• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

“میں ہر ماہ کچھ لوگوں میں کھانا تقسیم کروں گی” کہنے سے نذر کا حکم

استفتاء

میں نے خود اپنے آپ سے زبانی طور پر یہ کہا ہے کہ میں کچھ لوگوں میں ہر ماہ کھانا تقسیم کروں گا، لیکن بعد میں مجھے احساس ہوا کہ میں یہ ہر ماہ نہیں کر سکوں گا۔ ایسے میں کیا حکمِ شرع ہوگا؟میں نے کوئی منت نہیں مانی، خود سے ایک بات زبانی طور پر کہی تھی۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں  ہر ماہ لوگوں میں کھانا تقسیم کرنا  شرعاً لازمی اور ضروری  نہیں۔

توجیہ: جب الفاظ منجز ہوں، معلق نہ ہوں تو نذر کے انعقاد کے لیے نذر کی نیت ضروری ہے، اگر نذر کی نیت نہ ہو یا کچھ  بھی نیت  نہ ہو تو نذر منعقد نہیں ہوتی،  مذکورہ صورت میں چونکہ منت کی نیت نہیں کی، اس لیے نذر منعقد نہیں ہوئی۔ لہذا مذکورہ صورت میں  شرعاً  لوگوں میں ہر ماہ کھانا تقسیم کرنا لازمی  اور ضروری نہیں۔

بدائع الصنائع (5/84) میں ہے:

‌ولو ‌قال: ‌أنا ‌أحرم أو أنا محرم أو أهدي أو أمشي إلى البيت، فإن نوى به الإيجاب يكون إيجابا؛ لأنه يذكر ويراد به الإيجاب، كقولنا: أشهد أن لا إله إلا الله إنه يكون توحيدا، وكقول الشاهد عند القاضي: أشهد أنه يكون شهادة، فقد نوى ما يحتمله لفظه، وإن نوى أن يعد من نفسه عدة ولا يوجب شيئا كان عدة ولا شيء عليه؛ لأن اللفظ يحتمل العدة؛ لأنه يستعمل في العدات.

وإن لم يكن له نية فهو على الوعد؛ لأنه غلب استعماله فيه، فعند الإطلاق يحمل عليه، هذا إذا لم يعلقه بالشرط، فإن علقه بالشرط بأن قال إن فعلت كذا فأنا أحرم فهو على الوجوه التي بينا أنه إن نوى الإيجاب يكون إيجابا، وإن نوى الوعد يكون وعدا لما قلنا، وإن لم يكن له نية فهو على الإيجاب بخلاف الفصل الأول؛ لأن العدات لا تتعلق بالشروط، وإن الواجبات تتعلق بها، فالمعرفة إلى الإيجاب بقرينة التعليق بالشرط ولم توجد القرينة في الفصل الأول فصار الحاصل أن هذا اللفظ في غير المعين بالشرط على الوعد إلا أن ينوي به الإيجاب، وفي المعلق يقع على الإيجاب إلا أن ينوي به الوعد

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved