- فتوی نمبر: 36-337
- تاریخ: 18 اکتوبر 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > میاں بیوی کا طلاق میں اختلاف
استفتاء
آج سے چار سال پہلے میری خالہ زاد بہن کا ماموں زاد بیٹے سے نکاح ہوا تھا تو ابھی دونوں کے درمیان اکثر لڑائی جھگڑا چلتا رہتا ہے ، لڑکی کا کہنا یہ ہے کہ اس نے مجھے وقفے وقفے سے تین دفعہ طلاق دی ہے ، ایک دفعہ طلاق دی ، پھر دو ماہ بعد ایک دفعہ دی، پھر دو ماہ بعد تیسری دفعہ طلاق دی ، ایک طلاق تو فون کی ریکارڈنگ میں باقاعدہ ریکارڈ ہے ۔شوہر کا کہنا ہے کہ میں نے اسے طلاق ایک ہی دی ہے باقی طلاقیں نہیں دیں تو اب اس حوالے سے شرعی طور پر کیا حکم ہوگا؟
بیوی کا بیان :
لڑائی کے دوران پہلی دفعہ اس نے کہا کہ “میں نے تمہیں طلاق دی ” پھر ایک دن بعد رجوع ہو گیا تھا پھر وہ باہر چلا گیا ایک مہینہ ہوا پھر اس نے اسی طرح کے الفاظ بولے کہ ” میں نے تمہیں طلاق دی ” یا “طلاق دینی ہے” مجھے اس کے الفاظ صحیح طرح سمجھ نہیں آئے تھے پھر اس نے مجھے بلاک کر دیا تھا پھر ایک مہینے بعد جب میں نے کال کی تو اس نے اپنے ہوش و حواس میں کہا کہ “میں نے تمہیں طلاق دی ” اور جو دو دفعہ پہلے دی تھی وہ کہتا ہے میں نے اس میں کہا تھا کہ “میں نے طلاق دینی ہے” یہ نہیں کہا تھا کہ ” طلاق دی” اور میں نے دوسری مرتبہ کے واقعہ میں صرف طلاق کا لفظ سنا ہے باقی” دی ہے” یا” دینی ہے” اس کا پتہ نہیں، بس وہ یہ کہتا تھا کہ میں نے تمہیں چھوڑ دینا ہے میں نے تمہیں نہیں رکھنا تمہارے پیپر پہنچ جائیں گے۔
شوہر کا بیان:
میں نے ایک دفعہ فون پر یہ ضرور بولا ہے کہ ” میں تمہیں چھوڑوں گا” یہ میری بات نہیں مان رہی تھی اس نے مجھے مجبور کیا پھر اس کی ماں نے بولا اگر تمہیں تمہاری ماں نے پیدا کیا ہے تو اس کو طلاق دو، مجبوری کی حالت میں، میں نے ایک دفعہ بولا کہ “میں نے تمہیں طلاق دی” اس کے بعد رجوع بھی کیا اس کے علاوہ ایسا کوئی معاملہ نہیں ہوا۔ باقی دو مرتبہ میں نے یہ کہا تھا کہ “میں نے تمہیں طلاق دینی ہے”
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکور صورت میں شوہر کے حق میں اگرچہ ایک طلاق واقع ہوئی ہے تاہم بیوی کے حق میں دو طلاقیں واقع ہو گئی ہیں لہذا شوہر عدت کے اندر رجوع کرنا چاہے تو کر سکتا ہے، اگر عدت میں رجوع نہ کیا تو رجعی طلاق بائنہ بن جائے گی اور نکاح ٹوٹ جائے گا اور دوبارہ اکٹھے رہنے کے لیے کم از کم دو گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ نکاح کرنا ضروری ہوگا۔
توجیہ: مذکورہ صورت میں شوہر کے حق میں صرف ایک طلاق واقع ہوئی ہے کیونکہ شوہر کے بیان کے مطابق اس نے صرف ایک مرتبہ کہا ہے کہ” میں نے تمہیں طلاق دی ” اور ان الفاظ سے ایک رجعی طلاق واقع ہوئی تھی اور عدت میں شوہر کے رجوع کر لینے کی وجہ سے نکاح باقی رہا اس کے علاوہ شوہر کے بیان کے مطابق شوہر نے جو یہ کہا کہ” میں نے طلاق دینی ہے ” یہ انشاء طلاق نہیں بلکہ طلاق کی دھمکی ہے اس لیے ان الفاظ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی البتہ بیوی کے حق میں دو رجعی طلاقیں واقع ہو گئی ہیں کیونکہ طلاق کے معاملے میں بیوی کی حیثیت قاضی کی طرح ہوتی ہے اور وہ اپنے علم پر عمل کرنے کی پابند ہوتی ہے لہذا بیوی کے بیان کے مطابق جب شوہر نے پہلی مرتبہ یہ کہا کہ “میں نے تمہیں طلاق دی” تو ان الفاظ سے ایک رجعی طلاق واقع ہو گئی اور عدت کے اندر رجوع کر لینے کی وجہ سے نکاح باقی رہا پھر جب دوسری مرتبہ شوہر نے طلاق کے الفاظ بولے تو بیوی کو سمجھ نہیں آیا کہ “طلاق دینی ہے ” کہا یا “طلاق دی ” کہا اور شوہر کہتا ہے کہ “طلاق دینی ہے “کہا ہے اور یہ دھمکی کے الفاظ ہیں اس لیے ان سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی پھر جب تیسرے واقعہ میں شوہر نے کہا کہ “میں نے تمہیں طلاق دی ” تو دوسری رجعی طلاق واقع ہو گئی۔
در مختار (4/443) میں ہے:
(صريحه ما لم يستعمل إلا فيه) ولو بالفارسية (كطلقتك وأنت طالق ومطلقة)….. (يقع بها) أي بهذه الألفاظ وما بمعناها من الصريح، ….. (واحدة رجعية…..
بدائع الصنائع (3/ 283) میں ہے:
أما الطلاق الرجعي فالحكم الأصلي له هو نقصان العدد، فأما زوال الملك، وحل الوطء فليس بحكم أصلي له لازم حتى لا يثبت للحال، وإنما يثبت في الثاني بعد انقضاء العدة، فإن طلقها ولم يراجعها بل تركها حتى انقضت عدتها بانت
شامی(4/531 ) میں ہے:
المرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل لها تمكينه
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved