سے شہر لے گیا اور کسی ہوٹل وغیرہ پر جہاں اس کے دوست موجود تھے ،وہاں بیوی کی ملاقات ان سے کروائی لیکن بیوی اس غلط اور قبیح فعل کیلئے تیار نہ ہوئی ۔ لڑکے کی طرف سے اس گھناؤنے فعل پر لڑکی کو مجبور کیا جاتا رہا لیکن لڑکی کسی صورت اس برے فعل کیلئے تیار نہ ہوئی ۔ ایک دن کسی بہانے سے وہ اپنی بیوی کو کسی دوسری جگہ لے گیا جہاں اس خاوند کا دوست موجود تھا پھر خاوند نے زبردستی اپنی بیوی کو اس لڑکے سے نا جائز تعلقات بنانے پر مجبور کیا اور کہا کہ میں نے اس لڑکے کے پیسے دینے ہیں لہذا ان پیسوں کے عوض اس سے تعلقات قائم کرو ۔ بیوی ہر چند انکار کرتی رہی اور اپنی عزت بچانے کی بھر پور کوشش کرتی رہی ۔ لیکن خاوند نے اپنی موجودگی میں موقع پر کھڑے ہو کر اپنی بیوی کی عزت پامال کر دی اور یوں زبرستی بیوی سے گناہ کبیرہ کروا دیا گیا ۔ بیوی نے یہ سب کچھ ہو جانے کے بعد بھی کسی کو اس بارے میں نہیں بتایا لیکن کچھ دنوں بعد خاوند نے پھر سے یہی عمل دہرانے کی کوشش کی تو بیوی نے اپنے والدین کو اس کی ساری بری حرکتوں اور اپنے ساتھ ہونے والی زبردستی کے بارے میں سب کچھ بتا دیا ۔ والدین کو اس خبر سے نہایت صدمہ پہنچا اور انکی بیٹی پہلے ہی سے مغموم تھی، اس صورت حال کے بعد بیٹی اپنے خاوند کے پاس جانے کیلئے تیار نہ تھی لہذا والدین اور بیٹی نے عدالت جا کر پاکستانی قانون کے مطابق خلع  لے لی۔ لیکن اس لڑکے نے خود طلاق نہیں دی ۔

حضرت مفتی صاحب  آپ سے درخواست ہے کہ اس مسئلے کا وضاحت کیساتھ تحریری جواب ارشاد فرما دیں کہ بیوی کو طلاق ہوئی یا نہیں؟

نوٹ: عدالت کے فیصلے کی کاپی  ساتھ لف ہےجس کا خلاصہ یہ ہے:

“لڑکی نے درخواست دی ہے کہ شوہر کو مجھ میں کوئی دلچسپی نہیں۔ شوہر کا رویہ بھی میرے ساتھ تشدد والا ہے۔ اکثر مارپیٹ کرکے گھر سے نکال دیتا رہا ہے اور کبھی بھی ایک پیسے کا خرچ نہیں کیا، خوراک نہیں دی، بلکہ بیوی کو والدین کی طرف سے ملنے والے زیورات بھی ہڑپ کر گیا ہے اور سامانِ جہیز پر بھی قابض ہے۔ بری عادات کا حامل شخص ہے، بیوی کی زندگی خراب کرنے کے درپے ہے اور بیوی کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتا ہے۔

جج کا فیصلہ یہ ہے کہ عورت کے حق میں خلع کی بنیاد پر تنسیخِ نکاح کی ڈگری دی جاتی ہے”

1۔اس کے ساتھ  یہ بات  بھی ہے کہ لڑکے کا والد یہ کہتا ہے کہ میرا بیٹا دوستوں سے اپنی بیوی کا تعلق بنانے کے لیے پیسے لیتا ہے مگر میں پیسے واپس کرتا ہوں اور اس کی بیوی کی حفاظت کرتا ہوں ۔

2۔بیوی سے اس کے ازدواجی تعلقات میاں بیوی والے بہت کم تھے اور بیوی کو میاں بیوی کے معاملے میں محروم کیا ہوا تھا میاں بیوی کے معاملے میں بالکل اس کی دلچسپی نہیں تھی اگر بیوی مجبور کرتی تو یہ کہتا کہ آپ کو یہی کام ہے اور کام کوئی نہیں ہے؟

3۔لڑکے کے جنسی تعلقات بچپن سے دوستوں کے ساتھ تھے اور ابھی بھی  ہیں  یعنی عورتوں والا کام خود دوستوں سے کرواتا ہے ۔

4۔ معذرت کے ساتھ لڑکے کا تحریری  جواب دعوی ہمیں  عدالت سے نہیں ملا ۔ لڑکے نے آخری پیشی پر دعوی کیا کہ میں اپنی بیوی کو بسانا چاہتا ہوں یعنی رکھنا چاہتا ہوں۔ آخری پیشی پر جج نے لڑکی سے سوال کیے جو لکھے ہوئے ہیں لڑکی نے سارا اس کا پول کھول دیا ،جج نے لڑکے سے پوچھا جو لڑکی کہہ رہی ہے اس کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ لڑکے کے پاس جواب نہیں تھا تو وہ چپ رہا اس کے بعد جج نے تصویریں بنا کر ان دونوں کے انگوٹھے لگا کر فیصلہ دے دیا یعنی لڑکی کو آزاد کر دیا۔

نوٹ : لڑکی کے بھائی سے فون پر رابطہ کیا گیا تو اس نے پوری صورتحال کی تصدیق کی اور بتایا کہ لڑکا خرچہ نہیں دیتا تھا ، کھانا تو جو گھر میں پکتا تھا لڑکی وہی کھاتی تھی لیکن اس نے کبھی کپڑے نہیں لے کر دیے جو کپڑے ہم لے کر دیتے ہیں وہ بھی بیچ کر کھا جاتا ہے اور تشدد بھی کرتا ہے، کئی  دفعہ ایسا مارا کہ منہ سے خون نکل آیا اور یہ بھی بتایا کہ لڑکا آخری پیشی میں عدالت حاضر ہوا تھا اس نے کہا کہ میں بیوی کو بسانا چاہتا ہوں لیکن جب بیوی نے جج کے سامنے یہ بتایا کہ شوہر مجھے حرام کاری پر مجبور کرتا ہے تو لڑکے نے جج کے سامنے کوئی جواب نہیں دیا خاموش ہو گیا، نیز لڑکے سے بھی رابطہ کیا گیا لیکن اس کا نمبر بند ہے، لڑکے کے بھائی سے رابطہ کیا گیا تو اس نے کہا کہ میں نہیں جانتا سچ کیا ہے؟میں اپنے بھائی سے آپ کی بات نہیں کروا سکتا اس کے ذاتی نمبر پر رابطہ کریں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں اگر واقعتا شوہر بیوی کو دوستوں سے حرام تعلقات اور زنا پر مجبور کرتا تھا یا تشدد کرتا تھا تو عدالتی خلع سےایک بائنہ طلاق واقع ہو چکی ہے جس کی وجہ سے سابقہ نکاح ختم ہو گیا ہے اور  عدت کے بعد لڑکی آزاد ہوگی۔

توجیہ:  مذکورہ صورت میں عدالت میں نکاح کو ختم کرنے کے لیے اگرچہ خلع کا طریقہ اختیار کیا گیا ہے اور یکطرفہ خلع باتفاق فقہاء معتبر نہیں ہے تاہم چونکہ فسخ نکاح کی معتبر بنیاد (1) شوہر کا بیوی کو دوستوں سے ناجائز اور حرام تعلقات اور زنا پر مجبور کرنا (2) اور تشدد کرنا پایا جا رہا ہے اور بیوی کے بھائی کے بیان کے مطابق بیوی نے پہلی بات جج کے سامنے زبانی ذکر کی ہے اور دوسری بات کو بیوی نے خلع کی درخواست میں ذکر کیا ہے اور یہ دونوں باتیں  فقہاء مالکیہ کے  نزدیک فسخ نکاح کی بنیاد بن سکتی ہے اور فقہاء حنفیہ ؒ نے ضرورت کے وقت مالکیہ کےقول کو اختیار کرنے کی اجازت دی ہے لہذا مذکورہ صورت میں ایک طلاق بائن واقع ہو گئی۔

مواہب الجلیل شرح مختصر خلیل(5/228) میں ہے:

 (ولها التطليق بالضرر) ش:قال ابن فرحون في شرح ابن الحاجب: من الضرر قطع كلامه عنها، وتحويل وجهه في الفراش عنها وايثار امرأة عليها و ضربها ضربا مؤ لما.

شرح مختصر الخلیل للخرشی(4/411) میں ہے:

 ( ص ) ولها التطليق بالضرر ولو لم تشهد البينة بتكرره ( ش ) يعني أنه إذا ثبت بالبينة عند القاضي أن الزوج يضارر زوجته وهي في عصمته ولو كان الضرر مرة واحدة فالمشهور أنه يثبت للزوجة الخيار فإن شاءت أقامت على هذه الحالة وإن شاءت طلقت نفسها بطلقة واحدة بائنة لخبر {لا ضرر ولا ضرار }فلو اوقعت أكثر من واحدة فإن الزائد على الواحدة لا يلزم الزوج. ومن الضرر قطع كلامه عنها وتحويل وجهه عنها وضربها ضربا مؤلما

حاشیۃ الدسوقی(2/345) میں ہے:

(قوله ولها التطليق بالضرر) أي لها التطليق طلقة واحدة وتكون بائنة كما في عبق

فتاویٰ عثمانی(2/463)میں ہے:

یکطرفہ خلع شرعاً کسی کے نزدیک بھی جائز اور معتبر نہیں۔تاہم اگر کسی فیصلے میں بنیادِ فیصلہ فی الجملہ صحیح ہو،یعنی شوہر کا “تعنت”ثابت ہورہا ہو،البتہ عدالت نے فسخ کے بجائے خلع کا راستہ اختیار کیا ہو،اور خلع کا لفظ استعمال کیا ہو تو ایسی صورت میں خلع کے طور پر تو یک طرفہ فیصلہ درست نہ ہوگا،تاہم فسخِ نکاح کی شرعی بنیاد پائے جانے کی وجہ سے اس فیصلے کو معتبر قرار دیں گے اور یہ سمجھا جائے گا کہ اس فیصلے کی بنیاد پر نکاح فسخ ہوگیا ہے،اور عورت عدّتِ طلاق گزار کر کسی دوسری جگہ اگر چاہے تو نکاح کرسکتی ہے۔

فتاوی عثمانی (2/471) میں ہے:

عدالت کا فیصلہ احقر نے پڑھا اس فیصلے میں شوہر کے ضرب شدید اور ناقابل برداشت جسمانی اذیت رسانی کی بنیاد پر مسماۃ۔۔۔۔۔ کا نکاح فسخ کر دیا گیا  ،فسخ نکاح کی یہ بنیاد مالکی مذہب کے مطابق درست ہے اور فقہاء حنفیہ نے ضرورت کے موقع پر اس مسلک کو اختیار کرنے کی اجازت دی ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved