• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

امام کا مغرب کی نماز میں چوتھی رکعت میں کھڑے ہونے سے امام اور مقتدیوں کی نماز کا حکم

استفتاء

مفتی صاحب سوال یہ ہے کہ  امام نے مغرب کی نماز پڑھائی تیسری رکعت کے بعد سلام پھیرا ابھی” السلا ” ہی کہا تھا کہ ایک مقتدی نے اللہ اکبر کہہ  کر لقمہ دیا امام نے سمجھا کہ شاید دو رکعت ہوئی ہے اور امام تکبیر کہہ کر کھڑا ہوگیا اور ایک رکعت مزید پڑھ کے سجدہ سہو کیا اور نماز مکمل کر لی سلام پھیرنے کے بعد معلوم ہوا کہ 4 رکعت نماز پڑھائی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ نماز درست ہو گئی یا نہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں نماز درست ہوگئی ہے۔

توجیہ مذکورہ صورت میں چونکہ امام تیسری رکعت میں تشہد کی مقدار بیٹھنے کے بعد بھولے سے کھڑا ہوا ہے لہذا نماز کے فرائض و ارکان پورے ہوگئے تھے لیکن سلام جو کہ واجب تھا اس میں تاخیر کی وجہ سے سجدہ سہو لازم ہوگیا اور امام نے آخری رکعت میں سجدہ سہو بھی کرلیا اس لیے  نماز بلا کراہت درست ہو گئی ہے۔

شامی (2/87) میں ہے:

(‌وإن ‌قعد ‌في ‌الرابعة) مثلا قدر التشهد (ثم قام عاد وسلم) ولو سلم قائما صح؛ ثم الأصح أن القوم ينتظرونه، فإن عاد تبعوه (وإن سجد للخامسة سلموا) لأنه تم فرضه، إذ لم يبق عليه إلا السلام (وضم إليها سادسة) لو في العصر، وخامسة في المغرب: ورابعة في الفجر به يفتى (لتصير الركعتان له نفلا) والضم هنا آكد، ولا عهدة لو قطع، ولا بأس بإتمامه في وقت كراهة على المعتمد (وسجد للسهو)

آپ کے مسائل اور ان کا حل (2/443) میں ہے:

س… مغرب کی نماز میں امام صاحب آخری رکعت میں تشہد میں بیٹھے تھے، پیچھے سے کسی مقتدی نے ”سبحان اللہ“ کہا اور اس پر امام صاحب بیٹھے رہے، پھر کسی دُوسرے مقتدی نے ”سبحان اللہ“ کہا، اس پر امام صاحب کھڑے ہوگئے اور چوتھی رکعت پوری کرکے سجدہٴ سہو کیا اور سلام پھیر دیا، کچھ لوگوں کے قول کے مطابق تین فرض ادا ہوگئے، جبکہ ایک زائد رکعت باطل ہوگئی، لیکن کچھ مقتدیوں کا خیال ہے کہ نماز دوبارہ پڑھنی چاہئے اس لئے کہ آخری قعدہ فرض ہے۔

ج… قعدہٴ اخیرہ میں تشہد پڑھنے کی مقدار بیٹھنا فرض ہے، اگر قعدہٴ اخیرہ بالکل ہی ترک کردیا جائے یا بقدرِ تشہد نہ بیٹھا جائے تو فرض ادا نہ ہونے کی وجہ سے نماز فاسد ہوجائے گی، اعادہ ضروری ہوگا۔ جب دُوسرے مقتدی کے ”سبحان اللہ“ کہنے پر امام صاحب کھڑے ہوئے تو اگر وہ اس وقت تک تشہد پڑھنے کی مقدار بیٹھ چکے تھے تب تو سجدہٴ سہو ادا کرنے کے بعد تین رکعت مغرب کے فرض ادا ہوگئے، اور اگر امام صاحب تشہد پڑھنے کی مقدار نہیں بیٹھے، بلکہ اس سے پہلے ہی کھڑے ہوگئے تو سجدہٴ سہو کے باوجود مغرب کی فرض نماز فاسد ہوگئی، اس نماز کو دُہرایا جائے گا، البتہ پڑھی ہوئی نماز چار رکعت نفل ہوجائے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved