• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

قربانی کی کھالیں فروخت کرکے امام مسجد کو تنخواہ دینا

استفتاء

کیا قربانی کی کھالیں اکٹھی کرکے اور ان کو بیچ کر امام مسجد کو تنخواہ دی جاسکتی ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

قربانی کی کھالوں کے پیسوں کو تنخواہ میں نہیں دیا جاسکتا۔

توجیہ: قربانی کی کھالوں کے پیسوں کو صدقہ کرنا واجب ہے اور صدقہ کے لیے  ضروری ہے کہ وہ بغیر عوض کے دیا جائے جبکہ تنخواہ بغیر عوض کے نہیں ہوتی لہذا تنخواہ میں قربانی کی کھالوں کے پیسے دینا جائز نہیں۔

الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص: 648)میں ہے:

«(فإن بيع اللحم أو الجلد به) أي بمستهلك (أو بدراهم ‌تصدق ‌بثمنه)»

درر الحکام شرح غرر الاحکام (2/271) میں ہے:

(فإن بيع اللحم أو الجلد به) أي بما ينتفع به مستهلكا (تصدق بثمنه) لأن القربة انتقلت إلى بدله

ہدایہ (4/360) میں ہے:

«فلو باع الجلد أو اللحم بالدراهم أو بما لا ينتفع به إلا بعد استهلاكه تصدق بثمنه، لأن القربة انتقلت إلى بدله،»

كفايت المفتى(8/228) میں ہے:

قربانی کی کھالیں جب فروخت کر دی جائیں یعنی قربانی کرنے والا خود فروخت کر دے تو اس کے ذمہ واجب ہو جاتا ہے کہ اس کی قیمت کو صدقہ کر دے۔

فتاوی رشیدیہ(2/416)میں ہے

قربانی کی کھال اجرت میں موذن کو دینا جائز نہیں اور نہ اس کی قیمت ،قربانی کی کھال کی قیمت فقیر پر صدقہ کرنا واجب ہے، اور کسی جگہ صرف جائز نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved