- فتوی نمبر: 36-240
- تاریخ: 29 ستمبر 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > شادی کے موقع پر دیے گئے تحائف و جہیز کا حکم
استفتاء
ہم نے اپنی بھتیجی کی شادی اپنے بھانجے سے کی اور ہمارا بھانجا تقریباً چھ ماہ بعد فوت ہوگیا ، انہوں نے نکاح میں جو مہر (پانچ یا چھ ہزار) طے پایا تھا وہ نقد دے دیا اور 5 مرلے زمین حق مہر میں نہیں تھی لیکن لڑکے والوں نے رجسٹری کرکے لڑکی کو دی تھی اور یہ 5 مرلے زمین والی بات نکاح سے پہلے ہوئی تھی اور سارے قبیلے والوں کو معلوم ہے کہ لڑکے نے لڑکی کے نام رجسٹری کروادی تھی، لڑکے والوں نے اپنی مرضی سے 10 تولے سونا لڑکی کو دیا تھا لڑکی والوں کی طرف سے کوئی شرط نہیں تھی۔اب پوچھنا یہ ہے کہ:
1۔ کیا اس لڑکے کی جائیداد میں لڑکی کا کوئی حصہ ہے؟ ان کی کوئی اولاد نہیں ہے ۔ لڑکے کا والد، ماں ، دو بھائی اور تین بہنیں حیات ہیں؟
2۔پلاٹ کا مالک کون ہے؟
3۔کیا سونا قابلِ واپسی ہے یا نہیں؟ یعنی اس کا مالک کون ہے؟
لڑکے کے بھائی کا بیان:
دارالافتاء کے نمبر سے لڑکے کے بھائی سے رابطہ کیا گیا تو اس نے درج ذیل بیان دیا:
سونا دیتے وقت ہبہ یا عاریت کا کوئی تذکرہ نہیں کیا تھا۔ البتہ عرف یہ ہے کہ طلاق کی صورت میں سونا واپس نہیں لیا جاتا اور لڑکی کا سمجھا جاتا ہے اور 5 مرلے جگہ کے بارے میں بتایا کہ نکاح سے پہلے یہ طے ہوا تھا کہ لڑکی کو 5 مرلہ جگہ دی جائے گی وہ ہمارے والد صاحب نے اپنی بہو کے نام رجسٹری کروادی تھی لیکن قبضہ ابھی تک ہمارے والد کا ہے اس کا کرایہ شروع سے والد صاحب ہی وصول کرتے ہیں اور جب رجسٹری کروائی تھی اس وقت بھی ہمارے والد صاحب کا قبضہ تھا اب شرعی اعتبار سے اس کا مالک کون ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔مذکورہ صورت میں لڑکی اس لڑکے کی جائیداد کی وارث بنے گی ۔اور اس کو شوہر کی وراثت میں سے ایک چوتھائی (25%) حصہ ملے گا۔
2۔ مذکورہ صورت میں پلاٹ کی مالک لڑکی ہے۔
توجیہ: مذکورہ صورت میں سسر نے جب زبانی بھی کہا اور پلاٹ بہو کے نام رجسٹری بھی کردیا تو یہ حکماً قبضہ شمار ہوگا۔
3۔ مذکورہ صورت میں سونا ہبہ شمار ہوگا اور سونے کی مالک لڑکی ہوگی۔
توجیہ: سونا دیتے وقت اگر ہدیہ کی تصریح ہو تو وہ بیوی کی ملکیت ہوتا ہے اور اگر صرف استعمال کا کہہ کر دیا ہو تو شوہر کی ملکیت ہوتا ہے لیکن اگر ہدیہ یا عاریت کا ذکر نہ کیا ہو تو اس صورت میں شوہر کے خاندان کا عرف دیکھا جاتا ہے اگر عرف بیوی کی ملکیت میں دینے کا ہو تو بیوی کا ہوتا ہے ورنہ شوہر کا ہوتا ہے ۔ مذکورہ صورت میں چونکہ دیتے وقت کسی چیز کا ذکر نہیں کیا گیا تھا اور شوہر کے خاندان کا عرف بھی یہ ہے کہ واپس نہیں لیا جاتا لہٰذا بیوی سونے کی مالک ہوگی۔
تفسیر ابن کثیر (2/229) میں ہے:
{ولهن الربع مما تركتم [إن لم يكن لكم ولد فإن كان لكم ولد فلهن الثمن مما تركتم] } إلخ، وسواء في الربع أو الثمن الزوجة والزوجتان الاثنتان والثلاث والأربع يشتركن فيه
وقوله: {من بعد وصية} إلخ، الكلام عليه كما تقدم
البحر الرائق (7/484) میں ہے:
(قوله وجعلته لك) لأن اللام للتمليك ولهذا لو قال هذه الأمة لك كان هبة
شامی (4/297) میں ہے:
(ولو بعث إلى امرأته شيئا ولم يذكر جهة عند الدفع غير) جهة (المهر) ……… (فقالت هو) أي المبعوث (هدية وقال هو من المهر) أو من الكسوة أو عارية (فالقول له) بيمينه والبينة لها
(قوله ولو بعث إلى امرأته شيئا) أي من النقدين أو العروض أو مما يؤكل قبل الزفاف أو بعد ما بنى بها
شامی (4/306) میں ہے:
والمعتمد البناء علي العرف
رسائل ابن عابدین (2/115) میں ہے:
والعرف في الشرع له اعتبار لذا عليه الحكم يدار …….. وفي المبسوط: الثابت بالعرف كالثابت بالنص.
احسن الفتاویٰ (7/208) میں ہے:
سوال: زید ایک سرکاری ملازم ہے اس کا انتقال ہو گیا ہے مرحوم کی بیوہ اور ایک کمسن بچہ کے علاوہ بھائی اور والدین بھی حیات ہیں سوال یہ ہے کہ مرحوم کی بیوہ کو جو زیورات بوقت عقد سسرال یا دوسرے رشتہ داروں کی طرف سے ملے تھے وہ کس کی ملک ہے ان میں وراثت جاری ہوگی یا نہیں؟
جواب : سسرال کے دیے ہوئے زیورات میں یہ تفصیل ہے کہ دیتے وقت اگر سسرال نے کچھ وضاحت کی تھی تو اس کے مطابق عمل ہوگا ورنہ فیصلہ عرف پر ہوگا یعنی اگر اس خاندان یا اس شہر میں زیور بطور ملک دینے کا رواج ہو تو بیوہ مالکہ ہوگی ورنہ نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved