- فتوی نمبر: 37-14
- تاریخ: 03 اکتوبر 2026
- عنوانات: مالی معاملات > متفرقات مالی معاملات
استفتاء
حضرت میرےماموں ایک کمپنی میں کام کرتے ہیں وہ کہتے کہ ہماری کمپنی کی کوئی بھی چیز (گاڑی وغیرہ) خراب ہو جائےتو کمپنی والے پیسے فوراً نہیں دیتے، بعد میں دو ، چار ماہ بعد دیتے ہیں اور اس طرح دس ہزار کا کام بیس ہزار میں ہوتا ہے اور جس سے بھی کام کروانا ہوتا ہے وہ کہتا ہے فورا پیسے دو۔
ماموں کہتے ہیں کہ اگر میں نقد دس ہزار اپنے پاس سے دے دوں تو جب کمپنی دو چار ماہ بعد پیسے دے تو کیا میں ان سے بیس ہزار لے سکتا ہوں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
زیادہ نہیں لے سکتے ، جتنے دیے ہیں اتنے ہی لے سکتے ہیں۔
مشکوٰۃ المصابیح (2/889) میں ہے:
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه»
بدائع الصنائع (6/37) میں ہے:
أن الوكيل بقضاء الدين إذا لم يدفع الموكل إليه مالا ليقضي دينه منه فقضاه من مال نفسه، يرجع بما قضى على الموكل؛ لأن الآمر بقضاء الدين من مال غيره استقراض منه، والمقرض يرجع على المستقرض بما أقرضه.
احسن الفتاویٰ (8/102) میں ہے:
سوال: کمپنی کچھ ملازم اس مقصد کے لیے رکھتی ہے کہ وہ بازار سے سامان خرید کرلایا کریں ملازم سستی اشیاء خرید کر دکاندار سے جعلی بل بنوا کر کمپنی سے زیادہ رقم وصول کرتے ہیں ، کیا یہ جائز ہے؟ نیز تعمیر مکان کا ٹھیکیدار لوہا وغیرہ کم قیمت میں خرید کر مالک مکان کے حساب میں زیادہ رقم ظاہر کرکے وصول کرتا ہے، کیا یہ جائز ہے؟
اگر ملازم یا ٹھیکیدار یہ حیلہ کریں کہ اشیاء اپنے لیے خریدیں اور مہنگی کرکے کمپنی کو فروخت کریں تو اس کی کوئی گنجائش نکل سکتی ہے یا نہیں؟
جواب: ملازم اور ٹھیکیدار وکیل بالاجرۃ ہے ان کا کمپنی یا مالک مکان سے اصل قیمت سے زیادہ وصول کرنا ناجائز اور حرام ہے۔ حیلہ مذکورہ باطلہ ہے اس لیے کہ وکیل امین ہوتا ہے اس کا اپنے لیے خریدنا جائز نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved