• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

دو مشترکہ پلاٹ کی اولاد کے درمیان تقسیم

استفتاء

میری والدہ کے دو پلاٹ ہیں۔ایک پلاٹ انہیں اس طرح ملا کہ انہوں نے اپنا زیور نانا جان کو دیا وہ واپس نہ کرسکے تو پلاٹ ابو کے نام کردیا ۔زیور والدہ کا تھا کچھ کاغذات کی وجہ سے ابو کے نام کیا۔ابو کو مالک بنانا مقصود نہیں تھا اور دوسرا پلاٹ میری والدہ کو جو ابو تنخواہ لا کر دیتے تھے اس میں سے قسطیں ادا کرکے خریدا۔والد صاحب کی زندگی میں  پلاٹ کی قیمت ادا نہ ہوئی  تو والد صاحب کے انتقال  کے   بعد جو اکٹھی پینشن ملی وہ دے کر والدہ نے پلاٹ اپنے نام کروایا۔والدہ اب دونوں پلاٹ بیچ کر نئی جگہ پر پلاٹ لینا چاہتی ہیں۔  سوال یہ ہے کہ ان دونوں پلاٹ میں وراثت  ہوگی یا پھر وہ والدہ کے ہیں جس طرح سے دینا چاہیں دیں یا  کسی کو دیں یا نہ دیں ؟ہم ماشاءاللہ تین بہنیں اور پانچ بھائی  ہیں۔

وضاحت مطلوب ہے : (1) والد جو تنخواہ والدہ کو لا کر دیتے تھے کیا والدہ کو اس تنخواہ کا مالک بناتے تھے یعنی وہ آپ کی والدہ کا جیب خرچ ہوتا تھا یا صرف گھر کے خرچے کے لیے دیتے تھے؟ اس بارے میں آپ کی والدہ سے بات ہوسکتی ہے؟  (2) والد کے انتقال کے بعد جو اکٹھی پینشن ملی وہ کس کے نام سے ملی والد یا والدہ کے نام سے؟اس کی کوئی دستاویز ہے تو اس کی تصویر بھیجیں نیز وہ پراویڈنٹ ہے یا کونسافنڈ ہے؟(3) والد کے زیر کفالت کتنے افراد تھے صرف والدہ یا آپ کے بہن بھائیوں میں سے بھی کوئی تھا؟(4) سائل کون ہے؟  کوئی ایک فرد یا تمام بہن بھائی  ؟ نیز سوال کرنے کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے؟

جواب وضاحت : (1) والد گھر کے خرچ کے لیے پیسے دیتے تھے اس میں سے بچا کر قسطیں ادا کرتی تھی۔ والدہ عمرے کے سفر میں ہیں ایک ماہ کے لیے ان سے بات نہیں ہو سکتی موبائل نہیں رکھتی لکھنا پڑھنا بھی نہیں جانتی کہ لکھ کر بھیج دیں۔ (2)  پنشن والدہ کے نام ہوئی دستاویز ساتھ لف ہیں۔ فیملی پینشن ہے والدہ کے نام سے ملی ۔(3) صرف والدہ زیر کفالت تھیں بہن بھائیوں میں سے کوئی بھی زیر کفالت نہیں تھا بہنوں کی شادی ہو گئی تھی اور تمام بھائی شادی شدہ تھے اور   برسر روزگار تھے اور اپنا کاروبار کررہے تھے۔(4) سوال میں تمام بہن بھائیوں کو دلچسپی ہے   اور سوال پوچھنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ پلاٹ بیچ کر نئی جگہ لینی ہے اگر بہنوں کا حصہ بنتا ہے تو ان کو دے دیا جائے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ  صورت میں پہلا پلاٹ تو والدہ کی ہی ملکیت ہے اور دوسرے پلاٹ کے بارے میں یہ تفصیل ہے کہ اگر آپ کے والد گھر کے خرچے کے لیے آپ کی والدہ کو پیسے دیتے تھے اور انہی پیسوں سے انہوں نے پلاٹ کی قسطیں ادا کیں تو یہ پلاٹ والدہ اور والد کے درمیان مشترک شمار ہوگا اور جتنے حصے کی قیمت والد کی  رقم سے ادا ہوئی اتنا حصہ والد کا ہوگا۔والد کا جتنا حصہ بنے گا وہ اس کی اولاد اور بیوی میں بطور ترکہ تقسیم کیا جائے گا۔اور اگر آپ  کے والد  یہ پیسے آپ کی والدہ کو ذاتی جیب خرچ کے لیے دیتے تھے تو دوسرا پلاٹ بھی آپ کی والدہ کی ملکیت ہے۔پہلا پلاٹ اور دوسرے پلاٹ کا جتنا حصہ والدہ کی ملکیت ہے اگر کسی کو دینا چاہے تو دیں اور نہ چاہیں تو نہ دیں۔

توجیہ: محض کاغذات میں زمین کسی کے نام کرنے سے ملکیت حاصل نہیں ہوتی جب تک کہ زبان سے مالک بنا کر قبضہ نہ دیا جائے۔مذکورہ صورت میں چونکہ سائل کی والدہ نے ضرورت کی بنا پر پلاٹ شوہر کے نام کیا تھا مالک بنانا مقصود نہیں تھا اس لیے یہ پلاٹ سائل کی والدہ کی ملکیت ہے اور شوہر بیوی کو گھریلو اخراجات کے لیے جو رقم دیتا ہے وہ بیوی کی ملک نہیں ہوتی بلکہ شوہر کی ملک ہوتی ہے لہذا اس رقم سے خریدا گیا پلاٹ بھی شوہر کا ہوگا۔نیز کسی ملازم کے فوت ہونے پر حکومت یا کسی ادارے کی طرف سے جو رقم بطور فیملی پنشن ملتی ہے اس میں میراث جاری نہیں ہوتی بلکہ زیر کفالت جتنے بھی افراد ہوں ان سب کا اس میں حق ہوتا ہے مذکورہ صورت میں چونکہ زیر کفالت افراد میں صرف سائل کی والدہ ہے لہذا یہ صرف والدہ کا حق ہے اس لیے دوسرے پلاٹ میں بھی والدہ کا حصہ ہوگا۔

الدر المختار  مع ردالمحتار (6/463) میں ہے:

‌اعلم ‌أن ‌أسباب ‌الملك ثلاثة: ناقل كبيع وهبة وخلافة كإرث وأصالة، وهو الاستيلاء حقيقة بوضع اليد أو حكما بالتهيئة كنصب الصيد

(قوله ناقل) أي من مالك إلى مالك، وقوله وخلافة: أي ذو خلافة، وكذا يقال فيما بعده ط (قوله وهو الاستيلاء حقيقة) شمل إحياء الموات

فقہ البیوع (1/226) میں ہے:

و ما ذكرنا من حكم التلجئة يقاربه ما يسمى في القوانين الوضعية عقود صورية.. … ……. و هي أن تشترى أرض باسم غير المشترى الحقيقي، وتسجل الأرض باسمه فى الجهات الرسمية، و ذلك لأغراض ضريبية أو لأغراض أخرى، ولكن المشترى الحقيقي هو الذي دفع ثمنه. وعدة من القوانين الوضعية تعترف بكونها صورية، و بأن العبرة فيما بين المتعاقدين بالعقد الحقيقى المستتر ……. و على هذا الأساس أفتى علماء شبه القارة الهندية بأن مجرد تسجيل الأرض باسم أحد لا يستلزم أن يكون هو مالكا لها، فلو اشتراها أحد باسم رجل آخر لم يدفع الثمن، وإنما دفع الثمن من قبل الأول، فمجرد هذا التسجيل لا يعنى أنه وهب له الأرض.

شرح  المجلہ(3/561) میں ہے:

المال الذي قبضه الوكيل بالبيع والشراء وايفاء الدين واستيفائه وقبض العين من جهه الوكالة في حكم الوديعة في يده فاذا تلف فلا تعد ولا تقصير لا يلزم الضمان،والمال الذي في يد الرسول من جهة الرسالة أيضاً في حكم الوديعة:ضابط: الوكيل امين على المال الذي في يديه كالمستودع

امداد الفتاوی(9/581) میں ہے:

چونکہ میراث مملوکہ اموال میں جاری ہوتی ہے اور وہ وظیفہ محض تبرع و احسان سرکار ہے بدون قبضہ کے مملوک نہیں ہوتا لہذا آئندہ جو وظیفہ ملے گا اس میں میراث جاری نہ ہوگی سرکار کو اختیار ہے جس طرح چاہے تقسیم کر دے۔

امداد الاحکام(4/603) میں ہے:

سوال:  معروض یہ ہے کہ پہلے ایک عریضہ سے اہلیہ کے انتقال کی خبر حضرت کو کر چکا ہوں …………… اور کچھ سامان ایسا ہے کہ میں حسب ضرورت ذاتی روپیہ سے خرید تا رہا اور وہ مرحومہ بھی میرے روپیہ سے خریدتی رہی ۔ اُن کی خریداری کی دو صورتیں ہیں ۔ میری موجودگی میں تو مجھ سے اجازت لیکر اور مطلع کر کے اور جب میں باہر ملازم رہا اور اُن کے خرچہ کے لئے روپیہ ماہ بماہ دیتا رہا تو بے اطلاع ۔ اگر چہ ضرورت کی خریداری کی مجملاً اجازت تھی ، اس دوسری صورت میں احتمال یہ بھی ہے کہ انہوں نے اپنے ذاتی روپیہ سے خریدا ہو۔ لیکن چونکہ بظاہر ان کی آمدنی ذاتی ایسی نہیں تھی اس لئے بطن غالب میرے روپیہ سے خریدا ہے ۔ کچھ سامان ایسا بھی ہے کہ بالفعل اس کی ضرورت نہیں تھی ۔ اور زندگی میں مجھ کو اطلاع بھی نہیں ہوئی ۔ بلکہ مرنے کے بعد معلوم ہوا ۔

جواب: جب ظن غالب یہ ہے کہ زوج کے روپیہ سے خریدا گیا ہے اور زوج نے یہ روپیہ ان کو تملیکا  نہ دیا تھا  تو مرحومہ اس کے خریدنے میں وکیل زوج تھیں اور یہ سامان ملک زوج ہے۔

مسائل بہشتی زیور(2/400)  میں ہے:

فیملی پنشن یا کوئی اور فنڈ جو حکومت یا ادارے کی جانب سے ہمدردی کی بنیادوں پر ملے ہوں وہ ترکہ میں شامل نہیں بلکہ صرف ان افراد کا حق ہے جو میت کے زیر کفالت تھے اور وہ رقم ان افراد میں برابر تقسیم ہوگی۔البتہ اگر تصریح کی گئی ہو کہ یہ فنڈ صرف فلاں شخص کے لیے ہے تو پھر اسی کا حق ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved