- فتوی نمبر: 36-230
- تاریخ: 23 ستمبر 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > غصہ کی حالت میں دی گئی طلاق
استفتاء
میری اور میری بیوی کی لڑائی ہوئی جس میں، میں نے غصے کی حالت میں اپنی بیوی کو تین مرتبہ طلاق کے الفاظ بول دیے جس کے الفاظ یہ تھے کہ” میں نے تمہیں طلاق دی ، طلاق ، طلاق “اب میں بہت پریشان ہوں۔
تنقیح : سائل نے غصے کی حالت میں طلاق کے الفاظ بولے ہیں جس کا اقرار سائل کر رہا ہے اور اسے طلاق کے الفاظ بولنے کا علم بھی تھااور اسے معلوم تھا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے اور کیا کررہا ہے بس طلاق دینے کا ارادہ نہیں تھا اور اس سے کوئی خلاف عادت کام (توڑ پھوڑ وغیرہ ) بھی صادر نہیں ہوا۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں تینوں طلاقیں واقع ہو گئی ہیں جن کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہو گئی ہے لہذا اب نہ رجوع ہو سکتا ہے اور نہ صلح کی گنجائش ہے ۔
توجیہ : مذکورہ صورت میں اگرچہ شوہر نے غصے میں تین مرتبہ یہ کہا ہے کہ “میں نے تمہیں طلاق دی، طلاق، طلاق” لیکن غصے کی نوعیت ایسی نہیں تھی کہ اسے معلوم ہی نہ ہو کہ وہ کیا کہہ رہا ہے اور کیا کر رہا ہے اور نہ اس سے خلاف عادت کوئی قول یا فعل صادر ہوا ہے اور غصے کی ایسی حالت میں دی گئی طلاق واقع ہو جاتی ہے لہذا مذکورہ صورت میں تینوں طلاقیں واقع ہو گئی ہیں ۔
درمختار مع ردالمحتار (509/4) میں ہے:
فروع : كرر لفظ الطلاق وقع الكل .
قوله : (كرر لفظ الطلاق) بان قال للمدخولة: انت طالق انت طالق او قد طلقتك قد طلقتك او انت طالق قد طلقتك او انت طالق و انت طالق وإذا قال: أنت طالق ثم قيل له ما قلت؟ فقال: قد طلقتها أو قلت هي طالق فهي طالق واحدة لأنه جواب، كذا في كافي الحاكم
شامی (4/439) میں ہے:
قلت: وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان قال فيها: إنه على ثلاثة أقسام: أحدها أن يحصل له مبادئ الغضب بحيث لا يتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه. والثاني أن يبلغ النهاية فلا يعلم ما يقول ولا يريده، فهذا لا ريب أنه لا ينفذ شيء من أقواله.الثالث من توسط بين المرتبتين بحيث لم يصر كالمجنون فهذا محل النظر، والأدلة تدل على عدم نفوذ أقواله……………فالذي ينبغي التعويل عليه في المدهوش ونحوه إناطة الحكم بغلبة الخلل في أقواله وأفعاله الخارجة عن عادته، وكذا يقال فيمن اختل عقله لكبر أو لمرض أو لمصيبة فاجأته: فما دام في حال غلبة الخلل في الأقوال والأفعال لا تعتبر أقواله وإن كان يعلمها ويريدها لأن هذه المعرفة والإرادة غير معتبرة لعدم حصولها عن إدراك صحيح كما لا تعتبر من الصبي العاقل.
ہندیہ (1/172) میں ہے:
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية
بدائع الصنائع (3/295) میں ہے:
وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله – عز وجل – {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: ٢٣٠] .
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved