• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

قادیانی شخص اپنی فوت شدہ بہن کا چہرہ دیکھ سکتا ہے؟

استفتاء

مؤدبانہ گزراش ہے کہ ایک واقعہ پیش آیا ہے جس کی تشریح ضروری ہے۔ جناب کی خدمت میں گزارش ہے کہ مؤرخہ 27 اکتوبر2022ء بروز جمعہ کو مسمیٰ ریٹائرڈ صوبیدار محمد وزیر نقیبی کی بڑی بھابھی وفات پاگئیں۔ مرحومہ کا بھائی قادیانی تھا اس نے مجھ سے منہ دیکھنے کی اجازت مانگی میں نے اسے اجازت دیدی۔ اب جناب وضاحت کی ضرورت ہے کہ اسلام میں کتنی سختی یا کتنی نرمی ہے؟ کیا ایک قادیانی اپنی بہن کا منہ دیکھ سکتا ہے ؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

دیکھ سکتا ہے۔

توجیہ: کفار کے ساتھ اگرچہ رشتہ دار ہی ہوں قلبی تعلق اور دلی دوستی رکھنے سے شرعاً منع کیا گیا ہے تاہم مذکورہ صورت  ان سے دوستی اور تعلق کے زمرے میں نہیں آتی اسی لیے اس کی اجازت ہے۔

مرقاۃ المفاتیح (1/182) میں ہے:

(وعن عمر) : رضي الله عنه قال: قال رسول الله – صلى الله عليه وسلم -: ( «‌لا ‌تجالسوا ‌أهل ‌القدر» ) : بضم أوله أي: لا تواددوهم، ولا تحابوهم، فإن المجالسة ونحوها من المماشاة من علامات المحبة وأمارات المودة، فالمعنى لا تجالسوهم مجالسة تأنيس وتعظيم لهم لأنهم إما أن يدعوك إلى بدعتهم بما زينه لهم شيطانهم من الحجج الموهمة، والأدلة المزخرفة التي تجلب من لم يتمكن في العلوم والمعارف إليهم ببادي الرأي، وإما أن يعود عليكم من نقصهم وسوء عملهم ما يؤثر في قلوبكم وأعمالكم؛ إذ مجالسة الأغيار تجر إلى غاية البوار ونهاية الخسار. قال تعالى: {ياأيها الذين آمنوا اتقوا الله وكونوا مع الصادقين} [التوبة: 119] ولا ينافي إطلاق الحديث تقييد الآية في المنافقين حيث قال الله تعالى: {فلا تقعدوا معهم حتى يخوضوا في حديث غيره إنكم إذا مثلهم} [النساء: 140] وكذا قوله عز وجل {وإذا رأيت الذين يخوضون في آياتنا فأعرض عنهم حتى يخوضوا في حديث غيره} [الأنعام: 68] فلم ينه عن مجالستهم مطلقا؛ لأن الحديث يحمل على من لم يأمن على نفسه منهم؛ فيمنع عن مجالستهم مطلقا، والآية على من أمن فلا حرج عليه في مجالسته لهم بغير التأنيس، والتعظيم ما لم يكونوا في كفر، وبدعة، وكذا إذا خاضوا وقصد الرد عليهم وتسفيه أدلتهم، ومع هذا؛ البعد عنهم أولى، والاجتناب عن مباحثتهم أحرى

بیان القرآن (1/226) میں ہے:

لا يتخذ المؤمنون الكافرين أولياء من دون المؤمنين ومن يفعل ذلك فليس من الله في شئ إلا أن تتقوا منهم تقاه ويحذركم الله نفسه وإلى الله المصير

ترجمہ: مسلمانوں کو چاہیے کہ کفار  کو (ظاہراً یا باطناً) دوست نہ بناویں مسلمانوں (کی دوستی) سے تجاوز کرکے اور جو شخص ایسا  (کام) کرے گا  سو وہ شخص اللہ کے ساتھ (دوستی رکھنے کے ) کسی شمار میں نہیں مگر ایسی صورت میں کہ تم ان سے کسی قسم کا (قوی) اندیشہ رکھتے ہو اور اللہ تعالیٰ تم کو اپنی ذات سے ڈراتا ہے اور خدا ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

ف: کفار کے ساتھ  تین قسم کے معاملات ہوتے ہیں۔ 1۔موالات یعنی دوستی 2۔مدارات یعنی ظاہری خوش خلقی ۔ 3۔مواسات یعنی احسان و نفع رسانی ۔

ان معاملات میں تفصیل یہ ہے کہ موالات تو کسی حال میں جائز نہیں اور مدارات تین حالتوں میں درست ہے۔ ایک دفع ضرر کے واسطے ۔ دوسرے اس کا فر کی مصلحت دینی یعنی توقع ہدایت کے واسطے۔ تیسرے اکرام ضیف کے لئے اور اپنی مصلحت و منفعت مال یا جاہ کے لئے درست نہیں اور مواسات کا حکم یہ ہے کہ اہل حرب کے ساتھ ناجائز ہے اور غیر اہل حرب کے ساتھ جائز ہے۔

امداد الفتاویٰ (4/270) میں ہے:

ایک مشرک جار اپنے گھر پر بلا کر دعوت کرنا چاہتا ہے، ایسی رعایت حق جوار میں داخل کرسکتے ہیں ۔ لا یتخذ المؤمنون الکافرین أولیاء من دون المؤمنین. [الآية]  وعید میں تو نہ داخل ہوگی؟ جناب نے اپنی تفسیر میں ایسی مدارات کو صرف تین وجہوں سے جائز ٹھہرایا ہے: {۱}توقع ہدایت کے لئے۔ {۲} دفع ضرر کے لئے۔ {۳} اکرام ضیف کیلئے مگر نہ اکرام میزبان کے لئے۔ اور صورت مسئولہ میں تینوں صورتیں نہیں ۔

الجواب: اکرام جس طرح ضیف کا مامور بہ ہے اسی طرح جار کا بھی  تو یہ اس میں باشتراک علّت داخل ہوسکتا ہے۔  

كفايت المفتی (9/112) میں ہے:

سوال:قادیانیوں کے ساتھ کھانا پینا جائز ہے یا نہیں ؟

الجواب:کھانا پینا تو جب کہ کوئی ناجائز اشیاء اور ناجائز طریقے سے نہ ہو غیر مسلم کے ساتھ بھی جائز ہے، ہاں ! میل جو رکھنا اور ایسی معاشرت جس سے عقائد و اعمال مذہبیہ پر اثر پڑے ناجائز ہے۔ جمہور علماء ہندوستان کے فتوے کے بموجب قادیانی کافر ہیں ان کے ساتھ کھانا پینا اگر احیانا اتفاقا ہو تو مضائقہ نہیں لیکن ان کے ساتھ میل جول اور اسلامی تعلقات رکھنا ناجائز ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved